@mov7722: #police #foryou #cops #bodycam #fypシ

user54081106836296
user54081106836296
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 07 February 2026 08:18:14 GMT
16285
184
3
7

Music

Download

Comments

zar4282
@zarina Khaitova :
the cop speaksRussian English🥰
2026-02-14 06:28:51
0
tom.roj
DJ Tom Roj :
Wer nicht hören will muss Fühlen 👍👍👍
2026-02-08 14:46:13
1
user4329305429332
יצחק טיב :
❤❤❤
2026-02-08 05:39:41
0
To see more videos from user @mov7722, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

معانی اور مطلب👇 شعر: رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے تشریح: اس رباعی میں اقبال امتِ مسلمہ کی زوال پذیری، ملی بے حسی اور دین کی روح سے دوری کا نوحہ پیش کر رہے ہیں۔ 1. پہلا مصرع (رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے): اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی رگوں میں اب وہ جوش، ولولہ اور تڑپ نہیں رہی جو ان کے اسلاف (آباؤ اجداد) میں تھی۔ وہ خون جو حق کے لیے بہنے اور حق کے لیے لڑنے کا حوصلہ رکھتا تھا، اب سرد پڑ چکا ہے۔ یعنی ملت میں غیرتِ ایمانی کی کمی ہو گئی ہے 2. دوسرا مصرع (وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے): جس دل میں عشقِ الٰہی، عشقِ رسولؐ اور امت کی محبت تھی، وہ دل اب مردہ ہو چکے ہیں۔ اب مسلمانوں کے دلوں میں وہ بلند مقاصد اور آرزوئیں باقی نہیں رہیں جو انہیں دنیا میں فاتح بناتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں، اب دنیا پرستی غالب ہے 3. تیسرا اور چوتھا مصرع (نماز و روزہ و قربانی و حج۔۔۔): یہاں اقبال دین کی ظاہری شکل اور اس کی روح کا موازنہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور قربانی جیسے ارکانِ اسلام تو مسلمان اب بھی ادا کر رہے ہیں (ظاہری ڈھانچہ موجود ہے)، لیکن ان عبادات کے پیچھے جو حقیقت، خلوص، تقویٰ اور ایمان کی تڑپ (روح) ہونی چاہیے تھی، وہ ختم ہو چکی ہے۔ خلاصہ: اقبال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک انقلابی طرزِ زندگی ہے۔ مسلمانوں نے دین کی روح (خلوص، عشق، عمل) کو چھوڑ کر صرف رسمی دینداری اختیار کر لی ہے، اسی لیے ان کا عروج ختم ہو چکا ہے . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry #urdulover #urduwriting #amazingpoetry #classicpoetry #poetrylove #urdulove
معانی اور مطلب👇 شعر: رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے تشریح: اس رباعی میں اقبال امتِ مسلمہ کی زوال پذیری، ملی بے حسی اور دین کی روح سے دوری کا نوحہ پیش کر رہے ہیں۔ 1. پہلا مصرع (رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے): اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی رگوں میں اب وہ جوش، ولولہ اور تڑپ نہیں رہی جو ان کے اسلاف (آباؤ اجداد) میں تھی۔ وہ خون جو حق کے لیے بہنے اور حق کے لیے لڑنے کا حوصلہ رکھتا تھا، اب سرد پڑ چکا ہے۔ یعنی ملت میں غیرتِ ایمانی کی کمی ہو گئی ہے 2. دوسرا مصرع (وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے): جس دل میں عشقِ الٰہی، عشقِ رسولؐ اور امت کی محبت تھی، وہ دل اب مردہ ہو چکے ہیں۔ اب مسلمانوں کے دلوں میں وہ بلند مقاصد اور آرزوئیں باقی نہیں رہیں جو انہیں دنیا میں فاتح بناتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں، اب دنیا پرستی غالب ہے 3. تیسرا اور چوتھا مصرع (نماز و روزہ و قربانی و حج۔۔۔): یہاں اقبال دین کی ظاہری شکل اور اس کی روح کا موازنہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور قربانی جیسے ارکانِ اسلام تو مسلمان اب بھی ادا کر رہے ہیں (ظاہری ڈھانچہ موجود ہے)، لیکن ان عبادات کے پیچھے جو حقیقت، خلوص، تقویٰ اور ایمان کی تڑپ (روح) ہونی چاہیے تھی، وہ ختم ہو چکی ہے۔ خلاصہ: اقبال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک انقلابی طرزِ زندگی ہے۔ مسلمانوں نے دین کی روح (خلوص، عشق، عمل) کو چھوڑ کر صرف رسمی دینداری اختیار کر لی ہے، اسی لیے ان کا عروج ختم ہو چکا ہے . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry #urdulover #urduwriting #amazingpoetry #classicpoetry #poetrylove #urdulove

About