@audioymas: Zealot ZE-21, Test Bass

Audio y Mas*🔊
Audio y Mas*🔊
Open In TikTok:
Region: MX
Tuesday 24 February 2026 23:44:22 GMT
3212
109
5
11

Music

Download

Comments

jhonnygomez15
jhonnygomez15 :
precio
2026-02-25 04:06:18
0
rod._417
Johan :
amigo haber pruébalo con esta rola
2026-03-02 16:42:19
1
renebenjamincordo
renebenjamincordo :
cual es mejor ze21 o s89 no me puedo decidir e comprado varias bocinas gracias. tus videos saludos desde Manzanillo... espero me saludes en un video de YouTube..
2026-02-25 06:05:13
0
antonio890_79
forrest gump😁 😜 :
Bueno secre
2026-02-26 19:07:08
0
To see more videos from user @audioymas, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بیرونِ ملک غیرقانونی طریقے سے جانے (ڈنکی) کی کوشش کرنے والے 12 پاکستانی نوجوان مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے چنگل میں پھنس گئے، جبکہ اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کر دی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق لاپتا ہونے والے 12 نوجوانوں میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے پسین سے ہے، جبکہ لاپتا افراد میں تین کزن دلشاد، اسامہ اور وقاص بھی شامل ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ عامر نامی ایجنٹ لاکھوں روپے وصول کرنے کے بعد نوجوانوں کو بیرونِ ملک لے گیا۔ ان کے مطابق نوجوانوں نے ایران پہنچنے کے بعد اہل خانہ سے رابطہ کیا، تاہم اس کے بعد ان سے تمام رابطہ منقطع ہوگیا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ بعد ازاں وقاص کے موبائل نمبر سے رابطہ کرکے رقم کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ایجنٹ نے تین نوجوانوں کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز بھی خاندانوں کو بھیجیں۔ ویڈیوز میں نوجوان انتہائی خراب حالت میں دکھائی دیتے ہیں، ان کے گلوں میں زنجیریں بندھی ہوئی ہیں اور وہ روتے ہوئے اہل خانہ سے رقم بھیجنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے مطابق تمام نوجوان لاہور کے علاقے جلو موڑ کے قریب واقع پسین گاؤں کے رہائشی ہیں، جبکہ عامر نامی ایجنٹ بھی اسی علاقے کا رہنے والا ہے، جس نے نوجوانوں کو بہتر مستقبل اور بیرونِ ملک پہنچانے کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ لے گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ہر نوجوان کے لیے 10،10 لاکھ روپے طلب کیے گئے، جو ادا کر دیے گئے، تاہم اب اغوا کار ہر فرد کی رہائی کے لیے مزید 6 ہزار امریکی ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو نتائج سنگین ہوں گے۔ متاثرہ خاندانوں نے واقعے کی درخواست فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو جمع کرا دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے اس گروہ کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے نوجوانوں کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے۔
بیرونِ ملک غیرقانونی طریقے سے جانے (ڈنکی) کی کوشش کرنے والے 12 پاکستانی نوجوان مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے چنگل میں پھنس گئے، جبکہ اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کر دی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق لاپتا ہونے والے 12 نوجوانوں میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے پسین سے ہے، جبکہ لاپتا افراد میں تین کزن دلشاد، اسامہ اور وقاص بھی شامل ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ عامر نامی ایجنٹ لاکھوں روپے وصول کرنے کے بعد نوجوانوں کو بیرونِ ملک لے گیا۔ ان کے مطابق نوجوانوں نے ایران پہنچنے کے بعد اہل خانہ سے رابطہ کیا، تاہم اس کے بعد ان سے تمام رابطہ منقطع ہوگیا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ بعد ازاں وقاص کے موبائل نمبر سے رابطہ کرکے رقم کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ایجنٹ نے تین نوجوانوں کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز بھی خاندانوں کو بھیجیں۔ ویڈیوز میں نوجوان انتہائی خراب حالت میں دکھائی دیتے ہیں، ان کے گلوں میں زنجیریں بندھی ہوئی ہیں اور وہ روتے ہوئے اہل خانہ سے رقم بھیجنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے مطابق تمام نوجوان لاہور کے علاقے جلو موڑ کے قریب واقع پسین گاؤں کے رہائشی ہیں، جبکہ عامر نامی ایجنٹ بھی اسی علاقے کا رہنے والا ہے، جس نے نوجوانوں کو بہتر مستقبل اور بیرونِ ملک پہنچانے کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ لے گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ہر نوجوان کے لیے 10،10 لاکھ روپے طلب کیے گئے، جو ادا کر دیے گئے، تاہم اب اغوا کار ہر فرد کی رہائی کے لیے مزید 6 ہزار امریکی ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو نتائج سنگین ہوں گے۔ متاثرہ خاندانوں نے واقعے کی درخواست فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو جمع کرا دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے اس گروہ کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے نوجوانوں کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے۔

About