@dailysignalus: #70s #80 #90 #nostalgic #nostalgiacore

FrutaManía
FrutaManía
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 15 February 2026 01:39:40 GMT
1224946
63218
2155
16994

Music

Download

Comments

user4321282360573
ARTURO :
cómo se pudiera regresar a ésos tiempos
2026-03-04 01:30:57
174
estrella.ortega18
Rocio O. :
cuando veo estos vídeos quisiera volver a vivir aquellos tiempos .si entro en nostalgia
2026-03-07 01:52:24
210
user7946910493219
José Brayan Rosario :
😭😭 Dios mío que buenos momentos aquellos, q nostalgia me da..
2026-04-16 22:07:44
7
rosadanielacastil
rosadanielacastil :
♥️♥️♥️ojalá se pudiera volver a esos tiempos 🥺
2026-03-14 05:36:10
29
rossana.villafae
Rossana María :
Siii. Que Nostalgia. hoy tengo 62 años y dolor de ESPALDA 😁🌺🩷
2026-03-17 04:08:29
10
nellymardelcarmen
mery Josefina reyes :
todo era buenísimo q tiempos tan bonitos
2026-03-07 23:43:48
22
alex.vargas33
🫠 :
Daria mi vida entera por volver a esos tiempos
2026-03-06 19:18:26
25
usertruck2000
usertruck2000 :
tremendo recuerdo como quisiera que volviera otra vez, mejores que los de horita
2026-03-07 01:32:23
16
sandy71611
sandy :
Hermosos tiempos,que vida tan bella vivimos.
2026-03-11 00:54:52
8
narcisa.trivio.pi
Narcisa Triviño Pico :
lindos tiempos los mejores 🥰🥰
2026-03-18 01:42:11
8
martaceciliaaguil5
Martita Aguilar :
Soy 🥰🥰🥰 una leyenda viva😁😁😁😁
2026-03-16 02:17:42
5
isa836602
Isa :
perinola q tiempos de oro
2026-03-18 01:54:22
5
marciameza00
marciameza :
tiempos que no volverán solo queda en los recuerdos 😁
2026-03-11 01:38:04
15
salsapararecorda
Katty💜⭐cabg💜🙏 :
Me hizo llorar este hermoso video 🥺🥺
2026-03-16 21:42:45
5
lacatiraarlen
Arlenesgomez :
yo quisiera que volviera esa ese tiempo
2026-03-15 01:25:14
6
maira5390
Maira :
Si esos eran nuevos tiempos que no volveran
2026-03-15 14:22:04
8
saniaangulo0
saniaangulo0 :
🥰🥰🙏❤️🙏 éramos amigos hermosos padres ❤️hijos
2026-03-18 01:33:42
7
gloria.hernandez604
Gloria Hernandez :
si aquellos tiempos tan bonitos🥰
2026-03-15 11:00:56
5
nelly.marin468
Nelly Marin :
Lo que no sabíamos era que no sabíamos que no era eterno. y todo lo que empieza termina.
2026-03-12 23:51:00
9
margaritaazuaje59
Margarita :
maravilloso tiempo que ya no volverá
2026-03-15 00:24:54
12
chepeleon.rodrigu
Chepeleon Rodriguez :
Soy dela vieja escuela nacido el 11 / de sep de 1974
2026-03-05 14:57:56
27
maribel.garca45
Maribel García :
Son épocas que jamás volveran...🥺🥺 quisiera retrocer ese tiempo...🥺🥺
2026-02-17 03:48:43
29
carmenhincapie1
. :
yo quisiera que el tiempo retrosediera.volver ser chica...era muyyyy felizzz😭😭😭😭😭😭
2026-03-08 18:57:08
9
nscfan1
nscfan1 :
los 90s eran de los más chidos
2026-02-15 03:52:26
20
valeria.carrillo12
valeria bernal calli rrillo :
yo me firme el uniforme en la secundaria cuando iba a salir de tercero
2026-03-04 04:24:36
9
To see more videos from user @dailysignalus, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی جبینوں  پہ  نورِ مسرت  نہ ہوتا نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ملتا عطاء زاہدوں کو  عبادت نہ ہوتی مسافر  سدا   منزلوں  پر   بھٹکتے سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا نسیمِ بہاراں  میں  نکہت  نہ ہوتی خدائی کا  انصاف  خاموش  رہتا سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی ساغر صدیقی ---- یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ عپا سی f#ay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #BWP #fyp 
اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی جبینوں  پہ  نورِ مسرت  نہ ہوتا نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ملتا عطاء زاہدوں کو  عبادت نہ ہوتی مسافر  سدا   منزلوں  پر   بھٹکتے سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا نسیمِ بہاراں  میں  نکہت  نہ ہوتی خدائی کا  انصاف  خاموش  رہتا سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی ساغر صدیقی ---- یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ عپا سی f#ay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #BWP #fyp 

About