@life_realness: منافقت کوئی معمولی کمزوری نہیں بلکہ وہ بیماری ہے جو انسان کے ضمیر کو اندر ہی اندر گلا دیتی ہے ،اور اس بیماری میں کسی درجے یا رعایت کی گنجائش نہیں ہوتی ۔جو شخص زبان پر شہد اور دل میں زہر رکھتا ہے ،وہ پورا منافق ہوتا ہے ،آدھا نہیں ۔ایسے لوگ چہرے بدلنے کو عقلمندی سمجھتے ہیں اور اصولوں کو ضرورت کے مطابق قربان کر دیتے ہیں ۔ان کا ہر جملہ موقع پرستی کی پیداوار اور ہر مسکراہٹ ایک نیا نقاب ہوتی ہے ۔قول اور فعل کے درمیان جو گہرا فرق ہوتا ہے ،وہی ان کی اصل پہچان بنتا ہے ۔یہ لوگ دو کشتیوں پر سوار رہنے کی کوشش کرتے ہیں ،مگر انجام ہمیشہ رسوائی اور ذلت ہوتا ہے ۔سچ ان کے لیے بوجھ ہوتا ہے ،اس لیے وہ اسے جھوٹ کی تہوں میں دفن کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔منافق کا ایمان ،دوستی اور دشمنی سب مفاد کے تابع ہوتے ہیں ،اِسی لیے اس کا کوئی مستقل چہرہ نہیں ہوتا ۔وقت بدلتے ہی اس کا لہجہ بدل جاتا ہے اور حالات پلٹتے ہی اس کے وعدے ٹوٹ جاتے ہیں ۔معاشرے کی سب سے بڑی حرابی یہی ہے کہ ایسے لوگ خود کو عقلمند اور سچ بولنے والوں کو بیوقوف سمجھتے ہیں ،مگر تاریخ گواہ ہے کہ نقاب آخرکار اتر ہی جاتے ہیں ۔سچ وقتی طور پر دب سکتا ہے ،مگر منافقت ہمیشہ کے لیے چھپ نہیں سکتی ۔