@tong.hien.tin: Actors who died in 2026 and no one noticed#ForgottenStars #CelebrityDeaths #2026InMemoriam #RobertCarradine #LindsayPearlman

Tong Hien Tin
Tong Hien Tin
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 07 March 2026 01:23:22 GMT
593
26
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @tong.hien.tin, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

صحابہ کرام اور اہل بیت کی شان میں گستاخی: سید علی زین بخاری کا شرمناک کرداراس ذلیل انسان سید علی زین بخاری نے، جس کی تصویر اوپر موجود ہے، انتہائی گھناؤنی زبان استعمال کرتے ہوئے یہ کہا کہ 'تم کیوں غم مناؤ گے حسین کا، کسی صحابی کا بیٹا تھوڑی قتل ہوا ہے'۔ یہ نہ صرف صحابہ کرام اور اہل بیتِ اطہار کی شان میں کھلی گستاخی ہے بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا ایک سنگین اقدام ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ صحابہ کرام اور اہل بیت کے بارے میں اس قسم کے توہین آمیز جملے بولنے والے اور معاشرے میں انتشار پھیلانے والے اس شخص کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک جسارت کرنے کی جرات نہ کر سکے تاریخِ اسلام کے مقدس اور محترم شخصیات، بالخصوص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت اطہار کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنا نہ صرف ایمان کا سودا ہے بلکہ معاشرتی امن کو برباد کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سید علی زین بخاری نامی شخص کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے انتہائی ڈھٹائی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہدائے کربلا اور صحابہ کرام کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے۔ سید علی زین بخاری کا یہ کہنا کہ
صحابہ کرام اور اہل بیت کی شان میں گستاخی: سید علی زین بخاری کا شرمناک کرداراس ذلیل انسان سید علی زین بخاری نے، جس کی تصویر اوپر موجود ہے، انتہائی گھناؤنی زبان استعمال کرتے ہوئے یہ کہا کہ 'تم کیوں غم مناؤ گے حسین کا، کسی صحابی کا بیٹا تھوڑی قتل ہوا ہے'۔ یہ نہ صرف صحابہ کرام اور اہل بیتِ اطہار کی شان میں کھلی گستاخی ہے بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا ایک سنگین اقدام ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ صحابہ کرام اور اہل بیت کے بارے میں اس قسم کے توہین آمیز جملے بولنے والے اور معاشرے میں انتشار پھیلانے والے اس شخص کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک جسارت کرنے کی جرات نہ کر سکے تاریخِ اسلام کے مقدس اور محترم شخصیات، بالخصوص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت اطہار کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنا نہ صرف ایمان کا سودا ہے بلکہ معاشرتی امن کو برباد کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سید علی زین بخاری نامی شخص کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے انتہائی ڈھٹائی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہدائے کربلا اور صحابہ کرام کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے۔ سید علی زین بخاری کا یہ کہنا کہ "تم کیوں غم مناؤ گے حسین کا، کسی صحابی کا بیٹا تھوڑی ہی قتل ہوا ہے"، اس کی اخلاقی پستی، اسلام دشمنی اور تاریخ سے مکمل لاعلمی کا ثبوت ہے۔ یہ شخص نہ صرف یہ بھول گیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ خود صحابیِ رسول ﷺ ہیں، بلکہ اس نے صحابہ کرام کی قربانیوں کو بھی ایک غیر سنجیدہ انداز میں پیش کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اس قسم کا بیان صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ یہ ایک گھنونی سازش ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے عقائد پر حملہ کرنا اور فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔ حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ: سید علی زین بخاری جیسے کرداروں کو کھلی چھوٹ دینا معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ: ۱. سید علی زین بخاری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اس پر "نفرت انگیز تقریر" (Hate Speech) اور "توہینِ صحابہ و اہل بیت" کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ ۲. اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک کیا جائے تاکہ وہ مزید زہرنہ اگلے #sayyedalizainbukharigustakhi #alizain #hukumatepakistan

About