@barbi.sequeira2: #paratiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii #parati

BarbiSequeira 💘
BarbiSequeira 💘
Open In TikTok:
Region: AR
Thursday 26 February 2026 18:02:30 GMT
826
74
3
0

Music

Download

Comments

riquelmerodrugo
jp :
cosita hermosa
2026-02-26 18:30:23
0
carlosrodriges046
Emanuel Rodriges :
🥰🥰🥰
2026-02-26 18:17:01
0
f.facalhotmail.com
Fabián Fabián :
❤️❤️❤️
2026-02-26 18:19:30
0
To see more videos from user @barbi.sequeira2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جرائم پیشہ عناصر کے لیے خوف عام شہری کے لیے امید... سہیل ظفر چٹھہ جیسے افسر کیوں اہم ہیں؟ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر رائے دینا آسان ہےلیکن کسی ادارے کی اصل اہمیت ان لوگوں سے پوچھنی چاہیے جو برسوں تک جرائم پیشہ عناصر کی دھونس بدمعاشی بھتہ خوری اور خوف کا شکار رہے ہوں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار خطرناک عناصر موجود رہے ہیں جو اپنے جرائم کے ریکارڈ اثر و رسوخ اور خوف کی بنیاد پر شریف شہریوں کو ہراساں کرتے تھے بھتے مانگتے تھے دھمکاتے تھے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے۔ ایسے حالات میں جب ریاست مؤثر انداز میں حرکت میں آتی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ قانون ان تک پہنچ سکتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ عام شہری کو ہوتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے جرائم کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ جتنا میں نے ان کے بارے میں جانا ہے وہ سفارش سے زیادہ میرٹ پر یقین رکھنے والے افسر ہیں۔ وہ ایسے افسران اور جوانوں کو پسند کرتے ہیں جو میدان میں اتر کر نتائج دیں خطرات کا سامنا کریں اور اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کریں۔ سہیل ظفر چٹھہ کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم میں ایسا اعتماد پیدا کیا ہے جس کے باعث نوجوان افسران اور جوان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ لوگ روزانہ ایسے خطرناک عناصر کا سامنا کرتے ہیں جن کے پاس اسلحہ اثر و رسوخ اور مجرمانہ نیٹ ورک موجود ہوتے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران صرف ان کی اپنی جان ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان بھی مختلف خطرات اور دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود فرض شناسی کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہنا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ سی سی ڈی کی اصل اہمیت ان لوگوں سے پوچھیں جو ایسے مجرموں سے متاثر رہے ہیں جو اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے اور بھتہ وصول کرتے تھے۔ میں ذاتی طور پر ایسے متعدد افراد کو جانتا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں نے انہیں تحفظ کا احساس دیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے جرائم پیشہ افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلے کی نسبت زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یقیناً ہر مقدمہ فوری طور پر حل نہیں ہو پاتا اور بعض سنگین کیسز آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ماچھیکے فاروق آباد کے قریب فیملی کے سامنے قتل ہونے والے دو برطانوی پاکستانی بھائیوں کا دلخراش واقعہ بھی انہی میں شامل ہے۔ اس کیس کے حوالے سے میری پوسٹ پر خود سہیل ظفر چٹھہ صاحب نے رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ سی سی ڈی اس معاملے پر کام کر رہی ہے اور امید ہے کہ ملزمان جلد گرفتار ہوں گے۔ اس سے کم از کم یہ احساس ضرور ہوا کہ متاثرین کی آواز سنی جا رہی ہے اور معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا۔ میری خواہش ہے کہ ماچھیکے کیس سمیت تمام ایسے مقدمات کو زندہ رکھا جائے اور ان کے قاتلوں کو ٹریس کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ متاثرہ خاندانوں کے زخموں کا احترام اور انہیں انصاف کی فراہمی ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مجموعی تصویر کو دیکھا جائے۔ اگر کسی افسر اور اس کی ٹیم کی مسلسل محنت جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت جرائم پیشہ عناصر کے لیے ماحول مشکل ہوتا ہے عام شہری زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں اور قانون کی رٹ مضبوط ہوتی ہے تو ایسے کام کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سہیل ظفر چٹھہ ان کی پوری ٹیم اور ان تمام نوجوان افسران و جوانوں کو سلامت رکھے جو دن رات اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے لوگ صرف ایک محکمہ نہیں بلکہ معاشرے کے اعتماد کی علامت ہوتے ہیں۔ Sohail Zafar Chattha Crime Control Department - CCD Punjab I.G Punjab Office in Lahore.
جرائم پیشہ عناصر کے لیے خوف عام شہری کے لیے امید... سہیل ظفر چٹھہ جیسے افسر کیوں اہم ہیں؟ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر رائے دینا آسان ہےلیکن کسی ادارے کی اصل اہمیت ان لوگوں سے پوچھنی چاہیے جو برسوں تک جرائم پیشہ عناصر کی دھونس بدمعاشی بھتہ خوری اور خوف کا شکار رہے ہوں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار خطرناک عناصر موجود رہے ہیں جو اپنے جرائم کے ریکارڈ اثر و رسوخ اور خوف کی بنیاد پر شریف شہریوں کو ہراساں کرتے تھے بھتے مانگتے تھے دھمکاتے تھے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے۔ ایسے حالات میں جب ریاست مؤثر انداز میں حرکت میں آتی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ قانون ان تک پہنچ سکتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ عام شہری کو ہوتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے جرائم کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ جتنا میں نے ان کے بارے میں جانا ہے وہ سفارش سے زیادہ میرٹ پر یقین رکھنے والے افسر ہیں۔ وہ ایسے افسران اور جوانوں کو پسند کرتے ہیں جو میدان میں اتر کر نتائج دیں خطرات کا سامنا کریں اور اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کریں۔ سہیل ظفر چٹھہ کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم میں ایسا اعتماد پیدا کیا ہے جس کے باعث نوجوان افسران اور جوان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ لوگ روزانہ ایسے خطرناک عناصر کا سامنا کرتے ہیں جن کے پاس اسلحہ اثر و رسوخ اور مجرمانہ نیٹ ورک موجود ہوتے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران صرف ان کی اپنی جان ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان بھی مختلف خطرات اور دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود فرض شناسی کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہنا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ سی سی ڈی کی اصل اہمیت ان لوگوں سے پوچھیں جو ایسے مجرموں سے متاثر رہے ہیں جو اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے اور بھتہ وصول کرتے تھے۔ میں ذاتی طور پر ایسے متعدد افراد کو جانتا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں نے انہیں تحفظ کا احساس دیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے جرائم پیشہ افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلے کی نسبت زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یقیناً ہر مقدمہ فوری طور پر حل نہیں ہو پاتا اور بعض سنگین کیسز آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ماچھیکے فاروق آباد کے قریب فیملی کے سامنے قتل ہونے والے دو برطانوی پاکستانی بھائیوں کا دلخراش واقعہ بھی انہی میں شامل ہے۔ اس کیس کے حوالے سے میری پوسٹ پر خود سہیل ظفر چٹھہ صاحب نے رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ سی سی ڈی اس معاملے پر کام کر رہی ہے اور امید ہے کہ ملزمان جلد گرفتار ہوں گے۔ اس سے کم از کم یہ احساس ضرور ہوا کہ متاثرین کی آواز سنی جا رہی ہے اور معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا۔ میری خواہش ہے کہ ماچھیکے کیس سمیت تمام ایسے مقدمات کو زندہ رکھا جائے اور ان کے قاتلوں کو ٹریس کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ متاثرہ خاندانوں کے زخموں کا احترام اور انہیں انصاف کی فراہمی ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مجموعی تصویر کو دیکھا جائے۔ اگر کسی افسر اور اس کی ٹیم کی مسلسل محنت جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت جرائم پیشہ عناصر کے لیے ماحول مشکل ہوتا ہے عام شہری زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں اور قانون کی رٹ مضبوط ہوتی ہے تو ایسے کام کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سہیل ظفر چٹھہ ان کی پوری ٹیم اور ان تمام نوجوان افسران و جوانوں کو سلامت رکھے جو دن رات اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے لوگ صرف ایک محکمہ نہیں بلکہ معاشرے کے اعتماد کی علامت ہوتے ہیں۔ Sohail Zafar Chattha Crime Control Department - CCD Punjab I.G Punjab Office in Lahore.

About