@meganchrista: I love u pinterest thx for keeping me sane #pinterestaesthetic #pinterest #funny #relatable

MEG🗽
MEG🗽
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 15 February 2026 18:23:51 GMT
154923
5043
15
1280

Music

Download

Comments

jonssof65
I'maddicted18 :
I’m taking care of business too🥀
2026-02-27 11:13:30
17
mileymsmith
miley :
This is real.
2026-02-15 21:50:14
3
elliealana7
Elliealana 🩵 :
For reallll
2026-03-03 12:22:22
1
alexa_prvvvvvvvvv
🫐 :
Where can I claim Telegram Premium without paying?
2026-06-10 21:48:26
0
ronnio13
ronni🤫 :
@Leo Uresti
2026-03-16 19:13:01
0
na111435
n :
@qy i ta bisa men phne da my dad tdi nmpk i men dye amek trus
2026-10-06 09:59:25
0
phcsunderland
PHCSunderland :
😂😂😂
2026-02-22 17:14:13
0
college..67
college..67 :
@A<3
2026-06-16 22:33:28
0
piksyuny
piksyuny :
🥰
2026-05-28 11:56:02
0
iamjaeduh
Iamjaeduh :
@Unicorns
2026-08-13 00:14:12
0
madisonkoldeway
Maddy :
@Marlee
2026-09-24 06:34:39
0
kiycupid
top ski not ski :
@top bipper
2026-03-05 02:57:07
2
To see more videos from user @meganchrista, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا
#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا

About