@اسلام کی شہزادی🌹::اپنے عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
یہ جملہ غرور نہیں، خود شناسی کا اعلان ہے۔ تعلقات انسان کی زندگی کو سہارا دیتے ہیں، مگر جب یہی تعلقات عزت نفس کو مجروح کرنے لگیں تو ان کا بوجھ سہارا نہیں، زنجیر بن جاتا ہے۔ عزتِ نفس وہ بنیاد ہے جس پر شخصیت کھڑی ہوتی ہے؛ اگر یہ کمزور پڑ جائے تو مضبوط سے مضبوط رشتہ بھی انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔
کچھ لوگ تعلق نبھانے کے نام پر حدیں پار کر دیتے ہیں۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ آپ خاموش رہیں، برداشت کریں، اور اپنی قدر قربان کر دیں۔ مگر خاموشی ہر بار صبر نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ خود سے بے وفائی بن جاتی ہے۔ عزت نفس کا تقاضا ہے کہ انسان جہاں اس کی توہین ہو، وہاں رکنے سے انکار کر دے چاہے وہ جگہ کتنی ہی قریبی کیوں نہ ہو۔
یہ فیصلہ تنہائی کا نہیں وقار کا انتخاب ہوتا ہے۔ وقتی جدائی تکلیف دیتی ہے، مگر مستقل بے عزتی روح کو زخمی کر دیتی ہے۔ جو شخص اپنی عزت کی حفاظت کر لیتا ہے، وہ بعد میں پچھتاتا نہیں۔ کیونکہ تعلقات وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، مگر خودداری کے بغیر جیا گیا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
عزت نفس کے ساتھ جینا مشکل ضرور ہے، مگر اسی میں سکون توازن اور اصل آزادی چھپی ہوتی ہے۔ جو یہ سمجھ لے، وہ کبھی خود کو سستا نہیں ہونے دیتا۔
2026-02-20 07:20:50
3
Tariq Bashir :
zor ❤️zor
2026-02-15 19:26:08
3
To see more videos from user @sehzadi.7864, please go to the Tikwm
homepage.