@thewrap: Timing is everything. “Cross” creator Ben Watkins says Season 2’s Epstein-esque mystery was written in late 2022, long before headlines made it feel eerily current. As the hit #Cross returns to @primevideo, the new chapter dives into child labor, trafficking and systemic abuse, proving fiction sometimes moves in lockstep with reality.

TheWrap
TheWrap
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 14 February 2026 01:17:36 GMT
429
6
1
2

Music

Download

Comments

tees.time
tees.time :
Goodness, mission accomplished. You sir, was good at being bad! You brought out all of the emotions.
2026-03-20 02:12:06
0
To see more videos from user @thewrap, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#creatorsearchinsights  تشریح جتنا سوچو گے، اتنی اذیت میں رہو گے۔ یا تو اپنے آپ کو مضبوط کر لو یا مصروف کر لو۔ یہ قول انسانی ذہن، ضرورت سے زیادہ سوچنے اور زندگی کی پریشانیوں کو بیان کرتا ہے۔ بعض اوقات انسان کسی ایک بات، کسی رشتے، کسی تکلیف یا ماضی کے کسی واقعے کو بار بار سوچتا رہتا ہے۔ وہی سوال ذہن میں گھومتے رہتے ہیں، جن کے جواب شاید کبھی نہ ملیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی خوشی، سکون اور حال کو بھی کھونے لگتا ہے۔  جتنا سوچو گے، اتنی اذیت میں رہو گے: ہر بات کو بار بار سوچنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم اُن چیزوں کے بارے میں بھی پریشان رہتے ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ ماضی کو بدلنا ممکن نہیں اور مستقبل کی ہر بات جاننا بھی ہمارے بس میں نہیں۔ اس لیے ہر خیال کو اپنے ذہن پر حاوی ہونے دینا خود کو تکلیف دینے کے برابر ہے۔  اپنے آپ کو مضبوط کر لو: مضبوط ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی روئے نہیں، کبھی دکھی نہ ہو یا اپنے جذبات چھپا کر رکھے۔ بلکہ مضبوطی یہ ہے کہ تکلیف کے باوجود خود کو سنبھالنا سیکھو، اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرو اور مشکل حالات میں امید کا دامن نہ چھوڑو۔  یا خود کو مصروف کر لو: اپنے وقت کو مثبت کاموں میں لگاؤ، اپنے مقاصد پر توجہ دو، نئی چیزیں سیکھو، ورزش کرو اور اپنے پسندیدہ مشاغل کے لیے وقت نکالو۔ جب انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف ہوتا ہے تو غیر ضروری خیالات کو کم جگہ ملتی ہے
#creatorsearchinsights تشریح جتنا سوچو گے، اتنی اذیت میں رہو گے۔ یا تو اپنے آپ کو مضبوط کر لو یا مصروف کر لو۔ یہ قول انسانی ذہن، ضرورت سے زیادہ سوچنے اور زندگی کی پریشانیوں کو بیان کرتا ہے۔ بعض اوقات انسان کسی ایک بات، کسی رشتے، کسی تکلیف یا ماضی کے کسی واقعے کو بار بار سوچتا رہتا ہے۔ وہی سوال ذہن میں گھومتے رہتے ہیں، جن کے جواب شاید کبھی نہ ملیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی خوشی، سکون اور حال کو بھی کھونے لگتا ہے۔  جتنا سوچو گے، اتنی اذیت میں رہو گے: ہر بات کو بار بار سوچنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم اُن چیزوں کے بارے میں بھی پریشان رہتے ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ ماضی کو بدلنا ممکن نہیں اور مستقبل کی ہر بات جاننا بھی ہمارے بس میں نہیں۔ اس لیے ہر خیال کو اپنے ذہن پر حاوی ہونے دینا خود کو تکلیف دینے کے برابر ہے۔  اپنے آپ کو مضبوط کر لو: مضبوط ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی روئے نہیں، کبھی دکھی نہ ہو یا اپنے جذبات چھپا کر رکھے۔ بلکہ مضبوطی یہ ہے کہ تکلیف کے باوجود خود کو سنبھالنا سیکھو، اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرو اور مشکل حالات میں امید کا دامن نہ چھوڑو۔  یا خود کو مصروف کر لو: اپنے وقت کو مثبت کاموں میں لگاؤ، اپنے مقاصد پر توجہ دو، نئی چیزیں سیکھو، ورزش کرو اور اپنے پسندیدہ مشاغل کے لیے وقت نکالو۔ جب انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف ہوتا ہے تو غیر ضروری خیالات کو کم جگہ ملتی ہے

About