@saleem_khann111: خونی نہر کی سب سے آخری اور خطرناک ہیڈ مانجھا 1965والا واقع اللہ معاف کرے😱😭#mailsiking1👑 #foruyou #foryoupage❤️❤️ #unffrezmyaccountt😭😭🥹 #growmyaccount✅♥️♥️♥️
@Ameer hamza:در اصل اس میں کچھ ہوا یوں تھا کہ
ایک فیملی ائی تھی گھومنے جس میں دو بہنیں ایک بھائی اور انکے امی ابو تھیں،
مغرب تک یہ یہیں بیٹھے رہے
کچھ اندھیرا ہوا تو وہ گھر چلے گے جب گھر پہنچ کر کھانا کھانے لگے کہ انکے ابو کا بٹوا گھم ہوچکا تھا تو انکا ابو واپس ایا نو٩ بجے کا ٹائم تھا پارک میں بٹوا نہیں ملا تو اسنے چوکیدار سے پوچھا۔ چوکیدار نہیں کہا کہ ہزاروں فیملیاں اتی جاتی ہیں اب مجھے کیا پتا کہ اپ کا بٹوا کہا ہے تو وہاں سے جانے لگا کہ اسکو یاد ایا کہ اسنے اپنا بٹوا تو اسنے اپنی بیٹی کےپرس میں رکھا تھا تو یہ واپس گھر اگیا اسکے بعد جسنے یہ کمنٹ پڑھا اسکا ٹائم ضائع ہوگیا 😳
2026-03-04 12:38:52
29
♥️♣️彡[ɪQʀᴀꜱʜᴏᴏ]彡♣️♥️ :
در اصل اس میں کچھ ہوا یوں تھا کہ
ایک فیملی ائی تھی گھومنے جس میں دو بہنیں ایک بھائی اور انکے امی ابو تھیں،
مغرب تک یہ یہیں بیٹھے رہے
کچھ اندھیرا ہوا تو وہ گھر چلے گے جب گھر پہنچ کر کھانا کھانے لگے کہ انکے ابو کا بٹوا گھم ہوچکا تھا تو انکا ابو واپس ایا نو٩ بجے کا ٹائم تھا پارک میں بٹوا نہیں ملا تو اسنے چوکیدار سے پوچھا۔ چوکیدار نہیں کہا کہ ہزاروں فیملیاں اتی جاتی ہیں اب مجھے کیا پتا کہ اپ کا بٹوا کہا ہے تو وہاں سے جانے لگا کہ اسکو یاد ایا کہ اسنے اپنا بٹوا تو اسنے اپنی بیٹی کےپرس میں رکھا تھا تو یہ واپس گھر اگیا اسکے بعد جسنے یہ کمنٹ پڑھا اسکا ٹائم ضائع ہوگیا 😳
2026-03-05 06:39:32
22
𝙋𝙐𝙍𝙀 𝙆𝙖𝙎𝙃𝙈𝙞𝙍𝙞 :
mujy pora waqy ka pata ha
2026-03-03 07:26:21
19
RANA WALEED :
@꧁༺A.B.D.U༻꧂FF:@shahreenshan 😘❣️:کہا جاتا ہے کہ ایک سنسان رات میں، جب آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور نہر کے کنارے ہوائیں سیٹیاں بجا رہی تھیں، لوگوں نے پانی میں کچھ عجیب سا تیرتا ہوا دیکھا۔ پہلے تو سب نے اسے کوئی کپڑا یا لاش سمجھا، مگر جب قریب جا کر دیکھا تو ہر کسی کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایک بچہ تھا… لیکن عام بچہ نہیں۔ اس کے دو سر تھے — اور سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ زندہ تھا۔ دونوں چہروں کی آنکھیں کھلی تھیں، جیسے وہ خاموشی سے سب کو گھور رہا ہو۔
کہتے ہیں کہ اس بچے کے دونوں سروں کے ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے وہ آہستہ آہستہ کچھ سرگوشی کر رہا ہو۔ نہر کے پانی میں عجیب سی بدبو پھیل گئی تھی اور فضا میں ایک انجان سا خوف تیرنے لگا تھا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے، مگر ایک فیملی، جو اولاد سے محروم تھی، اسے “اللہ کی نشانی” سمجھ کر اپنے گھر لے گئی۔
شروع میں محلے والوں کو لگا کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں، مگر اسی رات اس گھر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کبھی بچے کے رونے کی آواز، کبھی دو مختلف لہجوں میں ہنسی، اور کبھی دیواروں پر کسی کے ناخن رگڑنے جیسی خراشیں۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ آدھی رات کو اس گھر کی کھڑکیوں میں دو مختلف سائے نظر آتے تھے، جو ایک دوسرے سے الگ حرکت کر رہے ہوتے تھے۔
اگلی صبح افواہیں پھیل گئیں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب پولیس دوسرے دن اس فیملی کے گھر پہنچی تو دروازہ اندر سے لاک تھا۔ بار بار دستک دینے کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔ آخرکار دروازہ توڑ دیا گیا۔
اندر کا منظر دیکھ کر پولیس والوں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ گھر مکمل طور پر خالی تھا۔ نہ کوئی فیملی، نہ وہ بچہ۔ صرف دیواروں پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کسی نے گیلے ہاتھوں سے بار بار دیوار کو چھوا ہو۔ فرش پر پانی کے نشان تھے جو کمرے کے بیچ جا کر اچانک غائب ہو جاتے تھے… جیسے کوئی چیز ہوا میں تحلیل ہوگئی ہو۔
گھر کی دیوار پر سرخ رنگ سے ایک جملہ لکھا تھا: “ہم واپس آئیں گے…”
آج تک نہ اس فیملی کا کوئی سراغ ملا، نہ اس دو سروں والے بچے کا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ نہر اب بھی رات کو سرگوشیاں کرتی ہے۔ اور جو بھی آدھی رات کے بعد وہاں جاتا ہے، اسے پانی میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آتی ہیں… جو اندھیرے میں گھور رہی ہوتی ہیں۔ 😱
2026-03-07 09:08:55
20
Amir Hamza :
خونی نہر — ایک دردناک کہانی
1947 کا سال برصغیر کے لوگوں کے لیے خوشی اور غم دونوں لے کر آیا۔ ایک طرف آزادی ملی، مگر دوسری طرف انسانیت کو بہت بڑے امتحان سے گزرنا پڑا۔ اسی سال برصغیر تقسیم ہوا جسے Partition of India کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے بعد لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔
انہی دنوں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ موجودہ Lahore کے قریب مغل پورہ کے علاقے میں پیش آیا۔ وہاں ایک نہر بہتی تھی جہاں سے مہاجرین کے قافلے گزرتے تھے۔ یہ قافلے ان لوگوں پر مشتمل تھے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک نئی زندگی کی امید میں پاکستان آ رہے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک دن ایک بڑا مہاجر قافلہ اس نہر کے قریب پہنچا۔ قافلے میں مرد، عورتیں، بوڑھے اور چھوٹے بچے شامل تھے۔ لوگ تھکے ہوئے تھے لیکن دل میں امید تھی کہ اب وہ ایک محفوظ جگہ کی طرف جا رہے ہیں۔
مگر اچانک حالات بدل گئے۔ راستے میں مسلح جتھوں نے قافلے پر حملہ کر دیا۔ ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ بے گناہ لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ کئی لوگ اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے نہر میں گر گئے اور بہت سی لاشیں نہر میں پھینک دی گئیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دن اتنا خون بہا کہ نہر کا پانی سرخ ہو گیا۔ اسی دردناک منظر کی وجہ سے بعد میں اس جگہ کو “خونی نہر” کہا جانے لگا۔
تقسیم کے دنوں میں اس طرح کے بے شمار سانحات پیش آئے جن میں لاکھوں انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ خونی نہر کا واقعہ بھی انہی سانحات میں سے ایک ہے جو آج بھی لوگوں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ نفرت اور تشدد انسانیت کو کس قدر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
2026-03-08 00:14:12
9
salomotion king 👑 :
1965ء کا واقعہ
1965ء میں پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران، کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر بہت سخت لڑائی ہوئی تھی۔ بعض روایات کے مطابق، جنگ کے دوران دونوں اطراف کے (خاص طور پر بھارتی فوج کے) بہت سے سپاہی اس نہر میں ڈوب کر یا مارے جا کر بہہ گئے تھے، جس کی وجہ سے اس کا پانی خون کی طرح سرخ ہو گیا تھا۔ اسی مناسبت سے لوگ اسے "خونی نہر" کہتے ہیں۔
یہ "خطرناک" کیوں کہلاتی ہے؟
تاریخی پس منظر: جنگ کی کہانیوں اور لوگوں کی ہلاکتوں نے اسے ایک خوفناک نام دے دیا ہے۔
موجودہ صورتحال: یہ جگہ پانی کی تیز رفتاری اور "سائفن" (Syphon) سسٹم کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہے۔ یہاں پانی زمین کے نیچے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے پانی کا اندرونی کھچاؤ (Undercurrent) بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں گر جائے، تو اس کا بچ کر نکلنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
یہ جگہ اب ایک تفریحی مقام کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے، لیکن ویڈیو میں جو خوفناک موسیقی اور تحریر استعمال کی گئی ہے، وہ اسے خطرناک ثابت کرنے کے لیے ہے۔
کیا آپ اس علاقے کی مزید تاریخ یا 1965ء کی جنگ کے دیگر واقعات کے بارے میں جاننا چاہیں گے؟ تو مجهے follow کروہ
2026-03-07 07:34:17
7
Noor Fatima 🤩🥰😍🥰 :
nahi pata kio bata da
2026-03-04 00:24:03
10
m wahaj :
humy b bta do plz plz plz😳😳
2026-03-03 02:49:23
7
Ali Khan :
کہا جاتا ہے کہ ایک سنسان رات میں، جب آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور نہر کے کنارے ہوائیں سیٹیاں بجا رہی تھیں، لوگوں نے پانی میں کچھ عجیب سا تیرتا ہوا دیکھا۔ پہلے تو سب نے اسے کوئی کپڑا یا لاش سمجھا، مگر جب قریب جا کر دیکھا تو ہر کسی کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایک بچہ تھا… لیکن عام بچہ نہیں۔ اس کے دو سر تھے — اور سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ زندہ تھا۔ دونوں چہروں کی آنکھیں کھلی تھیں، جیسے وہ خاموشی سے سب کو گھور رہا ہو۔
کہتے ہیں کہ اس بچے کے دونوں سروں کے ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے وہ آہستہ آہستہ کچھ سرگوشی کر رہا ہو۔ نہر کے پانی میں عجیب سی بدبو پھیل گئی تھی اور فضا میں ایک انجان سا خوف تیرنے لگا تھا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے، مگر ایک فیملی، جو اولاد سے محروم تھی، اسے “اللہ کی نشانی” سمجھ کر اپنے گھر لے گئی۔
شروع میں محلے والوں کو لگا کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں، مگر اسی رات اس گھر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کبھی بچے کے رونے کی آواز، کبھی دو مختلف لہجوں میں ہنسی، اور کبھی دیواروں پر کسی کے ناخن رگڑنے جیسی خراشیں۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ آدھی رات کو اس گھر کی کھڑکیوں میں دو مختلف سائے نظر آتے تھے، جو ایک دوسرے سے الگ حرکت کر رہے ہوتے تھے۔
اگلی صبح افواہیں پھیل گئیں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب پولیس دوسرے دن اس فیملی کے گھر پہنچی تو دروازہ اندر سے لاک تھا۔ بار بار دستک دینے کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔ آخرکار دروازہ توڑ دیا گیا۔
اندر کا منظر دیکھ کر پولیس والوں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ گھر مکمل طور پر خالی تھا۔ نہ کوئی فیملی، نہ وہ بچہ۔ صرف دیواروں پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کسی نے گیلے ہاتھوں سے بار بار دیوار کو چھوا ہو۔ فرش پر پانی کے نشان تھے جو کمرے کے بیچ جا کر اچانک غائب ہو جاتے تھے… جیسے کوئی چیز ہوا میں تحلیل ہوگئی ہو۔
گھر کی دیوار پر سرخ رنگ سے ایک جملہ لکھا تھا: “ہم واپس آئیں گے…”
آج تک نہ اس فیملی کا کوئی سراغ ملا، نہ اس دو سروں والے بچے کا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ نہر اب بھی رات کو سرگوشیاں کرتی ہے۔ اور جو بھی آدھی رات کے بعد وہاں جاتا ہے، اسے پانی میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آتی ہیں… جو اندھیرے میں گھور رہی ہوتی ہیں۔ 😱
2026-03-05 16:08:27
3
kids cartoon 🥰 :
yr ya such ha kyaa
2026-03-04 11:02:18
3
Ittz_me_AMAR01 :
:در اصل اس میں کچھ ہوا یوں تھا کہ
ایک فیملی ائی تھی گھومنے جس میں دو بہنیں ایک بھائی اور انکے امی ابو تھیں،
مغرب تک یہ یہیں بیٹھے رہے
کچ
2026-03-06 17:16:40
4
JK👀 :
در اصل اس میں کچھ ہوا یوں تھا کہ
ایک فیملی ائی تھی گھومنے جس میں دو بہنیں ایک بھائی اور انکے امی ابو تھیں،
مغرب تک یہ یہیں بیٹھے رہے
کچھ اندھیرا ہوا تو وہ گھر چلے گے جب گھر پہنچ کر کھانا کھانے لگے کہ انکے ابو کا بٹوا گھم ہوچکا تھا تو انکا ابو واپس ایا نو٩ بجے کا ٹائم تھا پارک میں بٹوا نہیں ملا تو اسنے چوکیدار سے پوچھا۔ چوکیدار نہیں کہا کہ ہزاروں فیملیاں اتی جاتی ہیں اب مجھے کیا پتا کہ اپ کا بٹوا کہا ہے تو وہاں سے جانے لگا کہ اسکو یاد ایا کہ اسنے اپنا بٹوا تو اسنے اپنی بیٹی کےپرس میں رکھا تھا تو یہ واپس گھر اگیا اسکے بعد جسنے یہ کمنٹ پڑھا اسکا ٹائم ضائع ہوگیا 😳
2026-03-07 07:32:06
2
AWARA ⁹⁹ :
یک بار میں اپنے دادا دادی سے ملنے گاؤں گیا تھا ـ اس وقت میں شاید ہی کوئی 10 سال کا تھا ـ میری دادی نے کہا بیٹا ایک دن آ ۓ گا ـ جب لوگ تیرا کمنٹ پڑھ کر اپنا وقت ضائع کریں گے ـ بالآخر آج وہ دن آ ہی گیا ـ
لائک کر دو اگر پڑ لیا ہے تو🙂
2026-03-06 16:45:37
16
(:; RãüF:;) Kûläçhï? 👍❤️🩹 :
ایک دن میں اپنی نانی کے گھر گیا تھا میری نانی نے کہا تھا کہ ایک دن ایسا ائے گا کہ لوگ تمہارا کمنٹ پڑھیں گے اور اپنا ٹائم ضائع کریں گے🥰🥰😂😂😂😂
2026-03-05 15:54:02
6
⛎Rana Arslan⛎ :
:کہا جاتا ہے کہ ایک سنسان رات میں، جب آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور نہر کے کنارے ہوائیں سیٹیاں بجا رہی تھیں، لوگوں نے پانی میں کچھ عجیب سا تیرتا ہوا دیکھا۔ پہلے تو سب نے اسے کوئی کپڑا یا لاش سمجھا، مگر جب قریب جا کر دیکھا تو ہر کسی کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایک بچہ تھا… لیکن عام بچہ نہیں۔ اس کے دو سر تھے — اور سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ زندہ تھا۔ دونوں چہروں کی آنکھیں کھلی تھیں، جیسے وہ خاموشی سے سب کو گھور رہا ہو۔
کہتے ہیں کہ اس بچے کے دونوں سروں کے ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے وہ آہستہ آہستہ کچھ سرگوشی کر رہا ہو۔ نہر کے پانی میں عجیب سی بدبو پھیل گئی تھی اور فضا میں ایک انجان سا خوف تیرنے لگا تھا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے، مگر ایک فیملی، جو اولاد سے محروم تھی، اسے “اللہ کی نشانی” سمجھ کر اپنے گھر لے گئی۔
شروع میں محلے والوں کو لگا کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں، مگر اسی رات اس گھر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کبھی بچے کے رونے کی آواز، کبھی دو مختلف لہجوں میں ہنسی، اور کبھی دیواروں پر کسی کے ناخن رگڑنے جیسی خراشیں۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ آدھی رات کو اس گھر کی کھڑکیوں میں دو مختلف سائے نظر آتے تھے، جو ایک دوسرے سے الگ حرکت کر رہے ہوتے تھے۔
اگلی صبح افواہیں پھیل گئیں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب پولیس دوسرے دن اس فیملی کے گھر پہنچی تو دروازہ اندر سے لاک تھا۔ بار بار دستک دینے کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔ آخرکار دروازہ توڑ دیا گیا۔
اندر کا منظر دیکھ کر پولیس والوں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ گھر مکمل طور پر خالی تھا۔ نہ کوئی فیملی، نہ وہ بچہ۔ صرف دیواروں پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کسی نے گیلے ہاتھوں سے بار بار دیوار کو چھوا ہو۔ فرش پر پانی کے نشان تھے جو کمرے کے بیچ جا کر اچانک غائب ہو جاتے تھے… جیسے کوئی چیز ہوا میں تحلیل ہوگئی ہو۔
گھر کی دیوار پر سرخ رنگ سے ایک جملہ لکھا تھا: “ہم واپس آئیں گے…”
آج تک نہ اس فیملی کا کوئی سراغ ملا، نہ اس دو سروں والے بچے کا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ نہر اب بھی رات کو سرگوشیاں کرتی ہے۔ اور جو بھی آدھی رات کے بعد وہاں جاتا ہے، اسے پانی میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آتی ہیں… جو اندھیرے میں گھور رہی ہوتی ہیں۔ 😱
2026-03-06 12:42:00
4
MUIZZGAMING23 :
در اصل اس میں کچھ ہوا یوں تھا کہ
ایک فیملی ائی تھی گھومنے جس میں دو بہنیں ایک بھائی اور انکے امی ابو تھیں،
مغرب تک یہ یہیں بیٹھے رہے
کچھ اندھیرا ہوا تو وہ گھر چلے گے جب گھر پہنچ کر کھانا کھانے لگے کہ انکے ابو کا بٹوا گھم ہوچکا تھا تو انکا ابو واپس ایا نو٩ بجے کا ٹائم تھا پارک میں بٹوا نہیں ملا تو اسنے چوکیدار سے پوچھا۔ چوکیدار نہیں کہا کہ ہزاروں فیملیاں اتی جاتی ہیں اب مجھے کیا پتا کہ اپ کا بٹوا کہا ہے تو وہاں سے جانے لگا کہ اسکو یاد ایا کہ اسنے اپنا بٹوا تو اسنے اپنی بیٹی کےپرس میں رکھا تھا تو یہ واپس گھر اگیا اسکے بعد جسنے یہ کمنٹ پڑھا اسکا ٹائم ضائع ہوگیا 😳
2026-03-06 17:00:45
3
CHITRALI XD :
.:در اصل اس میں کچھ ہوا یوں تھا کہ
ایک فیملی ائی تھی گھومنے جس میں دو بہنیں ایک بھائی اور انکے امی ابو تھیں،
مغرب تک یہ یہیں بیٹھے رہے
کچھ اندھیرا ہوا تو وہ گھر چلے گے جب گھر پہنچ کر کھانا کھانے لگے کہ انکے ابو کا بٹوا گھم ہوچکا تھا تو انکا ابو واپس ایا نو٩ بجے کا ٹائم تھا پارک میں بٹوا نہیں ملا تو اسنے چوکیدار سے پوچھا۔ چوکیدار نہیں کہا کہ ہزاروں فیملیاں اتی جاتی ہیں اب مجھے کیا پتا کہ اپ کا بٹوا کہا ہے تو وہاں سے جانے لگا کہ اسکو یاد ایا کہ اسنے اپنا بٹوا تو اسنے اپنی بیٹی کےپرس میں رکھا تھا تو یہ واپس گھر اگیا اسکے بعد جسنے یہ کمنٹ پڑھا اسکا ٹائم ضائع ہوگیا 😳
2026-03-06 07:40:38
1
👻🅰️🅱️ÏDÔõ🥹 :
:کہا جاتا ہے کہ ایک سنسان رات میں، جب آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور نہر کے کنارے ہوائیں سیٹیاں بجا رہی تھیں، لوگوں نے پانی میں کچھ عجیب سا تیرتا ہوا دیکھا۔ پہلے تو سب نے اسے کوئی کپڑا یا لاش سمجھا، مگر جب قریب جا کر دیکھا تو ہر کسی کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایک بچہ تھا… لیکن عام بچہ نہیں۔ اس کے دو سر تھے — اور سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ زندہ تھا۔ دونوں چہروں کی آنکھیں کھلی تھیں، جیسے وہ خاموشی سے سب کو گھور رہا ہو۔
کہتے ہیں کہ اس بچے کے دونوں سروں کے ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے وہ آہستہ آہستہ کچھ سرگوشی کر رہا ہو۔ نہر کے پانی میں عجیب سی بدبو پھیل گئی تھی اور فضا میں ایک انجان سا خوف تیرنے لگا تھا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے، مگر ایک فیملی، جو اولاد سے محروم تھی، اسے “اللہ کی نشانی” سمجھ کر اپنے گھر لے گئی۔
شروع میں محلے والوں کو لگا کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں، مگر اسی رات اس گھر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کبھی بچے کے رونے کی آواز، کبھی دو مختلف لہجوں میں ہنسی، اور کبھی دیواروں پر کسی کے ناخن رگڑنے جیسی خراشیں۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ آدھی رات کو اس گھر کی کھڑکیوں میں دو مختلف سائے نظر آتے تھے، جو ایک دوسرے سے الگ حرکت کر رہے ہوتے تھے۔
اگلی صبح افواہیں پھیل گئیں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب پولیس دوسرے دن اس فیملی کے گھر پہنچی تو دروازہ اندر سے لاک تھا۔ بار بار دستک دینے کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔ آخرکار دروازہ توڑ دیا گیا۔
اندر کا منظر دیکھ کر پولیس والوں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ گھر مکمل طور پر خالی تھا۔ نہ کوئی فیملی، نہ وہ بچہ۔ صرف دیواروں پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کسی نے گیلے ہاتھوں سے بار بار دیوار کو چھوا ہو۔ فرش پر پانی کے نشان تھے جو کمرے کے بیچ جا کر اچانک غائب ہو جاتے تھے… جیسے کوئی چیز ہوا میں تحلیل ہوگئی ہو۔
گھر کی دیوار پر سرخ رنگ سے ایک جملہ لکھا تھا: “ہم واپس آئیں گے…”
آج تک نہ اس فیملی کا کوئی سراغ ملا، نہ اس دو سروں والے بچے کا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ نہر اب بھی رات کو سرگوشیاں کرتی ہے۔ اور جو بھی آدھی رات کے بعد وہاں جاتا ہے، اسے پانی میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آتی ہیں… جو اندھیرے میں گھور رہی ہوتی ہیں۔ 😱
2026-03-05 04:32:35
3
🇩illbar 🇯 an :
کہا جاتا ہے کہ ایک سنسان رات میں، جب آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور نہر کے کنارے ہوائیں سیٹیاں بجا رہی تھیں، لوگوں نے پانی میں کچھ عجیب سا تیرتا ہوا دیکھا۔ پہلے تو سب نے اسے کوئی کپڑا یا لاش سمجھا، مگر جب قریب جا کر دیکھا تو ہر کسی کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایک بچہ تھا… لیکن عام بچہ نہیں۔ اس کے دو سر تھے — اور سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ زندہ تھا۔ دونوں چہروں کی آنکھیں کھلی تھیں، جیسے وہ خاموشی سے سب کو گھور رہا ہو۔
کہتے ہیں کہ اس بچے کے دونوں سروں کے ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے وہ آہستہ آہستہ کچھ سرگوشی کر رہا ہو۔ نہر کے پانی میں عجیب سی بدبو پھیل گئی تھی اور فضا میں ایک انجان سا خوف تیرنے لگا تھا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے، مگر ایک فیملی، جو اولاد سے محروم تھی، اسے “اللہ کی نشانی” سمجھ کر اپنے گھر لے گئی۔
شروع میں محلے والوں کو لگا کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں، مگر اسی رات اس گھر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کبھی بچے کے رونے کی آواز، کبھی دو مختلف لہجوں میں ہنسی، اور کبھی دیواروں پر کسی کے ناخن رگڑنے جیسی خراشیں۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ آدھی رات کو اس گھر کی کھڑکیوں میں دو مختلف سائے نظر آتے تھے، جو ایک دوسرے سے الگ حرکت کر رہے ہوتے تھے۔
اگلی صبح افواہیں پھیل گئیں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب پولیس دوسرے دن اس فیملی کے گھر پہنچی تو دروازہ اندر سے لاک تھا۔ بار بار دستک دینے کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔ آخرکار دروازہ توڑ دیا گیا۔
اندر کا منظر دیکھ کر پولیس والوں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ گھر مکمل طور پر خالی تھا۔ نہ کوئی فیملی، نہ وہ بچہ۔ صرف دیواروں پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کسی نے گیلے ہاتھوں سے بار بار دیوار کو چھوا ہو۔ فرش پر پانی کے نشان تھے جو کمرے کے بیچ جا کر اچانک غائب ہو جاتے تھے… جیسے کوئی چیز ہوا میں تحلیل ہوگئی ہو۔
گھر کی دیوار پر سرخ رنگ سے ایک جملہ لکھا تھا: “ہم واپس آئیں گے…”
آج تک نہ اس فیملی کا کوئی سراغ ملا، نہ اس دو سروں والے بچے کا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ نہر اب بھی رات کو سرگوشیاں کرتی ہے۔ اور جو بھی آدھی رات کے بعد وہاں جاتا ہے، اسے پانی میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آتی ہیں… جو اندھیرے میں گھور رہی ہوتی ہیں۔ 😱
2026-03-05 08:56:14
3
Muhammad Husnain :
kis jaga ha ya
2026-03-04 11:00:35
1
Ayesha Playz :
nahi pata
2026-03-04 00:52:50
2
khurrammalik165 :
ya kon si jaga ha
2026-03-03 07:58:31
3
Imran Hassan Bhutta :
Al mustafa school Mailsi
2026-03-04 15:36:43
1
A DevVine :
koi khas komant nahi hy my ny dekha hy nechy tak 😂😂 like kar dyna
2026-03-07 11:39:00
1
☠️☬𝓒𝓪𝓵𝓵 𝓶𝓮 𝓐𝔂𝔂𝓪𝓷☬☠️ :
ik dafa ka zikar ha ka comment parna Wala aye or dar gya 😂😂😂😂😂😂😂😂😂
2026-03-08 04:09:02
1
To see more videos from user @saleem_khann111, please go to the Tikwm
homepage.