@achados_em1click50: ✨ SOBRANCELHA PERFEITA EM MINUTOS! ✨ Cansada de falhas na sobrancelha? 😩 Esse lápis líquido com ponta de 4 fios imita os pelinhos naturais e deixa um efeito MICROBLADING incrível! 🤎 ✔️ À prova d’água ✔️ Longa duração ✔️ Super fácil de aplicar ✔️ Resultado natural e definido Perfeito pra quem quer praticidade e acabamento profissional em casa! 💄🔥 💥 Já são mais de 200 mil vendidos! Corre garantir o seu antes que aumente o preço! 🛒 Clica em “Comprar agora” e testa você também! #sobrancelhaperfeita #dicasdebeleza #achadinhosshopee #makebarata #fyp

AchadosEm1click
AchadosEm1click
Open In TikTok:
Region: BR
Friday 13 February 2026 12:52:29 GMT
1162
8
0
63

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @achados_em1click50, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ دعا (بددعا) تاریخ اور حدیث کی مستند کتابوں میں صحیح اور معتبر سند کے ساتھ موجود ہے۔ یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے، جن میں سب سے مشہور الفاظ یہ ہیں:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ دعا (بددعا) تاریخ اور حدیث کی مستند کتابوں میں صحیح اور معتبر سند کے ساتھ موجود ہے۔ یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے، جن میں سب سے مشہور الفاظ یہ ہیں: "اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ مَلِلْتُهُمْ وَمَلُونِي، وَأَبْغَضْتُهُمْ وَأَبْغَضُونِي... فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ، وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي" (اے اللہ! میں ان (اہلِ کوفہ) سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں، میں ان سے بغض رکھتا ہوں اور یہ مجھ سے بغض رکھتے ہیں... پس مجھے ان سے بہتر لوگ عطا فرما، اور ان پر مجھ سے برا حکمران مسلط کر۔) 1۔ یہ کس کتاب میں ہے؟ (حوالہ جات) یہ واقعہ اور دعا اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کی معتبر ترین کتابوں میں درج ہے: صحیح البخاری (التاريخ الصغير / التاريخ الأوسط): امام بخاری نے اسے تاریخ میں نقل کیا ہے۔ مصنف ابن أبي شيبة: یہ حدیث کی بہت معروف اور قدیم کتاب ہے، اس میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ تاريخ الطبري اور تاريخ الإسلام (امام ذہبی): تاریخ کی ان مستند ترین کتابوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کوفہ کے لوگوں کے نام خطبات اور ان کی شہادت سے قبل کی یہ دعا تفصیل سے درج ہے۔ نہج البلاغہ (شيعہ مصادر): شیعہ مکتبہ فکر کی مشہور کتاب 'نہج البلاغہ' (خطبہ نمبر 25 اور دیگر مقامات) پر بھی یہ الفاظ موجود ہیں کہ آپ نے اہل کوفہ کے رویے سے تنگ آ کر یہ بددعا فرمائی تھی۔ 2۔ سند کی حیثیت (Authenticity) علماءِ حدیث کے نزدیک اس واقعے کی سند صحیح ہے۔ اس روایت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمد بن الحنفیہ اور ان کے قریبی اصحاب (جیسے ابو صالح الحنفی اور ابن ابی رافع) نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ محدثین کے مطابق اس روایت کے راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں اور تاریخ کا یہ ایک مسلمہ اور ناقابلِ تردید واقعہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے لوگوں کی نافرمانی، سستی اور بدعہدی سے شدید رنجیدہ تھے، جس کے بعد انہوں نے یہ طویل دعا فرمائی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کرتے ہوئے ان کو شہادت عطا فرمائی اور کوفہ والوں پر حجاج بن یوسف جیسا ظالم حکمران مسلط کر دیا۔

About