@thefikrist: Disclaimer: Video is for awareness purpose. Schopenhauer view on reality was quite different, he gloryify suffering, that's why he was a pessimistic philosopher. Follow for more!!! #foryou #foryoupage #fyp #philosophy #reality

The Fikrist
The Fikrist
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 25 February 2026 06:16:26 GMT
13032
1049
13
45

Music

Download

Comments

adeelkhan42597
Muhammad Adeel :
Sir learn about Hazrat Ali (R.A) quotes
2026-03-31 05:01:22
1
rawan98077
Jitendra Yadav ...,... :
exactly
2026-04-13 03:38:15
0
longbowkp
Long Bow :
سورۃ التین نازل ہی ان باتوں کی تردید کے لیے ہوئی تھی ۔
2026-02-25 17:35:17
1
aligull556
𝐍𝐎 𝐍𝐀𝐌𝐄 :
❤️❤️❤️
2026-02-25 06:44:30
1
balibaba2254
BB_ Bali (BKS) :
👌👌👌
2026-04-06 18:41:15
0
ravi.rv19
Ravi RV :
🥰🥰🥰
2026-03-18 08:49:45
0
the__raj1
Mr_Cyber :
💯💯💯
2026-03-21 08:27:08
0
dilbarali438
𝕯𝖎𝖑𝖇𝖆𝖗 𝕬𝖑𝖎✅🥇✍️ :
🥰🥰🥰
2026-03-18 15:04:45
0
dilbarali438
𝕯𝖎𝖑𝖇𝖆𝖗 𝕬𝖑𝖎✅🥇✍️ :
😎😎😎
2026-03-18 15:04:43
0
muzi33
Muzamil Mustafa :
🥰
2026-03-23 07:40:46
0
malak..janat..gul
𝐦Aℓⓐᵏ Sₐₐ𝚋🫴❤️‍🩹 :
🥰🥰🥰
2026-02-26 12:29:35
0
user698828995
Abdul Hadi Ghakhar :
🥰🥰🥰
2026-02-25 06:57:06
0
nassirmk346
nassirmk346 :
شوپن ہاور کا تصورِ زندگی انتہائی مردم بیزارانہ ہے۔ اگر ہم اسے صرف انسانی انا کے دائرے میں پرکھیں تو اس کی تشریح درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر جب ہر چیز کا طواف اسی ذاتی انا کے گرد ہو، تو باقی سب کچھ اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پورا کائناتی نظام، جس میں ہم سب موجود ہیں اور جس سے ہم جڑے ہیں، حقیقت میں ایک وحدت ہو — لیکن ہم اس سے بے خبر ہیں۔ ہم قطرہ نہیں، بلکہ سمندر ہیں جو "کُل" میں گم ہیں۔ یہاں ہر چیز ایک مکمل دانائی کے تحت تکمیل پا رہی ہے۔ ایک حقیقت دوسری، بڑی حقیقت میں بدل رہی ہے — یہ سلسلہ بعض اوقات اذیت بھی پہنچاتا ہے۔ جیسا کہ مولانا رومي نے فرمایا: "پہلے ہم جمادات تھے، پھر مردہ ہو کر نباتات بنے، پھر نباتات سے حیوانات ہوئے، اور آخر میں انسان۔" (ماخوذ از: مثنوی معنوی، دفتر سوم، ابیات 3901–3906) رومی کے مطابق، انسان وہ مقام ہے جہاں فہم بھی ہے اور پیٹ بھی۔ اور یہی انسان مر کر پھر جمادات (خاک) میں لوٹ جاتا ہے۔ پھر وہ سوال اٹھاتے ہیں: "کیا کبھی ہمارے شعور کی ارتقا اس نہ ختم ہونے والے چکر سے نکل کر ملکوتی دائرے تک رسائی پائے گی، یا ہم ہمیشہ ناپختہ باغیچۂ اطفال میں ہی پھنسے رہیں گے؟" (رومی کا یہ خیال ان کے دیوان شمس تبریز اور مثنوی میں بار بار آیا ہے — خاص طور پر وہ اشعار جہاں وہ "موت سے پہلے مرنے" اور "قبضِ روحِ صغریٰ و کبریٰ" کا ذکر کرتے ہیں۔) --- ایک ضمنی نوٹ (Side Note): یہاں نطشے کا ایک اہم تصور ذہن میں آتا ہے جسے "Eternal Recurrence" (ابدی تکرار) کہتے ہیں۔ نطشے پوچھتے ہیں: اگر وہی زندگی، جس جذبے سے گزاری گئی، ایک لامحدود تسلسل بن جائے — تو کیا ہمیں یاس اور افسوس کا ماتم منانے کے سوا کوئی چارہ رہے گا؟ یا یہ کہ اسی افسوس کا لامحدود بار دہرایا جانا ایک المیے سے بھی بڑھ کر عذاب نہ ہوگا؟ (نطشے کا یہ خیال ان کی کتاب Thus Spoke Zarathustra ("چنانچہ گفت زرتشت") اور The Gay Science ("خوش علم") میں تفصیل سے آیا ہے۔)
2026-04-03 09:03:37
0
To see more videos from user @thefikrist, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About