@ese28: خبر متداول عن تغيير اسم الشركة السعودية للكهرباء بعد 26 عامًا #الشركة_السعودية_للكهرباء #خبر_متداول #الطاقة #أخبار_اقتصادية #السعودية

عيسى الشمري
عيسى الشمري
Open In TikTok:
Region: SA
Wednesday 04 February 2026 14:29:21 GMT
107880
1038
36
141

Music

Download

Comments

hh909000
Hassan :
وش الفرق بين الكهرب والطاقه
2026-02-04 19:16:09
4
abdulrahman.dypaw7tlp2il
شوفومهندس رائع :
يساهم في رفع الفاتوره
2026-02-05 20:44:04
2
apoyoub0
الصامت :
ههههه وش دخل المعيشه بتغيير اسم الشركة
2026-06-08 05:13:59
0
aww82_0
A :
الله ياذكريات العمر كله وقته أنا صغير كنت افرح أشوف حقين كهرباء واشوف العداد ووقته يبيون يغيرون الاسمم 😔😔😔😔😔
2026-02-04 14:50:45
3
rzzr.z
A. :
2026-02-27 07:59:00
0
unavailablee091
mr nobody :
مشكلة ولله
2026-03-17 03:39:27
0
hiro_h98
HIRo H9🏴‍☠️ :
اول
2026-02-04 14:39:05
0
23.sxb
SXB :
خامسههه
2026-02-04 14:39:32
0
y3anl
Ka :
رابع
2026-02-04 14:34:24
0
shashrtbicx
قمر :
امين يارب العآلمين
2026-02-04 14:48:20
0
farah_44a1
Farah :
اللهم آمين🇸🇦
2026-02-04 16:29:21
0
wasl_alshelaty
وصل الشلاطي :
عيسى النظاره ابداع 👍
2026-02-05 10:19:22
0
hosaam_.505
حسام الهتار𐩢𐩯𐩣 𐩨𐩡𐩢𐩧𐩥𐩣 :
اول
2026-02-04 14:31:21
0
user7591485293395
ابوسليمان العبود :
والمياه😁😁😁
2026-02-05 03:43:46
0
o.914
عبدالله الشمري..... حائل :
عيسى رجل محترم وطيب
2026-02-05 15:00:28
0
muhammadauoub825
ℳℴ𝒽𝒶𝓂𝓂𝒶𝒹 :
انا اول لايك و اول تعليق و اول حفض
2026-02-04 14:32:18
0
z705706
Z. :
لو يفكونا من الفواتير.
2026-02-05 02:03:36
0
apoyoub0
الصامت :
هههه
2026-06-08 05:13:09
0
.sec9
م • عبدالله :
2026-02-04 20:51:41
3
s0922140
S :
ترا ابوي الي غير اسمها والله
2026-04-30 11:38:58
0
apoyoub0
الصامت :
يعني شلون🤔 يمكن بتستحوذ علي مشروبات الطاقه وتعطيناها مجانا
2026-06-08 05:15:38
0
user27814582257551
عبدالخالق محمد :
❤❤❤
2026-02-06 04:27:40
0
m2_o11
user4567061333110 :
🤲🤲🤲
2026-02-07 11:24:52
0
user6076593033017
ً :
😂😂😂
2026-04-10 13:46:25
0
hosaam_.505
حسام الهتار𐩢𐩯𐩣 𐩨𐩡𐩢𐩧𐩥𐩣 :
❤❤❤
2026-02-04 14:31:11
0
To see more videos from user @ese28, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پانچ سو والا مزدور* گھر کے سامنے ایک نیا مکان بن رہا تھا۔ وہاں کئی مزدور کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بوڑھا مزدور روز دوپہر ایک بجے ہمارے گھر کا دروازہ بجاتا۔
پانچ سو والا مزدور* گھر کے سامنے ایک نیا مکان بن رہا تھا۔ وہاں کئی مزدور کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بوڑھا مزدور روز دوپہر ایک بجے ہمارے گھر کا دروازہ بجاتا۔ "بیٹا، ٹھنڈا پانی ملے گا؟" میرا چھوٹا بھائی علی اسے فریج سے ٹھنڈی بوتل دے دیتا۔ وہ پانی پیتا، دعا دیتا اور جاتے جاتے علی کی جیب میں پانچ سو کا نوٹ ڈال جاتا۔ پہلے دن ہم سمجھے غلطی سے دے گیا۔ دوسرے دن پھر پانچ سو، تیسرے دن پھر پانچ سو۔ میں نے اماں سے کہا، "اماں یہ کیسا مزدور ہے جو دیتا ہے، کماتا نہیں؟" اماں خاموش ہو جاتی، اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں۔ پھر کہنے لگی، "کل سے اس کے لیے سالن زیادہ بنانا۔" جس عورت نے کبھی کسی کو ایک روٹی نہیں دی تھی، وہ اس انجان مزدور کے لیے گوشت بنا رہی تھی۔ ہمیں بہت حیرت ہوئی۔ ایک دن اماں نے بریانی بنائی۔ میں نے دو تھالیوں میں ڈال کر علی کے ہاتھ بھجوائی۔ شام کو خالی برتن واپس آئے تو ایک تھالی کے نیچے ایک مڑی ہوئی پرچی تھی۔ میں نے کھولی تو میرے ہاتھ کانپنے لگے، برتن ہاتھ سے گر گیا۔ اس پر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں لکھا تھا: "میری بیٹی، مجھے معاف کر دینا۔ میں کوئی مزدور نہیں، میں تمہارا باپ ہوں۔ دس سال پہلے جب تم آٹھ سال کی تھی، گھر میں آٹا ختم ہو گیا تھا۔ تم نے کہا تھا ابا بھوک لگی ہے۔ میرے پاس ایک روپیہ نہیں تھا۔ تمہاری ماں ساری رات روتی رہی۔ اسی رات میں شرمندگی سے لاہور بھاگ گیا کہ پیسے کما کر لاؤں گا۔ وہاں میں عمارت سے گر گیا، میری کمر ٹوٹ گئی، دو سال ہسپتال میں رہا۔ جب ٹھیک ہوا تو لنگڑا ہو گیا۔ میں کس منہ سے واپس آتا؟ میں نے سوچا تم لوگ مجھے بوجھ سمجھو گے۔ دو مہینے پہلے مجھے پتا چلا کہ میرے سامنے جو مکان بن رہا ہے، اس کے سامنے تمہاری ماں کرائے پر رہتی ہے۔ میں نے ٹھیکیدار کی بہت منت کی کہ مجھے مزدور رکھ لو، تنخواہ نہ بھی دو۔ وہ پانچ سو روپے جو میں علی کو دیتا ہوں، وہ میں رات کو بس اسٹاپ پر بھیک مانگ کر جمع کرتا ہوں، تاکہ میرے بیٹے کو لگے اس کا باپ اب بھی اس کی فیس دے سکتا ہے۔ تمہاری ماں نے مجھے پہلے دن ہی پہچان لیا تھا، جب وہ چھت سے دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے وہ روز میرے لیے اچھا کھانا بھیجتی ہے۔" پرچی پر آنسوؤں کے نشان تھے۔ میں بھاگتی ہوئی باہر گئی۔ وہ بوڑھا دیوار پر اینٹ لگا رہا تھا، پسینے میں شرابور۔ میں نے پیچھے سے کہا، "ابا..." اس کے ہاتھ سے اینٹ گر گئی۔ وہ مڑا، اس کی آنکھوں میں دس سال کا دکھ تھا۔ علی بھی باہر آ گیا۔ اس نے کچھ نہیں پوچھا، بس اپنے باپ کی پھٹی ہوئی قمیض پکڑ کر اس کے سینے سے لگ کر رونے لگا۔ اتنے میں اماں دروازے پر آ گئی۔ دس سال سے جس عورت نے ایک لفظ شکوہ نہیں کیا تھا، آج وہ اپنے شوہر کو دیکھ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ سارا محلہ جمع ہو گیا۔ اس دن وہ نیا مکان ادھورا رہ گیا، لیکن ہمارا اپنا پرانا ٹوٹا ہوا مکان مکمل ہو گیا۔ وہ مزدور اب مزدوری نہیں کرتا، گھر پر بیٹھ کر علی کو اسکول کا کام کرواتا ہے۔ وہ لنگڑا ہے، لیکن ہمارے لیے آج بھی وہ دنیا کا سب سے مضبوط انسان ہے۔ اس دن ہمیں سمجھ آیا کہ کچھ باپ گھر چھوڑ کر بھاگتے نہیں، وہ اپنی اولاد کے لیے خود کو سزا دیتے ہیں۔ #sabaqamoozkahani #videoviral #reelsviralシ #reelsviralシ #emotionalstory

About