@zohaib_512_: دشمن جب کفر کے لبادے میں تھا تو اس نے جسموں پر وار کیے، مگر جب اسلام کا نام لیا تو اقتدار کی ہوس میں روح کو گھائل کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کفر کے زمانے میں جن لوگوں نے کلیجے چبانے جیسی وحشت کی، وہ ان کی کھلی دشمنی کا اعتراف تھا، لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب وہی ذہنیت بظاہر کلمہ پڑھ کر صفوں میں شامل ہوئی، تو انہوں نے خلافت کے نام پر نسلِ نبوت کے ساتھ وہ سلوک کیا جس پر انسانیت آج بھی سر جھکائے کھڑی ہے۔ یہ اس منافقت کا عروج تھا جس نے اپنوں کے روپ میں رہ کر امت کے جگر گوشوں کو خاک و خون میں تڑپایا۔ درحقیقت، ایک کھلے دشمن سے وہ منافق زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو دین کو اپنی ذاتی دشمنیوں اور مفادات کے لیے ڈھال بنا لے۔ آلِ رسولﷺ پر ڈھائے جانے والے مظالم اس بات کا ثبوت ہیں کہ دلوں کی کجی صرف گروہ بدل لینے سے ختم نہیں ہوتی۔ یہ دنیا آج بھی ایسے بہروپیوں سے بھری پڑی ہے جو بظاہر حق کے دعویدار بنتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ ہمیشہ مخلص لوگوں کے خون سے رنگے ہوتے ہیں۔ یہ وہ وحشت ہے جو کل بھی حق کو مٹانے پر تلی تھی اور آج بھی نئے روپ دھار کر جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکے۔