@indhalotama: mabar fix partner kesekian, ud berani ya shela mempertanyakan “kenapa???”, terus gue juga berani “kok lu ga block sih?!” wkwkwkk gue suka nih kek gini, di lapanga saling ga baper, kawan error malah diledekin 😌💆🏻‍♀️ cheers to annother tourney april nanti, semoga error2 nya kita di mabar aja diabisin ya, gausa dibawa2 ke tourney wkwkwkwk , poke

Indha Lotama
Indha Lotama
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 03 March 2026 08:16:41 GMT
23180
119
3
2

Music

Download

Comments

ddrrrga
D i r g a :
Nice 👏👏 tinggal konsisten volley nya lebih berani placement ke tengah / lebih pojok2 👌
2026-03-03 09:34:11
0
vinvin__19
VinVin :
Hi kak boleh cek dm ya, aku menawarkan kerja sama. Thank you ✨
2026-03-04 12:49:53
0
sell11_8
⋆˚꩜ 𝑤𝑜𝑂𝑝sℎ𝑦。꩜˚ ⋆ :
keduaaa
2026-03-03 08:53:32
0
To see more videos from user @indhalotama, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

محبت کا سارا بوجھ آخر ایک ہی دل کے کاندھوں پر کیوں رکھا جائے؟ ہر بار وہی شخص اپنی انا کو تہہ کرکے، اپنے شکووں کو نگل کر، تعلق کی شکستہ دہلیز پر کیوں لوٹ آئے جسے بچھڑنے سے زیادہ کسی اپنے کے بدل جانے کا خوف ہو؟ کیا دوسرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں جاگتا کہ جس شخص نے ہمیشہ فاصلے مٹانے کی کوشش کی، وہ بھی کسی روز خاموشی کو اپنی آخری پناہ بنا سکتا ہے؟ عجیب دستور ہے کہ بعض لوگ کسی کی وفا کے اسیر تو رہنا چاہتے ہیں، مگر اُس وفا کے جواب میں اپنے قدم اٹھانا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی بے رخی کے باوجود کوئی اُنہیں چاہتا رہے، اُن کی خاموشی کے باوجود کوئی اُنہیں پکارتا رہے، اور اُن کی مسلسل لاتعلقی کے باوجود کوئی تعلق کی ڈور اپنے ہاتھوں سے چھوٹنے نہ دے۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جستجو ہمیشہ محبت کی محتاج رہتی ہے، عادت کی نہیں؛ اور جب کسی کو بار بار اپنی اہمیت ثابت کرنا پڑے تو ایک دن وہ محبت سے دست بردار نہیں ہوتا، بس اپنی ذات کو مزید رسوا ہونے سے بچا لیتا ہے۔ وفا کا مطلب یہ نہیں کہ ایک شخص عمر بھر راستہ دیکھتا رہے اور دوسرا اپنی بے نیازی کو محبت کا یقین سمجھتا رہے؛ کبھی تمہیں بھی اُس خاموش دل تک پہنچنا چاہیے جو ہر بار تمہارے قدموں کی آہٹ کا منتظر رہا، مگر اپنی محرومی کو کبھی تمہارے سامنے لفظوں میں نہ ڈھال سکا۔ 🥀
محبت کا سارا بوجھ آخر ایک ہی دل کے کاندھوں پر کیوں رکھا جائے؟ ہر بار وہی شخص اپنی انا کو تہہ کرکے، اپنے شکووں کو نگل کر، تعلق کی شکستہ دہلیز پر کیوں لوٹ آئے جسے بچھڑنے سے زیادہ کسی اپنے کے بدل جانے کا خوف ہو؟ کیا دوسرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں جاگتا کہ جس شخص نے ہمیشہ فاصلے مٹانے کی کوشش کی، وہ بھی کسی روز خاموشی کو اپنی آخری پناہ بنا سکتا ہے؟ عجیب دستور ہے کہ بعض لوگ کسی کی وفا کے اسیر تو رہنا چاہتے ہیں، مگر اُس وفا کے جواب میں اپنے قدم اٹھانا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی بے رخی کے باوجود کوئی اُنہیں چاہتا رہے، اُن کی خاموشی کے باوجود کوئی اُنہیں پکارتا رہے، اور اُن کی مسلسل لاتعلقی کے باوجود کوئی تعلق کی ڈور اپنے ہاتھوں سے چھوٹنے نہ دے۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جستجو ہمیشہ محبت کی محتاج رہتی ہے، عادت کی نہیں؛ اور جب کسی کو بار بار اپنی اہمیت ثابت کرنا پڑے تو ایک دن وہ محبت سے دست بردار نہیں ہوتا، بس اپنی ذات کو مزید رسوا ہونے سے بچا لیتا ہے۔ وفا کا مطلب یہ نہیں کہ ایک شخص عمر بھر راستہ دیکھتا رہے اور دوسرا اپنی بے نیازی کو محبت کا یقین سمجھتا رہے؛ کبھی تمہیں بھی اُس خاموش دل تک پہنچنا چاہیے جو ہر بار تمہارے قدموں کی آہٹ کا منتظر رہا، مگر اپنی محرومی کو کبھی تمہارے سامنے لفظوں میں نہ ڈھال سکا۔ 🥀

About