@sahil07401: شادی کا سوچ کر بیٹیوں کی جان نکل جاتی ہے کیسے چھوڑ کے جاؤں گی اپنے بابا کے گھر کو وہ گھر جہاں پہلی بار چلنا سیکھا تھا جہاں ہر ضد پوری ہوتی تھی جہاں بابا کی آواز میں حفاظت تھی اور ماں کی دعا میں سکون تھا وہ صحن جہاں ہنسی گونجتی تھی وہ دیواریں جو میرے راز جانتی تھیں وہ کمرہ جو میرے خوابوں کا ساتھی تھا شادی خوشی بھی ہے، مگر جدائی بھی نیا گھر ملتا ہے، پرانا چھوٹ جاتا ہے نئے رشتے بنتے ہیں، پرانے دل سے جڑے رہتے ہیں بیٹی رخصت تو ہو جاتی ہے مگر اس کا دل ہمیشہ بابا کے گھر میں رہ جاتا ہے ہر خوشی میں ماں کو یاد کرتی ہے ہر مشکل میں بابا کی آواز ڈھونڈتی ہے بیٹیاں کمزور نہیں ہوتیں بس محبت میں بہت مضبوط ہوتی ہیں اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی اور کے گھر کو اپنا بنا لیتی ہیں اللہ ہر بیٹی کی رخصتی آسان کرے اور ہر بابا کے دل کو صبر عطا فرمائے