@sayya.jkt: Meet our new menu, Truffle Cream Mafaldine. A perfect combo of mafaldine pasta, Parmesan cheese, mixed mushrooms, beef pepperoni, and a touch of parsley that makes this dish even more mouthwatering! Call for reservation now +62 822-5868-0268 #sayyajkt #restaurant #jakarta #kulinerjaksel #modernfusion #culinary #pasta

SAYYA Jakarta
SAYYA Jakarta
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 04 February 2026 02:38:50 GMT
3800
115
0
7

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @sayya.jkt, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پختونخوا اور قبائلی اضلاع کا مقدمہ ! باجوڑ کیساتھ جو ناانصافی ترقیاتی بجٹ میں ہوا ہے، وہ سب کے سامنے ہیں، صرف اعداد و شمار یا برائے نام اسکیمیں نہیں بلکہ اس کیلے بجٹ میں ایلوکیشن پیسے رکھنا ضروری ہیں۔ 🟥 عجیب بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اقتدار میں ہوتا ہے تو اس کا رویہ، اس کا انداز اور اس کی باتیں کچھ اور ہوتی ہیں، لیکن جب اقتدار کی کرسی سے ہٹ جاتا ہے تو اس کے خیالات بدل جاتے ہیں۔  🟥 وفاقی سیاست میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ اقتدار اسٹیبلشمنٹ کے سہارے حاصل کیا جاتا ہے، عوام کے ووٹ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔  🟥 صوبے کا 93 فیصد بجٹ وفاق پر منحصر ہے 🟥 قومی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، عوامی فلاح کے لیے بہت کم بچتا ہے 🟥 دفاعی اخراجات اور سرکاری تنخواہوں کے بعد ترقیاتی بجٹ آٹے میں نمک کے برابر رہ جاتا ہے 🟥 صوبائی بجٹ میں کوئی نئی سمت یا وژن نظر نہیں آتا، وہی پرانا بجٹ نئے الفاظ میں دہرایا گیا ہے 🟥 524 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا گیا، جس میں 150 ارب روپے غیر یقینی بیرونی امداد پر مشتمل ہیں 🟥 صوبے میں تقریباً 2800 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں، جن کے لیے درکار وسائل دستیاب بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہیں 🟥 متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے محض چند ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ان کی تکمیل ناممکن بنا دیتے ہیں 🟥 قبائلی اضلاع کا بجٹ کم کر کے 65 ارب سے 55 ارب روپے کر دیا گیا، جو مزید محرومی کا سبب بنے گا 🟥 فاٹا انضمام کے وقت کیے گئے وعدے آج تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے 🟥 قبائلی اضلاع کے نام پر رکھا گیا بجٹ زیادہ تر تنخواہوں اور پنشنز میں خرچ ہو رہا ہے 🟥 آئی ڈی پیز کے نام پر ہر سال اربوں روپے رکھے جاتے ہیں، مگر ان کے استعمال کی کوئی شفاف تفصیل موجود نہیں۔ 🟥 باجوڑ میں 46 تعلیمی اداروں کا آغاز ہوا، مگر کئی سال گزرنے کے باوجود وہ مکمل نہیں کیے جا سکے۔ 🟥 تحصیل اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ دوائیاں، جس کے باعث مریضوں کو پشاور ریفر کیا جا رہا ہے۔ 🟥 بلاک ایلوکیشن کی مد میں رکھے گئے 50 ارب روپے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ 🟥 غیر منتخب افراد کے لیے کروڑوں روپے مختص کیے گئے، جبکہ منتخب نمائندوں کے سوالات حذف کر دیے گئے۔ 🟥 جب تک ادارے اور محکمے اس ایوان کو جواب دہ نہیں سمجھیں گے، نظام میں بہتری ممکن نہیں
پختونخوا اور قبائلی اضلاع کا مقدمہ ! باجوڑ کیساتھ جو ناانصافی ترقیاتی بجٹ میں ہوا ہے، وہ سب کے سامنے ہیں، صرف اعداد و شمار یا برائے نام اسکیمیں نہیں بلکہ اس کیلے بجٹ میں ایلوکیشن پیسے رکھنا ضروری ہیں۔ 🟥 عجیب بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اقتدار میں ہوتا ہے تو اس کا رویہ، اس کا انداز اور اس کی باتیں کچھ اور ہوتی ہیں، لیکن جب اقتدار کی کرسی سے ہٹ جاتا ہے تو اس کے خیالات بدل جاتے ہیں۔ 🟥 وفاقی سیاست میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ اقتدار اسٹیبلشمنٹ کے سہارے حاصل کیا جاتا ہے، عوام کے ووٹ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ 🟥 صوبے کا 93 فیصد بجٹ وفاق پر منحصر ہے 🟥 قومی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، عوامی فلاح کے لیے بہت کم بچتا ہے 🟥 دفاعی اخراجات اور سرکاری تنخواہوں کے بعد ترقیاتی بجٹ آٹے میں نمک کے برابر رہ جاتا ہے 🟥 صوبائی بجٹ میں کوئی نئی سمت یا وژن نظر نہیں آتا، وہی پرانا بجٹ نئے الفاظ میں دہرایا گیا ہے 🟥 524 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا گیا، جس میں 150 ارب روپے غیر یقینی بیرونی امداد پر مشتمل ہیں 🟥 صوبے میں تقریباً 2800 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں، جن کے لیے درکار وسائل دستیاب بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہیں 🟥 متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے محض چند ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ان کی تکمیل ناممکن بنا دیتے ہیں 🟥 قبائلی اضلاع کا بجٹ کم کر کے 65 ارب سے 55 ارب روپے کر دیا گیا، جو مزید محرومی کا سبب بنے گا 🟥 فاٹا انضمام کے وقت کیے گئے وعدے آج تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے 🟥 قبائلی اضلاع کے نام پر رکھا گیا بجٹ زیادہ تر تنخواہوں اور پنشنز میں خرچ ہو رہا ہے 🟥 آئی ڈی پیز کے نام پر ہر سال اربوں روپے رکھے جاتے ہیں، مگر ان کے استعمال کی کوئی شفاف تفصیل موجود نہیں۔ 🟥 باجوڑ میں 46 تعلیمی اداروں کا آغاز ہوا، مگر کئی سال گزرنے کے باوجود وہ مکمل نہیں کیے جا سکے۔ 🟥 تحصیل اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ دوائیاں، جس کے باعث مریضوں کو پشاور ریفر کیا جا رہا ہے۔ 🟥 بلاک ایلوکیشن کی مد میں رکھے گئے 50 ارب روپے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ 🟥 غیر منتخب افراد کے لیے کروڑوں روپے مختص کیے گئے، جبکہ منتخب نمائندوں کے سوالات حذف کر دیے گئے۔ 🟥 جب تک ادارے اور محکمے اس ایوان کو جواب دہ نہیں سمجھیں گے، نظام میں بہتری ممکن نہیں

About