@thewilliamsfamily168: Beautiful clothes dor baby luella lea 😍@Cherubschildrenswear thank you so much best dressed baby ever 🩷#babiesoftiktok #10weeksold #bbayhaul #luella

𝐓𝐇𝐄𝐖𝐈𝐋𝐋𝐈𝐀𝐌𝐒 🖤
𝐓𝐇𝐄𝐖𝐈𝐋𝐋𝐈𝐀𝐌𝐒 🖤
Open In TikTok:
Region: GB
Monday 09 February 2026 18:01:08 GMT
70290
2683
56
28

Music

Download

Comments

cherubschildrens
Cherubschildrenswear :
Thank you so much 🥹❤️✨✨ We are such big fans of yous 🥹🥹 can’t wait to see her in them ❤️❤️❤️❤️❤️
2026-02-09 18:14:07
20
_robynjade
RobynC :
The quality of Cherubs clothes are GORGEOUS!! I’ve had a stuff for my daughter and niece. Stunning xxx
2026-02-09 21:24:55
7
x.freya222
𝐅 𝐑 𝐄 𝐘 𝐀 ꨄ :
Hey I love your family and would love to meet u guys and I’m going Newcastle to go to the metro centre on the 14th of Feb and hoping you guys are going to ? Xx
2026-02-09 19:22:50
2
traceymac67
Traceymac67 :
Aww my ❤️most beautiful girl and her clothes are adorable 🥰
2026-02-09 18:50:16
2
rosie.bobbi.hooria
rosie.Bobbi.hooria🫶🏽🤍🍒🐆🎱 :
Awhhh shes so cutee xxx please replyyy xxx
2026-02-09 20:12:39
1
tyra_62
~tyra⛸️⚽🎼📱 :
OMG THE CUTEST THING IVE EVER SEEN SHES SO CUTE
2026-02-13 15:01:28
2
hally7305
hally :
Omg she has grown up so quick
2026-02-09 18:10:11
2
mylie.x6
Mylie⁹⁹ :
Awh ur such a lush ma x
2026-02-09 20:16:32
2
needles60
Needles708 :
She’s so like you mum x
2026-02-09 20:01:08
2
colette.williams12
Colette Williams :
so precious 🩷
2026-02-09 18:42:59
1
user816471917
maria :
not again
2026-02-22 22:25:38
0
toni15421
The Dream Clean✨ :
She’s so cute xx
2026-02-22 00:24:56
0
hallierae4
Ha🥂ie :
Aww little luella is so cute 🩷🥹
2026-02-09 21:47:34
1
nbeckett5
n beckett :
Awhh she’s gorgeous ❤️🥰xx
2026-02-10 12:31:50
0
hellsbells801
HellsBells :
Aww she’s soooo adorable ❤️🥰❤️
2026-02-21 07:40:09
0
joanne53465
Joanne :
Earlyyy xx
2026-02-09 18:03:09
1
kellygraymckeith
AngelDiva :
aww so cute 🥰
2026-02-09 19:00:58
1
xemeldax4
xemeldax :
beautiful baby lovely clothes
2026-02-09 18:48:08
1
kc_mgmt
KC_mgmt :
❤️❤️❤️
2026-02-28 06:52:22
0
emilythornborough12
Emily & Amelia 🖤 :
❤️❤️❤️
2026-02-19 22:08:55
0
gemma0895
🩷Good vibes Gem 🩵 :
♥️♥️♥️
2026-02-09 18:33:51
0
dianeb78
dianebadeau :
aww woww your beautyful little baby girls love the clothe you by her so so class. 👌👌👌👌🥰🥰
2026-02-10 02:39:59
0
dom199042
dom :
Jolie ❤
2026-02-09 18:59:40
1
kayley.robinson6
Kayley Robinson :
She’s getting so big 🥲
2026-02-09 19:15:52
1
ameliaxlilyxxbooth
amelia-lily🫧 :
She’s so cute ❤
2026-02-09 19:23:48
1
kendracourtneycox24
𝒦ℯ𝓃𝒹𝓇𝒶 :
Awwwh
2026-02-09 19:27:08
1
louisafindlay6
Emma :
❤️❤️❤️🥺🥺🥺🥺
2026-02-09 20:35:07
1
bernadino2015
Bernadino2015 :
Oh she’s fab !
2026-02-09 22:19:18
1
biophilia000
Joni :
Absolutely darling 💓
2026-02-10 00:50:58
1
sineadmaciomhair
Sinead Maciomhair :
Awww she's so gorgeous! 🥰🥰🥰
2026-02-10 01:42:34
1
marie.fergie0
marie x 💕💕 :
beautiful little princess 👸 💕 💖
2026-02-09 18:57:49
1
iggy12318
~Aoibhínn 💛 :
Earlyyy x
2026-02-09 18:03:54
1
sarah.shone8
Sarah :
Most gorgeous little girl 🥹xx
2026-02-09 18:04:10
1
mylahstone4
𝐌𝐘𝐋𝐀𝐇ꨄ :
Aww she’s gorgeous x
2026-02-09 18:04:11
1
lisab5505
Lisa :
❤️❤️❤️
2026-02-09 18:04:52
1
jazmyn020
jazmyn020 :
Awhhh
2026-02-09 18:11:06
1
caxcaz66
💜Caz :
Stunning ❤️
2026-02-09 18:35:34
1
ava31514
🎠🤍Ava 🤍🎠 :
First
2026-02-09 18:02:26
0
nissan1919
nissan 1989 :
🥰🥰🥰
2026-02-11 06:08:25
0
jo.wales1
Jo Jo 😘 :
🥰🥰🥰
2026-02-23 23:10:58
0
kimmy_8525
kimmy_8525🏴󠁧󠁢󠁳󠁣󠁴󠁿 :
❤❤❤
2026-02-10 03:50:45
0
jason.rangers
JASON Rangers :
😇😇😇
2026-02-09 18:03:42
0
carolcampbell147
carol :
beautiful ❤️
2026-02-10 00:42:48
0
ibantxu
Ibantxu :
no le gusta la ropa😁😅
2026-02-09 23:13:50
0
heyyitslola1
LB🍒 :
Really early x
2026-02-09 18:08:32
0
scouser247
💕scouse Tezz💕 :
🥰🥰🥰
2026-02-09 20:06:00
0
xrhsoulakourbetiv
xrhsoulakourbetiv :
Ομορφη!!!
2026-02-09 18:28:16
0
ama87889
مؤمنه بالله :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-02-09 19:46:38
0
To see more videos from user @thewilliamsfamily168, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

1991 میں متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں چار سالہ عمر ویبیر کو اسکول سے گھر لایا جا رہا تھا کہ ان کی گاڑی ایک اسکول بس سے ٹکرا گئی۔ عمر کی والدہ منیرہ عبداللہ نے حادثہ آتا دیکھ کر فوراً بیٹے کو سینے سے لپٹا لیا۔ عمر صرف معمولی چوٹ کے ساتھ محفوظ رہا، مگر اسے بچانے والی ماں کے دماغ پر ایسی شدید چوٹ آئی کہ وہ انتہائی محدود شعوری حالت میں چلی گئیں۔ منیرہ بول سکتی تھیں، نہ اپنی ضرورت بتا سکتی تھیں۔ انہیں خوراک ٹیوب کے ذریعے دی جاتی اور پٹھوں کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے فزیوتھراپی کروائی جاتی۔ ڈاکٹر عمر کو بار بار بتاتے رہے کہ شاید ان کی والدہ کبھی دوبارہ بات نہ کرسکیں، لیکن جس ماں نے حادثے کے وقت اپنے جسم کو بیٹے کی ڈھال بنایا تھا، عمر نے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ وہ چار سالہ بچے سے ایک بالغ شخص بن گیا، مگر ماں سے ملنا اس کے روزمرہ معمول کا حصہ رہا۔ وہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر ہسپتال پہنچتا، گھنٹوں ان کے پاس بیٹھتا اور ان کے خاموش چہرے کے معمولی تاثرات سے سمجھنے کی کوشش کرتا کہ انہیں کہاں درد یا تکلیف ہے۔ اس مسلسل ذمہ داری کے باعث عمر کے لیے باقاعدہ ملازمت کرنا بھی مشکل ہوگیا، مگر اسے کبھی اپنی خدمت پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ منیرہ کو علاج اور انشورنس کی پابندیوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ بالآخر 2017 میں ابوظبی کے ولی عہد کی عدالت نے ان کا معاملہ سن کر جرمنی کے خصوصی بحالی مرکز میں جامع علاج کے اخراجات فراہم کیے۔ وہاں ان کے کمزور پٹھوں کی سرجری ہوئی، مرگی کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی اور مسلسل جسمانی و ذہنی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ جون 2018 میں جرمنی میں علاج کے آخری دنوں کے دوران عمر کی ہسپتال کے کمرے میں کسی سے تکرار ہوگئی۔ منیرہ نے بظاہر محسوس کیا کہ ان کا بیٹا خطرے میں ہے اور اچانک غیرمعمولی آوازیں نکالنے لگیں۔ تین دن بعد عمر سو رہا تھا کہ کسی نے اسے نام لے کر پکارا۔ آنکھ کھلی تو سامنے وہی ماں تھی جس کی آواز سننے کے لیے وہ 27 سال سے منتظر تھا۔ منیرہ کی زبان سے نکلنے والا پہلا واضح لفظ “عمر” تھا۔ بعد میں منیرہ نے اپنے بہن بھائیوں کے نام بھی لیے، اپنی تکلیف بتانے لگیں اور قرآن کی آیات پڑھنے میں عمر کا ساتھ دینے لگیں۔ عمر کا کہنا تھا کہ دنیا نے انہیں ایک ناامید مریض سمجھ لیا تھا، مگر اس نے کبھی اپنی ماں کو زندگی سے خارج نہیں کیا۔ 27 سال پہلے ماں نے ایک لمحے میں بیٹے کو بچایا تھا؛ پھر اسی بیٹے نے اپنی پوری جوانی ماں کی واپسی کی امید میں گزار دی—اور جب اس خاموشی نے آخرکار لفظ کا روپ لیا تو وہ لفظ بھی اسی وفادار بیٹے کا نام تھا۔
1991 میں متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں چار سالہ عمر ویبیر کو اسکول سے گھر لایا جا رہا تھا کہ ان کی گاڑی ایک اسکول بس سے ٹکرا گئی۔ عمر کی والدہ منیرہ عبداللہ نے حادثہ آتا دیکھ کر فوراً بیٹے کو سینے سے لپٹا لیا۔ عمر صرف معمولی چوٹ کے ساتھ محفوظ رہا، مگر اسے بچانے والی ماں کے دماغ پر ایسی شدید چوٹ آئی کہ وہ انتہائی محدود شعوری حالت میں چلی گئیں۔ منیرہ بول سکتی تھیں، نہ اپنی ضرورت بتا سکتی تھیں۔ انہیں خوراک ٹیوب کے ذریعے دی جاتی اور پٹھوں کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے فزیوتھراپی کروائی جاتی۔ ڈاکٹر عمر کو بار بار بتاتے رہے کہ شاید ان کی والدہ کبھی دوبارہ بات نہ کرسکیں، لیکن جس ماں نے حادثے کے وقت اپنے جسم کو بیٹے کی ڈھال بنایا تھا، عمر نے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ وہ چار سالہ بچے سے ایک بالغ شخص بن گیا، مگر ماں سے ملنا اس کے روزمرہ معمول کا حصہ رہا۔ وہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر ہسپتال پہنچتا، گھنٹوں ان کے پاس بیٹھتا اور ان کے خاموش چہرے کے معمولی تاثرات سے سمجھنے کی کوشش کرتا کہ انہیں کہاں درد یا تکلیف ہے۔ اس مسلسل ذمہ داری کے باعث عمر کے لیے باقاعدہ ملازمت کرنا بھی مشکل ہوگیا، مگر اسے کبھی اپنی خدمت پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ منیرہ کو علاج اور انشورنس کی پابندیوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ بالآخر 2017 میں ابوظبی کے ولی عہد کی عدالت نے ان کا معاملہ سن کر جرمنی کے خصوصی بحالی مرکز میں جامع علاج کے اخراجات فراہم کیے۔ وہاں ان کے کمزور پٹھوں کی سرجری ہوئی، مرگی کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی اور مسلسل جسمانی و ذہنی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ جون 2018 میں جرمنی میں علاج کے آخری دنوں کے دوران عمر کی ہسپتال کے کمرے میں کسی سے تکرار ہوگئی۔ منیرہ نے بظاہر محسوس کیا کہ ان کا بیٹا خطرے میں ہے اور اچانک غیرمعمولی آوازیں نکالنے لگیں۔ تین دن بعد عمر سو رہا تھا کہ کسی نے اسے نام لے کر پکارا۔ آنکھ کھلی تو سامنے وہی ماں تھی جس کی آواز سننے کے لیے وہ 27 سال سے منتظر تھا۔ منیرہ کی زبان سے نکلنے والا پہلا واضح لفظ “عمر” تھا۔ بعد میں منیرہ نے اپنے بہن بھائیوں کے نام بھی لیے، اپنی تکلیف بتانے لگیں اور قرآن کی آیات پڑھنے میں عمر کا ساتھ دینے لگیں۔ عمر کا کہنا تھا کہ دنیا نے انہیں ایک ناامید مریض سمجھ لیا تھا، مگر اس نے کبھی اپنی ماں کو زندگی سے خارج نہیں کیا۔ 27 سال پہلے ماں نے ایک لمحے میں بیٹے کو بچایا تھا؛ پھر اسی بیٹے نے اپنی پوری جوانی ماں کی واپسی کی امید میں گزار دی—اور جب اس خاموشی نے آخرکار لفظ کا روپ لیا تو وہ لفظ بھی اسی وفادار بیٹے کا نام تھا۔

About