@cotuyen_mn: Một video xinh yêu dùng cho hoạt động khám phá các hiện tượng tự nhiên nắng, gió, mưa dễ thương và gần gũi cho bé #giaovien #giaovienmamnon❤ #giaovienmamnon #gvmn_làem #gvmn🍀🍀✅ #gvmn #giaovientieuhoc #ai #vui

Đỗ Tuyển
Đỗ Tuyển
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 07 March 2026 06:21:03 GMT
5962
53
25
105

Music

Download

Comments

.huema2
Hue Ma :
Ib mình cần ạ
2026-04-03 03:50:05
1
b.xinh.p71
●~● :
cho c xin video với đc k e
2026-03-31 00:36:21
1
user5765536702238
user5765536702238 :
c cod giáo án ko
2026-03-18 12:50:20
1
30526239313
user241929 :
Cho mình xin video đc k ạ
2026-04-08 02:10:04
1
nhung_bon
Nhung :
C cho em xin video đc ko ạ
2026-03-31 12:47:06
1
hualinh93
Thùy Linh :
ib ạ
2026-03-28 05:42:24
1
userdiemem95
Cô Diễm Chuppy :
Cho minh xin video ạ
2026-04-08 00:06:25
1
mailan0040
Mai Lan :
Cho em xin video với ạ
2026-04-01 14:58:11
1
huynw_311
🩶Nomiss🩶 :
Cho em xin video với ạ
2026-03-30 13:53:05
1
huynh_0964
QUỲNH QUỲNH :
Cho e xin video với ạ
2026-03-23 22:09:27
1
huyn.phan723
11111 :
Cho mình xin giáo án với ak
2026-03-23 14:25:51
1
no27_10
Nghiêm Oanh :
Cho e xin video với ạ
2026-03-23 05:34:55
1
caheoxanh_02
em Mi :
Cô ơi rep Zalo e với ạ
2026-03-29 09:47:21
1
thuylaniu
Thuý Lann🎀 :
Cho em xin vd với ạ
2026-03-21 04:35:56
1
choocvuive
Mẹ win ❤️ :
Cho em xin video với ạ
2026-03-17 06:49:00
1
camgiang666
Cẩm Giang :
Ib ạ
2026-03-26 07:25:19
1
teppi11_09
Cô Ngân Mầm Non 🍀 :
Chi e xin video với ạ
2026-03-26 02:01:58
1
userdiemem95
Cô Diễm Chuppy :
Ib ạ
2026-03-17 12:04:55
1
le.van.ha8
🍀Hany Lê💖 :
Cho e xin video này với ạ
2026-03-10 02:50:50
1
userj9vod2vjn8
Mùa Thị May :
Cho xin video này với ạ
2026-03-09 12:51:45
1
bo.sting885
bảo sting :
😁
2026-03-27 03:14:53
1
chinhnguyen2889
Chinh Nguyễn 89 :
Cho e xin video với ạ. E cảm ơn cô
2026-03-15 16:13:30
1
userdiemem95
Cô Diễm Chuppy :
Cho mình xin video với ạ
2026-03-11 12:37:58
1
yennie0597
HoangYen97 :
Cho e xin video mới ạ
2026-03-10 05:15:09
1
To see more videos from user @cotuyen_mn, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#Turbat #Javidbus #transept #تربت (#گدروشیاپوائنٹ) جاوید ٹرانسپورٹ کی سلیپر بس کے مسافروں کو مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا، دورانِ سفر تین بار بس کو تبدیل کرکے دوسرے بس میں بیٹھنانے پر وقت کا ضیاع اور مشکلات سے دو چار رہے۔ تربت سے کراچی جانے والی جاوید ٹرانسپورٹ کی سلیپر بس کے مسافروں نے دورانِ سفر شدید مشکلات، تین بار بس تبدیل کرنے پر وقت کا ضیاع اور ذہنی اذیت کا سامنا رہا۔ مسافروں کے مطابق وہ صبح 7 بجے تربت سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے  7 بجے کراچی پہنچے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً دن کے 11 بجے گوادر زیرو پوائنٹ کے قریب بس تبدیل کردی گئی سامان سمیت مسافر دوسرے بس میں منتقل کیئے گئے جبکہ کراچی پہنچنے تک انہیں مجموعی طور پر تین بسیں تبدیل کرنا پڑیں۔ مسافروں کے مطابق سلیپر بس کا کرایہ عام بسوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے باوجود وہ آرام دہ اور بہتر سفری سہولت کی توقع میں اس سروس کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بس میں مریض، بچے اور بزرگ بھی سوار تھے، تاہم بار بار بس تبدیل کیے جانے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سیٹھ اقبال شاہ زئی کو نوٹس لینا چاہیئے۔ بس خراب تھی تو سفر کیلئے کیونکر نکالا گیا اور زیرو پوائنٹ پر تبدیل کیاگیا۔ اس طرح کے عمل سے ٹرانسپورٹ پر اعتماد ٹوٹ جاتاہے۔ مسافروں کے مطابق بس میں دشت  اور بلیدہ کے رہائشی دو  شدید بیمار خواتین مریضہ بھی سوار تھیں جو اپنی حالت کے باعث خود چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ بس تبدیل کرتے وقت دونوں مریض خواتین کو شدید تکلیف کے باوجود دو، دو افراد نے ہاتھ پکڑ کر دوسری بس میں منتقل کیا۔ مسافروں کے مطابق گوادر زیرو پوائنٹ پر بس تبدیل کرنے کی وجہ کے بارے میں ڈرائیور نے بتایا کہ اسے خود معلوم نہیں کہ بس کیوں تبدیل کی گئی جبکہ دوسری مرتبہ بتایا گیا کہ بس کا کلچ خراب ہوگیا ہے، جس کے باعث مسافروں کو دوسری بس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے یہ بھی بتایا کہ متبادل بس صرف بوانی تک جائے گی اور اس کے بعد کراچی کے ٹرانسپورٹ ٹرمینل تک نہیں جائے گی، کیونکہ بس میں ڈیزل کی کمی ہے اور وہ مزید سفر نہیں کرسکتی۔ مسافروں کے مطابق انہوں نے ڈرائیور سے کہا کہ مسافروں کو کراچی کے مقررہ ٹرانسپورٹ ٹرمینل تک پہنچانا ٹرانسپورٹ کمپنی کی ذمہ داری ہے، بصورتِ دیگر اگر مکمل سفری سہولت فراہم نہیں کی جا رہی تو کرائے کا کچھ حصہ واپس کیا جائے۔ تاہم مسافروں کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے اس مطالبے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف متبادل بس کا انتظام کرسکتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ مسافروں نے جاوید ٹرانسپورٹ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لیا جائے، خصوصاً بیمار، بزرگ اور بچوں سمیت تمام مسافروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور سلیپر بس سروس میں مسافروں کو طے شدہ منزل تک پہنچانے کی ذمہ داری پوری کی جائے۔ مسافروں نے ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے واقعے کا نوٹس لینے، مسافروں کو مبینہ طور پر راستے میں چھوڑنے کی تحقیقات کرنے اور ٹرانسپورٹرز کو مسافروں، بالخصوص مریضوں اور بچوں کے لیے مناسب سفری سہولیات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
#Turbat #Javidbus #transept #تربت (#گدروشیاپوائنٹ) جاوید ٹرانسپورٹ کی سلیپر بس کے مسافروں کو مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا، دورانِ سفر تین بار بس کو تبدیل کرکے دوسرے بس میں بیٹھنانے پر وقت کا ضیاع اور مشکلات سے دو چار رہے۔ تربت سے کراچی جانے والی جاوید ٹرانسپورٹ کی سلیپر بس کے مسافروں نے دورانِ سفر شدید مشکلات، تین بار بس تبدیل کرنے پر وقت کا ضیاع اور ذہنی اذیت کا سامنا رہا۔ مسافروں کے مطابق وہ صبح 7 بجے تربت سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے 7 بجے کراچی پہنچے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً دن کے 11 بجے گوادر زیرو پوائنٹ کے قریب بس تبدیل کردی گئی سامان سمیت مسافر دوسرے بس میں منتقل کیئے گئے جبکہ کراچی پہنچنے تک انہیں مجموعی طور پر تین بسیں تبدیل کرنا پڑیں۔ مسافروں کے مطابق سلیپر بس کا کرایہ عام بسوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے باوجود وہ آرام دہ اور بہتر سفری سہولت کی توقع میں اس سروس کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بس میں مریض، بچے اور بزرگ بھی سوار تھے، تاہم بار بار بس تبدیل کیے جانے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سیٹھ اقبال شاہ زئی کو نوٹس لینا چاہیئے۔ بس خراب تھی تو سفر کیلئے کیونکر نکالا گیا اور زیرو پوائنٹ پر تبدیل کیاگیا۔ اس طرح کے عمل سے ٹرانسپورٹ پر اعتماد ٹوٹ جاتاہے۔ مسافروں کے مطابق بس میں دشت اور بلیدہ کے رہائشی دو شدید بیمار خواتین مریضہ بھی سوار تھیں جو اپنی حالت کے باعث خود چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ بس تبدیل کرتے وقت دونوں مریض خواتین کو شدید تکلیف کے باوجود دو، دو افراد نے ہاتھ پکڑ کر دوسری بس میں منتقل کیا۔ مسافروں کے مطابق گوادر زیرو پوائنٹ پر بس تبدیل کرنے کی وجہ کے بارے میں ڈرائیور نے بتایا کہ اسے خود معلوم نہیں کہ بس کیوں تبدیل کی گئی جبکہ دوسری مرتبہ بتایا گیا کہ بس کا کلچ خراب ہوگیا ہے، جس کے باعث مسافروں کو دوسری بس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے یہ بھی بتایا کہ متبادل بس صرف بوانی تک جائے گی اور اس کے بعد کراچی کے ٹرانسپورٹ ٹرمینل تک نہیں جائے گی، کیونکہ بس میں ڈیزل کی کمی ہے اور وہ مزید سفر نہیں کرسکتی۔ مسافروں کے مطابق انہوں نے ڈرائیور سے کہا کہ مسافروں کو کراچی کے مقررہ ٹرانسپورٹ ٹرمینل تک پہنچانا ٹرانسپورٹ کمپنی کی ذمہ داری ہے، بصورتِ دیگر اگر مکمل سفری سہولت فراہم نہیں کی جا رہی تو کرائے کا کچھ حصہ واپس کیا جائے۔ تاہم مسافروں کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے اس مطالبے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف متبادل بس کا انتظام کرسکتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ مسافروں نے جاوید ٹرانسپورٹ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لیا جائے، خصوصاً بیمار، بزرگ اور بچوں سمیت تمام مسافروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور سلیپر بس سروس میں مسافروں کو طے شدہ منزل تک پہنچانے کی ذمہ داری پوری کی جائے۔ مسافروں نے ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے واقعے کا نوٹس لینے، مسافروں کو مبینہ طور پر راستے میں چھوڑنے کی تحقیقات کرنے اور ٹرانسپورٹرز کو مسافروں، بالخصوص مریضوں اور بچوں کے لیے مناسب سفری سہولیات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

About