Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@..king2018: From drafts
..king
Open In TikTok:
Region: UG
Wednesday 18 February 2026 12:47:23 GMT
158
19
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.47MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.47MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @..king2018, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Đa Phú 12/10 📍 #xh #xuhuong #xuhuongtiktok #vairal #doidaphu🌲
Kaash Tumhey Muhabbat Ho 💔😫 #sadeyes #zakhmidil_650 #sadvibes🥀 #fyp #astheticvideos @
Rich millianieeer🇯🇲🤣🤣🤣#Meme #funnymemes #memestiktok #viral_video #fyp #relatable #funnymoments #funnytiktok
Bby Schrei
قرآنِ مجید کے ان ہولناک الفاظ میں سے ایک لفظ "حُطَمَة"، جس کا ذکر اللَّه تعالٰی نے سورۃ الہمزہ میں کیا ہے۔ جیسے "وَیْل" جہنم کی ایک وادی ہے، اسی طرح "حُطَمَة" بھی جہنم کا ایک خاص، خوفناک اور انتہائی خطرناک درجہ یا آگ کی قسم ہے۔ اللَّه تعالٰی نے قرآن میں اس آگ کو ایک ایسی مخصوص صفت کے ساتھ بیان کیا ہے جو انسانی سوچ کو لرزا دیتی ہے۔ آئیے قرآن مجید کی روشنی میں سمجھتے ہیں کہ "حُطَمَة" کیا ہے، اس میں کون سے لوگ ڈالے جائیں گے اور اس آگ کی سائنسی/قرآنی نوعیت کیا ہے 1- "حُطَمَة" کیا ہے؟ (لغوی اور قرآنی مطلب) الف) لغوی مطلب: عربی زبان میں لفظ "حُطَمَة" روٹ ورڈ "حَطَمَ" سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب ہے: "کسی چیز کو توڑ پھوڑ کر چورا چورا کر دینا یا ہڈیوں اور پسلیوں کو پیس ڈالنا۔" ب) قرآنی مطلب (جہنم کی آگ): اللَّه تعالٰی نے سورۃ الہمزہ (آیات چار-سات) میں خود اس کی تعریف بتائی ہے ترجمہ: (ہرگز نہیں! وہ ضرور بالضرور 'حطمہ' (توڑ پھوڑ دینے والی آگ) میں پھینک دیا جائے گا) ترجمہ: (اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے؟) ترجمہ: (یہ اللَّه کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے) یعنی حطمہ جہنم کی وہ خاص اور شدید ترین آگ ہے جو انسان کے جسم کو جلانے کے ساتھ ساتھ اس کی ہڈیوں اور وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔ یہ اللَّه کے غضب سے بھڑکائی ہوئی ایک ایسی بھٹی ہے جسے کبھی بجھنے نہیں دیا جائے گا۔ 2- "حُطَمَة" میں کون سے لوگ ہوں گے؟ اللَّه تعالٰی نے سورۃ الہمزہ کی پہلی تین آیات میں ان مجرموں کی نشانیاں بتائی ہیں جنہیں خاص طور پر اس "چورا چورا کر دینے والی آگ" (حطمہ) میں ڈالا جائے گا۔ اس کے حقدار یہ تین قسم کے لوگ ہوں گے 1- هُمَزَة (منہ پر طعنے دینے والے اور مذاق اڑانے والے): وہ لوگ جو اپنے غرور اور تکبر میں آ کر دوسروں کو ان کے منہ پر طعنے دیتے ہیں، ان کی شکل و صورت، غریبی یا مجبوری کا مذاق اڑاتے ہیں اور اُنہیں ذلیل کرتے ہیں۔ 2- لُّمَزَة (پیٹھ پیچھے غیبت اور سازشیں کرنے والے): وہ لوگ جو پیٹھ پیچھے دوسروں کی عزت اچھالتے ہیں، ان کی برائیاں (غیبت) کرتے ہیں، لوگوں کے درمیان چغلیاں کھا کر لڑائیاں کرواتے ہیں اور معصوم لوگوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ 3- پیسے کا پجاری اور متکبر (الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ): وہ شخص جس کی زندگی کا واحد مقصد صرف مال (پیسہ) جمع کرنا اور اسے گن گن کر رکھنا ہو۔ وہ غریبوں کا حق مارے، صدقہ و زکوٰۃ نہ دے اور یہ سمجھے کہ اس کا یہ بینک بیلنس، جائیداد یا بڑی گاڑی اسے ہمیشہ زندہ رکھے گی (يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ) اور موت اس تک نہیں پہنچے گی۔ 3- ان لوگوں کو "حُطَمَة" (توڑ دینے والی آگ) کی سزا ہی کیوں؟ (مکافاتِ عمل) یہاں قرآن کی نفسیاتی اور منطقی حکمت دیکھیں! اللَّه تعالٰی نے غیبت کرنے والے، طعنے دینے والے اور متکبر انسان کے لیے خاص طور پر "توڑ دینے والی آگ (حطمہ)" کا انتخاب کیوں کیا؟ مکافاتِ عمل: جب کوئی انسان کسی کو طعنہ مارتا ہے یا اس کی غیبت کرتا ہے، تو وہ دراصل اس مظلوم انسان کا "دل توڑتا ہے"، اس کی عزت کو "چورا چورا" کرتا ہے۔ چونکہ اس ظالم نے دنیا میں اپنے تکبر اور زبان سے کمزور لوگوں کے دل اور عزتیں توڑیں، اس لیے اللَّه تعالٰی فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں اسے اس آگ (حطمہ) میں ڈالوں گا جو اس کے جسم، اس کی ہڈیوں اور اس کے غرور کو "چورا چورا" کر دے گی۔ 4- حُطَمَة کی سب سے خوفناک سائنسی خصوصیت (دلوں تک پہنچنے والی آگ) سورۃ الہمزہ کی آیت نمبر سات میں اللَّه نے حطمہ کی ایک ایسی خاصیت بتائی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے: "الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ" (وہ ایسی آگ ہے جو سیدھی 'دلوں' کے اوپر جا کر چڑھے گی / پہنچے گی) دنیا کی آگ پہلے کھال، پھر گوشت اور پھر ہڈیوں کو جلاتی ہے۔ دل تک پہنچنے سے بہت پہلے انسان مر چکا ہوتا ہے، اس لیے اسے دل کے جلنے کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن حطمہ کی آگ سیدھی دل کو جلا کر چیر دے گی اور انسان مرے گا بھی نہیں!۔ دل ہی کیوں؟ کیونکہ تکبر، پیسوں کا غرور، دوسروں سے نفرت (حسد) اور طعنے دینے کا ارادہ اسی دل سے پیدا ہوا تھا۔ اس لیے آگ سیدھی اسی مجرم دل کو جا کر لگے گی۔ "حُطَمَة" اس مغرور، لالچی اور زبان دراز انسان کا ٹھکانا ہے جو دوسروں کی عزتیں اور دل توڑتا ہے۔ جو شخص یہ سورت اور اس کا مطلب سمجھ لیتا ہے، وہ پھر کبھی کسی غریب کا مذاق نہیں اڑاتا، نہ طعنے دیتا ہے اور نہ پیسے پر غرور کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللَّه کی بھٹی (حطمہ) اس کے غرور کا پاؤڈر بنانے کے لیے تیار ہے!۔ حُطَمَة #fyp #foryou #علم_کی_دنیا🌍 #اللَّه #قرآن
Enjoy every happy moment in 2026. Which month of the year do you like the most?💕✨💯#bl #manhwabl #manhwa #lowtideintwilight #jinxbl
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy