@bryan.transformation: je rajoute une tractions par jour jusqu'à la sortie de GTA 6 JOUR 113 #gta6 #tractions #streetworkout #sport #streetworkoutfrance

Bryan
Bryan
Open In TikTok:
Region: FR
Friday 06 February 2026 11:00:17 GMT
4871
568
33
7

Music

Download

Comments

rayaneniloni123
le roi unique :
moi j'aime bien la pluie
2026-02-06 11:32:13
10
youx_ww
𝛾θ𝜇x² :
Gros ta veste elle tue de ouf
2026-02-06 21:15:58
1
mathias_1102
saihtam :
c trop bien la pluie oech
2026-02-06 13:00:30
2
ozer95ok
𝒪𝓏ℯ𝓇 :
Non quand mm pas wsh la pluie c bien 🤣 mais petite goute d’eau Arh incr 😮‍💨
2026-02-06 14:36:13
1
kax9712
KLN’🥱🥱 :
🔥🔥
2026-02-06 11:54:31
1
ttr92i
TTR :
✊️✊️✊️✊️🤣🤣
2026-02-06 11:30:30
1
bradnize
Brad Nize :
La pluie c’est vraiment le monde qui nous pisse dessus
2026-02-06 11:37:09
3
tvb13k
tvb13k :
Parle bien de la pluie mon gars
2026-02-06 11:05:56
10
jules293319
jules293319 :
Tu vas voir en été sous canicule tu vas kiffer la pluie
2026-02-06 15:54:32
2
anto_jbrt
anto_jbrt 🇫🇷 :
Top 3 ? Dooooose
2026-02-06 11:37:58
4
username7.827
username7.827 :
T’es chaud tu va faire la prochaine vidéo à bercy
2026-02-06 22:22:30
2
asn913
Asn913 :
Orh tu c c qui qui fait la pluie
2026-02-06 22:46:00
1
tomkmapfizn1
Tom des récifs :
le vent c pire que la pluie
2026-02-06 18:43:04
1
tic.fs
ray🍌 :
mdrrr 🤣
2026-02-06 17:55:36
1
223hatake
hatake🇲🇱🇲🇷 :
@Tsuku @SVKHO @Totoche @Shess @Lonni @Moby🥷🏽
2026-02-06 13:10:09
1
mvrs78
?? :
Courir sous la pluie >>
2026-02-06 12:48:30
1
aupin.jeremy
Aupin💉 :
💪🏽🔥🔥
2026-02-08 13:34:12
0
To see more videos from user @bryan.transformation, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بنوں۔ڈی پی او اور ڈی ایس پی مبینہ گفتگو۔   ڈی ایس پی کی مبینہ حبس بے جا سے رہائی، سمگلنگ کے الزامات نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا  بارڈر بند ہونے کے باوجود گاڑیوں کی مبینہ سمگلنگ کیسے جاری ہے؟ متعدد چیک پوسٹوں پر تعینات پولیس و کسٹمز اہلکاروں کی ذمہ داری بھی طے کرنے کا مطالبہ  اسلام اباد (خصوصی رپورٹ) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈی ایس پی کی مبینہ حبس بے جا سے رہائی کے واقعے کے بعد سامنے آنے والے سمگلنگ کے الزامات نے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں ڈی ایس پی کی بازیابی کی خبریں نمایاں طور پر سامنے آنے کے بعد ان پر مبینہ طور پر غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے،  ریٹائرڈ پولیس افسر عزیز اللہ خان نے اپنے وی لاگ میں معاملے سے متعلق بعض وائس میسجز بھی سامنے لائے ہیں، جن میں مبینہ طور پر دونوں پولیس افسران کے درمیان گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ ان وائس میسجز اور سامنے آنے والے الزامات نے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر متعلقہ حکام کو ایک رپورٹ ارسال کی گئی تھی، جس میں جنوبی اضلاع کے راستے گاڑیوں کی مبینہ غیر قانونی نقل و حرکت اور سمگلنگ سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم اس رپورٹ پر کیا کارروائی ہوئی،یا اس پر خاموشی اختیار کی گئی  اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر سرحدی آمدورفت بند یا محدود ہے تو گاڑیوں کی مبینہ سمگلنگ کس طرح جاری ہے؟ ذرائع کے مطابق میران شاہ سے نکلنے کے بعد چشمہ چیک پوسٹ، ایشیا چیک پوسٹ، بستی اڈا پوسٹ، تکہ چیک پوسٹ اور بعد ازاں بکاخیل عطمانزئی تھانہ کی حدود میں چیک پوسٹیں موجود ہیں۔ ان مختلف مقامات پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا عملہ بھی تعینات رہتا ہے۔ ایسے میں اگر واقعی گاڑیوں کی غیر قانونی نقل و حرکت یا سمگلنگ ہو رہی ہے تو صرف ایک ڈی ایس پی کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے تمام متعلقہ چیک پوسٹوں، وہاں تعینات عملے اور کسٹمز سمیت متعلقہ اداروں کے کردار کی بھی جامع تحقیقات ہونی چاہیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنوبی اضلاع میں اتنی چیک پوسٹوں اور نگرانی کے نظام کے باوجود مبینہ سمگلنگ کیسے ممکن ہے؟ اگر الزامات درست ہیں تو اس پورے نیٹ ورک میں کون کون ملوث ہے، کس کی غفلت ہے اور کس نے مبینہ طور پر سہولت کاری کی؟ دوسری جانب اگر ڈی ایس پی پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں تو ان کی بھی واضح تردید اور حقائق سامنے آنا ضروری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے متعلقہ پولیس افسران، چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں، کسٹمز حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔ بنو میں ڈی ایس پی کی مبینہ حبس بے جا سے رہائی کے واقعے نے جہاں پولیس کے اندرونی معاملات پر سوالات اٹھائے ہیں، وہیں سمگلنگ کے مبینہ الزامات نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں نگرانی کے نظام اور متعدد چیک پوسٹوں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرا کر ذمہ داروں کا تعین کرتے ہیں یا یہ معاملہ بھی دیگر واقعات کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔ #KPK #policeofficer #police #policelife #KPKNews      Disclaimer: This post is for informational and news reporting purposes only. We do not promote or endorse any views, actions, or events mentioned. Content complies with community guidelines and is shared in the public interest by a news/media organization
بنوں۔ڈی پی او اور ڈی ایس پی مبینہ گفتگو۔ ڈی ایس پی کی مبینہ حبس بے جا سے رہائی، سمگلنگ کے الزامات نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا بارڈر بند ہونے کے باوجود گاڑیوں کی مبینہ سمگلنگ کیسے جاری ہے؟ متعدد چیک پوسٹوں پر تعینات پولیس و کسٹمز اہلکاروں کی ذمہ داری بھی طے کرنے کا مطالبہ اسلام اباد (خصوصی رپورٹ) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈی ایس پی کی مبینہ حبس بے جا سے رہائی کے واقعے کے بعد سامنے آنے والے سمگلنگ کے الزامات نے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں ڈی ایس پی کی بازیابی کی خبریں نمایاں طور پر سامنے آنے کے بعد ان پر مبینہ طور پر غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے، ریٹائرڈ پولیس افسر عزیز اللہ خان نے اپنے وی لاگ میں معاملے سے متعلق بعض وائس میسجز بھی سامنے لائے ہیں، جن میں مبینہ طور پر دونوں پولیس افسران کے درمیان گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ ان وائس میسجز اور سامنے آنے والے الزامات نے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر متعلقہ حکام کو ایک رپورٹ ارسال کی گئی تھی، جس میں جنوبی اضلاع کے راستے گاڑیوں کی مبینہ غیر قانونی نقل و حرکت اور سمگلنگ سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم اس رپورٹ پر کیا کارروائی ہوئی،یا اس پر خاموشی اختیار کی گئی اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر سرحدی آمدورفت بند یا محدود ہے تو گاڑیوں کی مبینہ سمگلنگ کس طرح جاری ہے؟ ذرائع کے مطابق میران شاہ سے نکلنے کے بعد چشمہ چیک پوسٹ، ایشیا چیک پوسٹ، بستی اڈا پوسٹ، تکہ چیک پوسٹ اور بعد ازاں بکاخیل عطمانزئی تھانہ کی حدود میں چیک پوسٹیں موجود ہیں۔ ان مختلف مقامات پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا عملہ بھی تعینات رہتا ہے۔ ایسے میں اگر واقعی گاڑیوں کی غیر قانونی نقل و حرکت یا سمگلنگ ہو رہی ہے تو صرف ایک ڈی ایس پی کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے تمام متعلقہ چیک پوسٹوں، وہاں تعینات عملے اور کسٹمز سمیت متعلقہ اداروں کے کردار کی بھی جامع تحقیقات ہونی چاہیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنوبی اضلاع میں اتنی چیک پوسٹوں اور نگرانی کے نظام کے باوجود مبینہ سمگلنگ کیسے ممکن ہے؟ اگر الزامات درست ہیں تو اس پورے نیٹ ورک میں کون کون ملوث ہے، کس کی غفلت ہے اور کس نے مبینہ طور پر سہولت کاری کی؟ دوسری جانب اگر ڈی ایس پی پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں تو ان کی بھی واضح تردید اور حقائق سامنے آنا ضروری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے متعلقہ پولیس افسران، چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں، کسٹمز حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔ بنو میں ڈی ایس پی کی مبینہ حبس بے جا سے رہائی کے واقعے نے جہاں پولیس کے اندرونی معاملات پر سوالات اٹھائے ہیں، وہیں سمگلنگ کے مبینہ الزامات نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں نگرانی کے نظام اور متعدد چیک پوسٹوں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرا کر ذمہ داروں کا تعین کرتے ہیں یا یہ معاملہ بھی دیگر واقعات کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔ #KPK #policeofficer #police #policelife #KPKNews Disclaimer: This post is for informational and news reporting purposes only. We do not promote or endorse any views, actions, or events mentioned. Content complies with community guidelines and is shared in the public interest by a news/media organization

About