@paygham_e_sarosh: Explanations ⬇️ کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں معانی: حقیقتِ منتظر: جس حقیقت کا انتظار ہے ۔ لباسِ مجاز: یعنی جسم والا وجود ۔ تڑپ رہے ہیں : بے چین ہیں ۔ جبینِ نیاز: عاجزی اور انکساری والی پیشانی ۔ مطلب: اقبال نے رب ذوالجلال کو خطاب کر کے کہا ہے کہ اے مالک حقیقی ! تو نے خود ابتدائے آفرینش سے حجاب میں چھپا رکھا ہے ۔ لیکن تیرے بندے دیدار کے لیے ترس رہے ہیں لہذا اب ضروری ہو گیا ہے کہ حجاب سے نکل کر مجازی شکل اختیار لے کہ میری عجز و انکسار میں ڈوبی ہوئی پیشانی میں ہزار ہا سجدے مضطرب و منتظر ہیں کہ کب تو سامنے ہو اور ہم سجدہ ریز ہو جائیں ۔ تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں معانی: شکستہ ہو: عشق کی چوٹ کھانے کی حالت ۔ عزیز تر: زیادہ پیارا، پسندیدہ ۔ آئنہ ساز: خدا ۔ معانی: اے محبوب! تیرا دل بے شک ایک آئینے کی مانند ہے یہ بھی فطری امر ہے کہ تو اسے ٹوٹنے سے بچا رہا ہے لیکن یہ عمل شاید مفید نہ ہو کہ جب دل ٹوٹ جاتا ہے تو باری تعالیٰ کی نگاہوں میں زیادہ عزیز تر ہو جاتاہے ۔ جو میں سربسجدہ ہُوا کبھی تو ز میں سے آنے لگی صدا ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں معانی: سربسجدہ: سجدے کی حالت ۔ صدا : یعنی غیبی آواز، ضمیر کی آواز ۔ صنم آشنا: بتوں کا عاشق، دنیاوی خلائق کی محبت میں گرفتار ۔ کیا ملے گا: یعنی اس حالت میں یہ بے فائدہ عمل ہے ۔ مطلب: اپنی بے عملی کے باوجود میں اگر کبھی سجدہ ریز ہوا تو زمین سے یہ آواز آتی سنائی دی کہ دل تو تیرا بتوں کا پرستار ہے پھر تجھے اس نماز میں آخر کیا ملے گا کہ خلوص کے بغیر کوئی عمل درست نہیں ہوتا ۔ #allamaiqbalpoetry #allamaiqbal #Ramadan #urdupoetrydeeplines #allamaiqbal