@bilalasthetic05: bhar du joli meri ya Muhammad..||🤲🥹 #islamicvideos #viral #foryou #ツviralgrow

B i l a l ♡
B i l a l ♡
Open In TikTok:
Region: PK
Sunday 22 February 2026 10:08:00 GMT
2927
280
4
6

Music

Download

Comments

sheikhjunaid.777
🔥🦁Junaid🦅✌️🇦🇪 :
😌😌😌
2026-02-22 20:18:35
2
umar.akbar49
Umar Akbar :
❤️❤️❤️
2026-02-22 16:36:02
2
rajashazaib_3
Raja shazaib sajid :
🥰🥰🥰
2026-02-22 12:38:10
2
amanuallah029
AMAN 107 :
🥰
2026-04-22 09:49:19
0
To see more videos from user @bilalasthetic05, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا نئے صوبے بنانے کی مخالفت۔  زبان اور عقیدے کا احترام: مولانا عبیداللہ سندھی کا فکر اور آج کا سماج! ✨ معروف عالمِ دین مولانا عبیداللہ سندھی نے 1944ء میں اپنی وفات سے قبل یہ واضح کر دیا تھا کہ ہندوستان میں امن تب ہی ممکن ہے جب لوگوں کے عقائد اور زبانوں کو تسلیم کیا جائے گا۔ وہ ہندوستان کو ایک ایسی فیڈریشن دیکھنا چاہتے تھے جہاں ہر قوم کی زبان اور نظریہ محفوظ ہو۔ گاندھی اور کانگریس سے بھی ان کا یہی اختلاف تھا کہ وہ ہندوستان کی کثیر القومی (Multinational) حیثیت کو اس طرح تسلیم نہیں کر رہے تھے جیسے کیا جانا چاہیے تھا۔ دوسری طرف، آج کی مہذب دنیا کا حال دیکھیے۔ ہمارے خطے کا ایک شخص جب سویڈن میں اپنے بچوں کے ایڈمیشن کے لیے گیا، تو اسکول انتظامیہ نے بچوں کی مادری زبان (پشتو) کا سن کر محض ایک ہفتے کے اندر ان کے لیے پشتو زبان کے استاد کا بندوبست کر دیا۔ کیونکہ جدید سائنس بھی مانتی ہے کہ مادری زبان کے بغیر بچے کی ذہنی نشوونما ادھوری رہتی ہے۔ مگر صد افسوس کہ ہمارے ہاں آج بھی زبان، ثقافت اور شناخت پر پابندیاں عائد ہیں۔ جب تک ہم اپنی مادری زبانوں کو ان کا جائز حق نہیں دیں گے، ہم تعلیمی اور سماجی طور پر پیچھے ہی رہیں گے۔ #Sindh #culture #Sindh
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا نئے صوبے بنانے کی مخالفت۔ زبان اور عقیدے کا احترام: مولانا عبیداللہ سندھی کا فکر اور آج کا سماج! ✨ معروف عالمِ دین مولانا عبیداللہ سندھی نے 1944ء میں اپنی وفات سے قبل یہ واضح کر دیا تھا کہ ہندوستان میں امن تب ہی ممکن ہے جب لوگوں کے عقائد اور زبانوں کو تسلیم کیا جائے گا۔ وہ ہندوستان کو ایک ایسی فیڈریشن دیکھنا چاہتے تھے جہاں ہر قوم کی زبان اور نظریہ محفوظ ہو۔ گاندھی اور کانگریس سے بھی ان کا یہی اختلاف تھا کہ وہ ہندوستان کی کثیر القومی (Multinational) حیثیت کو اس طرح تسلیم نہیں کر رہے تھے جیسے کیا جانا چاہیے تھا۔ دوسری طرف، آج کی مہذب دنیا کا حال دیکھیے۔ ہمارے خطے کا ایک شخص جب سویڈن میں اپنے بچوں کے ایڈمیشن کے لیے گیا، تو اسکول انتظامیہ نے بچوں کی مادری زبان (پشتو) کا سن کر محض ایک ہفتے کے اندر ان کے لیے پشتو زبان کے استاد کا بندوبست کر دیا۔ کیونکہ جدید سائنس بھی مانتی ہے کہ مادری زبان کے بغیر بچے کی ذہنی نشوونما ادھوری رہتی ہے۔ مگر صد افسوس کہ ہمارے ہاں آج بھی زبان، ثقافت اور شناخت پر پابندیاں عائد ہیں۔ جب تک ہم اپنی مادری زبانوں کو ان کا جائز حق نہیں دیں گے، ہم تعلیمی اور سماجی طور پر پیچھے ہی رہیں گے۔ #Sindh #culture #Sindh

About