حضرت علی رضی اللہ تعالی کا دور خلافت تھا ایک دن حضرت علی نے جیل کا دورہ کیا وہاں جیل میں ایک بہت ھی خوبصورت لڑکا قید میں تھا حضرت علی نے لڑکے سے قید کی وجہ پوچھی تو لڑکے نے بتایا کہ میں جس آدمی کے پاس کام کرتا تھا وہ مجھ سے بدکاری کیا کرتا تھا میں نے اس کی بہت منت سماجت کی کہ بعض آ جاۓ لیکن وہ نہیں مانا اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا حضرت علی کو بے حد افسوس ھوا حضرت علی نے مقتول کے ورثا کو بلایا اور ان سے لڑکے کو معاف کرنے کی تلقین کی لیکن ورثا نہیں مانے انہوں نے کہا کہ مقتول ایسا بدکار ہر گز نہیں تھا تو حضرت علی نے کہا کہ کل آ جانا میں ان شاء اللہ اس کا فیصلہ کر دوں گا اگلے دن ورثا اور لڑکے کو قبرستان لایا گیا حضرت علی نے کہا کہ مقتول کی قبر کو کھولا جاۓ جب قبر کھولی گٸ تو قبر خالی تھی مقتول اس میں نہیں تھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جو آدمی ایسی بدکاری میں مبتلا ھو کر مرتا ھے تو اسے مرنے کے تین دن بعد قبر سے نکال کر وادٸ صدوم بھیج دیا جاتا ھے جہاں حضرت لوط علیہ اسلام کی قوم عزاب الہی میں مبتلا ھے اسے بھی ان کیساتھ عزاب الہی میں غرق کر دیا جاتا ھے اللہ سے ڈرو توبہ توبہ کرو Please dont mind
حکایات سعدی باب اقوالً زریں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
2026-08-11 08:12:31
3
To see more videos from user @almehranrestaurent, please go to the Tikwm
homepage.