@hair_by_bree: Not my best but it can work #fypシ゚ #viralvideos #beginnersfriendly #amazonwigs #beginner

HAIR_BY_BREE💕🫧
HAIR_BY_BREE💕🫧
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 21 February 2026 03:20:43 GMT
417
49
4
1

Music

Download

Comments

theblingnbeauty
Bling & Beauty :
Okk, you ate that upp🔥😍
2026-02-23 16:46:06
0
skiivodka
She smells good✨ :
🥰🥰🥰
2026-02-22 21:43:19
1
To see more videos from user @hair_by_bree, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کبھی کبھی انسان بدلہ نہیں مانگتا، وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کے اندر ٹوٹنے والی ہر چیز کا حساب کہیں نہ کہیں ضرور ہو۔  زندگی میں کچھ تجربے انسان کو بدل دیتے ہیں، کچھ لوگ انسان کے اندر ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتے ہیں جو چیخوں سے زیادہ بھاری محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات تکلیف اس بات کی نہیں ہوتی کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ ہمیں کس طرح سمجھا گیا، کس طرح نظر انداز کیا گیا، اور کس طرح ہمارے احساسات کو بے قیمت سمجھ لیا گیا۔ انسان جب ٹوٹتا ہے تو وہ سب سے پہلے سوال کرتا ہے کہ آخر میں نے کیا غلط کیا؟ میں نے کس جگہ کمی رکھی؟ میں نے کس لمحے زیادہ محبت کر لی یا کس وقت زیادہ یقین کر لیا؟ مگر وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتا ہے کہ ہمیشہ غلطی اپنی نہیں ہوتی، بعض اوقات سامنے والے کی سوچ، اس کا رویہ اور اس کا دل بھی وجہ بنتا ہے۔ کچھ لوگ زندگی میں آ کر یہ سکھاتے ہیں کہ محبت صرف احساس نہیں ہوتی، بلکہ ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر وہ خود اس ذمہ داری کو کبھی نہیں سمجھتے۔ وہ دوسروں کے جذبات کو ہلکا سمجھ لیتے ہیں، ان کی خاموشی کو اجازت سمجھ لیتے ہیں، اور ان کی برداشت کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔ وہ لڑنا چھوڑ دیتا ہے، سمجھانا چھوڑ دیتا ہے، اور صرف خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے مگر باہر سے خود کو سنبھال رہا ہوتا ہے۔ اس مقام پر انسان بدلہ نہیں چاہتا، وہ کسی کی تباہی نہیں چاہتا، وہ صرف انصاف چاہتا ہے۔ ایک ایسا انصاف جو شاید دنیا کے نظام میں دیر سے ملے، مگر اسے یقین ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہر چیز کا حساب ضرور ہوگا۔ دل کے اندر ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ نہ مکمل نفرت ہوتی ہے، نہ مکمل محبت باقی رہتی ہے۔ بس ایک خالی پن ہوتا ہے، جو ہر چیز کو بے معنی کر دیتا ہے۔ وہ شخص جو کبھی سب کچھ تھا، اب صرف ایک یاد بن جاتا ہے، اور وہ یاد بھی درد کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ انسان سب سے زیادہ خود سے اس وقت ناراض ہوتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے کسی کو حد سے زیادہ اہمیت دے دی۔ وہ اپنی عزتِ نفس کو پسِ پشت ڈال کر کسی اور کو ترجیح دیتا رہا، اور آخر میں اسے صرف خالی ہاتھ رہنا پڑا۔ لیکن وقت ایک استاد ہے۔ وہ آہستہ آہستہ یہ سکھا دیتا ہے کہ ہر کسی کے لیے اپنی روح کو نہیں بیچا جاتا، ہر کسی کے لیے اپنی عزت کو نہیں جھکایا جاتا، اور ہر کسی کے لیے اپنے وجود کو نہیں مٹایا جاتا۔ پھر انسان رب کی طرف لوٹتا ہے۔ وہاں شکایت نہیں ہوتی، صرف ایک سچائی ہوتی ہے۔ دل کہتا ہے کہ یا اللہ، تو سب جانتا ہے۔ میں نے کیا دیا، میں نے کیا برداشت کیا، اور میں نے کس نیت سے محبت کی۔ اگر کسی نے میرے دل کو توڑا ہے تو میں اس کے بدلے میں کچھ نہیں مانگتا، بس یہ چاہتا ہوں کہ ہر کسی کو اس کے عمل کا اصل چہرہ دکھا دیا جائے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان انتقام سے اوپر اٹھ کر تقدیر پر یقین کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اسے سمجھ آ جاتا ہے کہ ہر چیز کا جواب فوراً نہیں ملتا، مگر ملتا ضرور ہے۔ کبھی وقت دیتا ہے، کبھی حالات، اور کبھی انسان کی اپنی زندگی ہی آئینہ بن جاتی ہے۔ جو لوگ کسی کو ذلیل کرتے ہیں، کسی کے جذبات کو روندتے ہیں، کسی کے خلوص کو کھیل سمجھتے ہیں، وہ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی صرف دینے کا نام نہیں، لینے کا بھی نظام رکھتی ہے۔ اور یہ نظام انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا، یہ اس ذات کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو دلوں کے حال بھی جانتی ہے اور نیتوں کے راز بھی۔ آخر میں انسان صرف اتنا سمجھتا ہے کہ سب سے بڑی طاقت بدلہ نہیں، خاموشی ہے۔ سب سے بڑا جواب چیخنا نہیں، صبر ہے۔ اور سب سے بڑا انصاف کسی کو نیچا دکھانا نہیں، بلکہ اس رب پر چھوڑ دینا ہے جو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اور جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے، تو پھر وہ کسی کے ظلم سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اپنے رب پر یقین سے جڑ جاتا ہے۔ 🖤
کبھی کبھی انسان بدلہ نہیں مانگتا، وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کے اندر ٹوٹنے والی ہر چیز کا حساب کہیں نہ کہیں ضرور ہو۔ زندگی میں کچھ تجربے انسان کو بدل دیتے ہیں، کچھ لوگ انسان کے اندر ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتے ہیں جو چیخوں سے زیادہ بھاری محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات تکلیف اس بات کی نہیں ہوتی کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ ہمیں کس طرح سمجھا گیا، کس طرح نظر انداز کیا گیا، اور کس طرح ہمارے احساسات کو بے قیمت سمجھ لیا گیا۔ انسان جب ٹوٹتا ہے تو وہ سب سے پہلے سوال کرتا ہے کہ آخر میں نے کیا غلط کیا؟ میں نے کس جگہ کمی رکھی؟ میں نے کس لمحے زیادہ محبت کر لی یا کس وقت زیادہ یقین کر لیا؟ مگر وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتا ہے کہ ہمیشہ غلطی اپنی نہیں ہوتی، بعض اوقات سامنے والے کی سوچ، اس کا رویہ اور اس کا دل بھی وجہ بنتا ہے۔ کچھ لوگ زندگی میں آ کر یہ سکھاتے ہیں کہ محبت صرف احساس نہیں ہوتی، بلکہ ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر وہ خود اس ذمہ داری کو کبھی نہیں سمجھتے۔ وہ دوسروں کے جذبات کو ہلکا سمجھ لیتے ہیں، ان کی خاموشی کو اجازت سمجھ لیتے ہیں، اور ان کی برداشت کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔ وہ لڑنا چھوڑ دیتا ہے، سمجھانا چھوڑ دیتا ہے، اور صرف خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے مگر باہر سے خود کو سنبھال رہا ہوتا ہے۔ اس مقام پر انسان بدلہ نہیں چاہتا، وہ کسی کی تباہی نہیں چاہتا، وہ صرف انصاف چاہتا ہے۔ ایک ایسا انصاف جو شاید دنیا کے نظام میں دیر سے ملے، مگر اسے یقین ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہر چیز کا حساب ضرور ہوگا۔ دل کے اندر ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ نہ مکمل نفرت ہوتی ہے، نہ مکمل محبت باقی رہتی ہے۔ بس ایک خالی پن ہوتا ہے، جو ہر چیز کو بے معنی کر دیتا ہے۔ وہ شخص جو کبھی سب کچھ تھا، اب صرف ایک یاد بن جاتا ہے، اور وہ یاد بھی درد کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ انسان سب سے زیادہ خود سے اس وقت ناراض ہوتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے کسی کو حد سے زیادہ اہمیت دے دی۔ وہ اپنی عزتِ نفس کو پسِ پشت ڈال کر کسی اور کو ترجیح دیتا رہا، اور آخر میں اسے صرف خالی ہاتھ رہنا پڑا۔ لیکن وقت ایک استاد ہے۔ وہ آہستہ آہستہ یہ سکھا دیتا ہے کہ ہر کسی کے لیے اپنی روح کو نہیں بیچا جاتا، ہر کسی کے لیے اپنی عزت کو نہیں جھکایا جاتا، اور ہر کسی کے لیے اپنے وجود کو نہیں مٹایا جاتا۔ پھر انسان رب کی طرف لوٹتا ہے۔ وہاں شکایت نہیں ہوتی، صرف ایک سچائی ہوتی ہے۔ دل کہتا ہے کہ یا اللہ، تو سب جانتا ہے۔ میں نے کیا دیا، میں نے کیا برداشت کیا، اور میں نے کس نیت سے محبت کی۔ اگر کسی نے میرے دل کو توڑا ہے تو میں اس کے بدلے میں کچھ نہیں مانگتا، بس یہ چاہتا ہوں کہ ہر کسی کو اس کے عمل کا اصل چہرہ دکھا دیا جائے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان انتقام سے اوپر اٹھ کر تقدیر پر یقین کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اسے سمجھ آ جاتا ہے کہ ہر چیز کا جواب فوراً نہیں ملتا، مگر ملتا ضرور ہے۔ کبھی وقت دیتا ہے، کبھی حالات، اور کبھی انسان کی اپنی زندگی ہی آئینہ بن جاتی ہے۔ جو لوگ کسی کو ذلیل کرتے ہیں، کسی کے جذبات کو روندتے ہیں، کسی کے خلوص کو کھیل سمجھتے ہیں، وہ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی صرف دینے کا نام نہیں، لینے کا بھی نظام رکھتی ہے۔ اور یہ نظام انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا، یہ اس ذات کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو دلوں کے حال بھی جانتی ہے اور نیتوں کے راز بھی۔ آخر میں انسان صرف اتنا سمجھتا ہے کہ سب سے بڑی طاقت بدلہ نہیں، خاموشی ہے۔ سب سے بڑا جواب چیخنا نہیں، صبر ہے۔ اور سب سے بڑا انصاف کسی کو نیچا دکھانا نہیں، بلکہ اس رب پر چھوڑ دینا ہے جو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اور جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے، تو پھر وہ کسی کے ظلم سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اپنے رب پر یقین سے جڑ جاتا ہے۔ 🖤

About