@elevate.clothingza: Available For R1100 Including Delivery, WhatsApp 0612318754 To Make Your Order or For Enquiries. #calvinklein #fyppppppppppppppppppppppp #fashiontiktok #ladiesfashion #creatorsearchinsight

Elevate Clothing
Elevate Clothing
Open In TikTok:
Region: ZA
Thursday 19 February 2026 11:10:59 GMT
337824
9077
202
1578

Music

Download

Comments

therapeutic_diva
Therapeutic Diva 💆‍♀️ :
Girl R1000 is a lot of money I hope you deliver 😩
2026-02-19 19:30:09
41
bokkie_2300
Bokkie_💕 :
Where is the face of the business ???
2026-02-19 18:16:22
7
mbally_mbalz2
Mbally_Mbalz :
nice is it cash on delivery?
2026-02-19 12:52:12
8
juice4877
Juice :
yooooh I need this
2026-04-30 21:40:27
1
kamogelomore562
kamogelomore562 :
where are u located?
2026-02-20 03:20:23
2
tabia635
Babakie :
Size 8 is available?
2026-02-19 19:36:32
1
coach_sihlengese13
coach Sihle Ngese 13 :
I want to come there and buy
2026-02-20 08:52:39
5
pinkie.tsietsi
Pinkie Tsietsi :
hey is strach or?
2026-04-15 10:05:07
1
user7638151148677
slaygogo :
hi do u have size6..
2026-04-17 17:27:21
1
matswaka_31
matswaka :
Do you only have black?
2026-03-24 18:16:16
1
khanya_85
Khanya :
Yoh,Thina aboSize 3😕,Sibaliwe Nah Lana?
2026-02-19 17:49:01
11
gabgab952
gabgab :
do you have 3 n half?
2026-03-17 10:30:36
1
kopano.mo.pharasi
Kopano Mo Pharasi :
Oh my God I am in love
2026-03-02 05:54:53
1
zodwa.klass
zodwa Klass :
I want....
2026-02-20 18:02:39
1
makhositheledi1
makhosazana :
6/7
2026-02-22 09:56:24
1
matswaka_31
matswaka :
Hi dear, how do I order?
2026-03-24 11:02:24
1
thandolwamwam
Thandolwam Wam :
Girl the sizes because wow, some of us are blessed with height😫😫😫
2026-02-20 18:22:29
1
lindstheron
Linds :
size 6 please
2026-02-22 09:29:06
1
leluvgotobed
leluvgotobed :
do you deliver????
2026-02-20 13:55:29
1
grannylious
Grannylious :
im interested cc
2026-02-19 19:03:16
1
gratitudehleza_
Tholakele Hleza :
hi do u have size 8
2026-02-24 17:35:56
0
dineomartin
dineomartin :
Do you have size 9
2026-02-19 21:13:00
2
keeyagago_
Maneo :
No ankle boot?
2026-02-19 12:30:54
3
To see more videos from user @elevate.clothingza, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اچھے دن کے انتظار میں عمر گزر جاتی ہے غالب، پھر پتا چلتا ہے کہ جو گزر گئے وہی اچھے دن تھے۔ انسان کی فطرت عجیب ہے۔ وہ ہمیشہ اس چیز کی خواہش کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی، اور جو اس کے پاس ہوتی ہے اس کی قدر نہیں کرتا۔ بچپن میں لگتا ہے کہ جوانی سب سے خوبصورت دور ہوگی۔ جوانی آتی ہے تو انسان مستقبل کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ جب اچھی نوکری مل جائے گی، جب گھر بن جائے گا، جب زندگی کے مسائل ختم ہو جائیں گے، تب سکون ملے گا، تب خوشی ملے گی۔ لیکن زندگی کا سفر آگے بڑھتا رہتا ہے اور خوشی کی منزل ہمیشہ چند قدم دور رہتی ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی کو آنے والے کل کے نام کر دیتے ہیں۔ آج کے لمحے کو جینے کے بجائے ہم کل کے خوابوں میں گم رہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف آج کا نام ہے۔ جو کل گزر گیا وہ تاریخ بن چکا، اور جو آنے والا ہے اس کا کسی کو یقین نہیں۔ مگر افسوس کہ ہم اپنا آج بھی اس کل کے انتظار میں قربان کر دیتے ہیں جو شاید کبھی نہ آئے۔ یاد کیجیے وہ دن جب آپ بچپن میں بارش میں بھیگتے تھے، گلیوں میں کھیلتے تھے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو جاتے تھے۔ اس وقت آپ کو لگتا تھا کہ زندگی بہت عام سی ہے۔ آپ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایک دن یہی معمولی لمحے آپ کی سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گے۔ آج جب زندگی کی مصروفیات اور ذمہ داریوں نے گھیر لیا ہے تو وہی بچپن خواب لگتا ہے۔ وہی دن جنہیں ہم نے کبھی خاص نہیں سمجھا تھا، آج دل ان کے لیے ترستا ہے۔ پھر نوجوانی آتی ہے۔ دوستوں کی محفلیں، رات گئے تک ہونے والی باتیں، ہنسی مذاق، چھوٹے چھوٹے خواب، بے شمار امیدیں۔ اس وقت انسان کو لگتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ رہے گا۔ لیکن وقت خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ دوست بچھڑ جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، اور ایک دن انسان انہی دنوں کو یاد کر کے مسکرا بھی دیتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ یہی ہے کہ جب خوشی ہمارے پاس ہوتی ہے تو ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ ہمیں لگتا ہے کہ اصل خوشی ابھی آنی باقی ہے۔ لیکن جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ ہم جس خوشی کے انتظار میں تھے، وہ تو پہلے ہی ہمارے پاس موجود تھی۔ کبھی اپنے والدین کو غور سے دیکھیے۔ ایک وقت تھا جب وہ ہر لمحہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے، آپ کے لیے دعائیں کرتے تھے، آپ کی کامیابیوں پر خوش ہوتے تھے۔ لیکن وقت گزرتا ہے، عمر بڑھتی ہے، اور ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ والدین کا ساتھ دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھا۔ جب وہ ساتھ ہوتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ رہے گا، مگر جب وقت انہیں ہم سے دور کر دیتا ہے تو دل کو سمجھ آتا ہے کہ اصل خوشی تو انہی کے سائے میں تھی۔ اسی طرح زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ کچھ دوست، کچھ رشتہ دار، کچھ ایسے لوگ جن کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں لگتا۔ مگر وقت کے ساتھ بہت سے لوگ بچھڑ جاتے ہیں۔ تب احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ کتنا قیمتی تھا۔ کاش ہم نے ان لمحوں کو زیادہ محبت، زیادہ خلوص اور زیادہ توجہ سے جیا ہوتا۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم خوشی کو کسی بڑی کامیابی سے جوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے پاس زیادہ دولت ہوگی، بڑی گاڑی ہوگی، بڑا گھر ہوگا، تب ہم خوش ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا کے بے شمار امیر لوگ بھی بے سکون ہیں، اور بہت سے سادہ لوگ دل کا سکون رکھتے ہیں۔ کیونکہ خوشی چیزوں میں نہیں، احساس میں ہوتی ہے۔ خوشی شکرگزاری میں ہوتی ہے۔ خوشی اس بات میں ہوتی ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو پہچانے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ سانس لینا، چلنا، دیکھنا، سننا، اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھنا، ایک چھت کا ہونا، ایک وقت کی روٹی کا میسر ہونا، یہ سب ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدر اکثر انسان اس وقت کرتا ہے جب وہ ان سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جو کچھ آج ہمارے پاس ہے، اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اچھے دنوں کا انتظار ضرور کریں، خواب ضرور دیکھیں، محنت ضرور کریں، ترقی کی خواہش ضرور رکھیں، لیکن اس انتظار میں اپنے آج کو ضائع مت کریں۔ کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ جن دنوں کو ہم عام سمجھتے ہیں، وہی ایک دن ہماری سب سے خوبصورت یادیں بن جاتے ہیں۔ شاید زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ انسان خوشیوں کو تلاش کرتے کرتے تھک جاتا ہے، اور پھر ایک دن پلٹ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خوشیاں تو راستے بھر اس کے ساتھ چلتی رہی تھیں۔ #ubaidtypist70 #foryoupagе
اچھے دن کے انتظار میں عمر گزر جاتی ہے غالب، پھر پتا چلتا ہے کہ جو گزر گئے وہی اچھے دن تھے۔ انسان کی فطرت عجیب ہے۔ وہ ہمیشہ اس چیز کی خواہش کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی، اور جو اس کے پاس ہوتی ہے اس کی قدر نہیں کرتا۔ بچپن میں لگتا ہے کہ جوانی سب سے خوبصورت دور ہوگی۔ جوانی آتی ہے تو انسان مستقبل کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ جب اچھی نوکری مل جائے گی، جب گھر بن جائے گا، جب زندگی کے مسائل ختم ہو جائیں گے، تب سکون ملے گا، تب خوشی ملے گی۔ لیکن زندگی کا سفر آگے بڑھتا رہتا ہے اور خوشی کی منزل ہمیشہ چند قدم دور رہتی ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی کو آنے والے کل کے نام کر دیتے ہیں۔ آج کے لمحے کو جینے کے بجائے ہم کل کے خوابوں میں گم رہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف آج کا نام ہے۔ جو کل گزر گیا وہ تاریخ بن چکا، اور جو آنے والا ہے اس کا کسی کو یقین نہیں۔ مگر افسوس کہ ہم اپنا آج بھی اس کل کے انتظار میں قربان کر دیتے ہیں جو شاید کبھی نہ آئے۔ یاد کیجیے وہ دن جب آپ بچپن میں بارش میں بھیگتے تھے، گلیوں میں کھیلتے تھے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو جاتے تھے۔ اس وقت آپ کو لگتا تھا کہ زندگی بہت عام سی ہے۔ آپ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایک دن یہی معمولی لمحے آپ کی سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گے۔ آج جب زندگی کی مصروفیات اور ذمہ داریوں نے گھیر لیا ہے تو وہی بچپن خواب لگتا ہے۔ وہی دن جنہیں ہم نے کبھی خاص نہیں سمجھا تھا، آج دل ان کے لیے ترستا ہے۔ پھر نوجوانی آتی ہے۔ دوستوں کی محفلیں، رات گئے تک ہونے والی باتیں، ہنسی مذاق، چھوٹے چھوٹے خواب، بے شمار امیدیں۔ اس وقت انسان کو لگتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ رہے گا۔ لیکن وقت خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ دوست بچھڑ جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، اور ایک دن انسان انہی دنوں کو یاد کر کے مسکرا بھی دیتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ یہی ہے کہ جب خوشی ہمارے پاس ہوتی ہے تو ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ ہمیں لگتا ہے کہ اصل خوشی ابھی آنی باقی ہے۔ لیکن جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ ہم جس خوشی کے انتظار میں تھے، وہ تو پہلے ہی ہمارے پاس موجود تھی۔ کبھی اپنے والدین کو غور سے دیکھیے۔ ایک وقت تھا جب وہ ہر لمحہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے، آپ کے لیے دعائیں کرتے تھے، آپ کی کامیابیوں پر خوش ہوتے تھے۔ لیکن وقت گزرتا ہے، عمر بڑھتی ہے، اور ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ والدین کا ساتھ دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھا۔ جب وہ ساتھ ہوتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ رہے گا، مگر جب وقت انہیں ہم سے دور کر دیتا ہے تو دل کو سمجھ آتا ہے کہ اصل خوشی تو انہی کے سائے میں تھی۔ اسی طرح زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ کچھ دوست، کچھ رشتہ دار، کچھ ایسے لوگ جن کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں لگتا۔ مگر وقت کے ساتھ بہت سے لوگ بچھڑ جاتے ہیں۔ تب احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ کتنا قیمتی تھا۔ کاش ہم نے ان لمحوں کو زیادہ محبت، زیادہ خلوص اور زیادہ توجہ سے جیا ہوتا۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم خوشی کو کسی بڑی کامیابی سے جوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے پاس زیادہ دولت ہوگی، بڑی گاڑی ہوگی، بڑا گھر ہوگا، تب ہم خوش ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا کے بے شمار امیر لوگ بھی بے سکون ہیں، اور بہت سے سادہ لوگ دل کا سکون رکھتے ہیں۔ کیونکہ خوشی چیزوں میں نہیں، احساس میں ہوتی ہے۔ خوشی شکرگزاری میں ہوتی ہے۔ خوشی اس بات میں ہوتی ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو پہچانے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ سانس لینا، چلنا، دیکھنا، سننا، اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھنا، ایک چھت کا ہونا، ایک وقت کی روٹی کا میسر ہونا، یہ سب ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدر اکثر انسان اس وقت کرتا ہے جب وہ ان سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جو کچھ آج ہمارے پاس ہے، اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اچھے دنوں کا انتظار ضرور کریں، خواب ضرور دیکھیں، محنت ضرور کریں، ترقی کی خواہش ضرور رکھیں، لیکن اس انتظار میں اپنے آج کو ضائع مت کریں۔ کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ جن دنوں کو ہم عام سمجھتے ہیں، وہی ایک دن ہماری سب سے خوبصورت یادیں بن جاتے ہیں۔ شاید زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ انسان خوشیوں کو تلاش کرتے کرتے تھک جاتا ہے، اور پھر ایک دن پلٹ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خوشیاں تو راستے بھر اس کے ساتھ چلتی رہی تھیں۔ #ubaidtypist70 #foryoupagе

About