Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@arypuspita31:
AryPuspita
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 10 March 2026 11:02:01 GMT
4308
180
4
2
Music
Download
No Watermark .mp4 (
8.61MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
4.47MB
)
Watermark .mp4 (
8.61MB
)
Music .mp3
Comments
jais! :
kak boleh kenalan tak 💞💞💞💞💞
2026-03-11 17:05:10
0
Nuelkiel Nuelkiel :
👍👍👍
2026-03-14 23:59:28
0
Berdos Gank :
👍👍👍
2026-03-10 11:09:33
0
komangwisantari :
😂
2026-03-18 08:06:36
0
To see more videos from user @arypuspita31, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Paris Saint-Germain F.C. Ventures Into #NFTs And The #Metaverse #WatcherGuru
Things don’t change overnight but lives can ❤️
صح النوم اصحى من نومك... ياللي عاجبني من يومك 🌷✨ من كلمات الشاعر سالم درياق والحان وغناء وليد الكور MOKO وتوزيع موسيقي #وليد_الكور #اكسبلور #صباح_الخير #explore #fyp
#viral #choti #ti̇ktok #capcut @🦋 𝐇𝐚𝐁𝐢𝐁𝐚 🦋 @tiktok creators @TikTok @CapCut
آج کل کے والدین اپنے بچوں سے 25 سال کی عمر میں ایک مکمل، مستحکم اور کامیاب انسان بننے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مطالبے کی قیمت بچہ اپنی ذہنی ساکھ اور روح گنوا کر چکا رہا ہے۔ جب ایک نوجوان کو اپنے ہی گھر میں محبت اور عزت مشروط (conditional) ملنے لگے—کہ اگر کماؤ گے تو عزت ہوگی، اگر سیٹل ہو گے تو فخر کیا جائے گا—تو اس کے اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔ گھر، جو دنیا کی تلخیوں سے بچنے کا آخری قلعہ ہونا چاہیے تھا، جب وہی ایک ایسی عدالت بن جائے جہاں ہر روز بچے کی صلاحیتوں کا ٹرائل ہو، تو نوجوان اندر سے بالکل بانجھ اور اکیلا ہو جاتا ہے۔ یہ مسلسل موازنہ اور نااہلی کا احساس آہستہ آہستہ شدید اینگزائٹی اور گہرے ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہر وقت ایک ایسے ان دیکھے ملبے تلے دبا رہتا ہے جسے وہ ہٹا نہیں پاتا۔ جب دن رات کی محنت کے باوجود وہ والدین کے طے کردہ اس معیار کو نہیں چھو پاتا جو انہوں نے خود 40 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا، تو اس کے اندر یہ زہریلا یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ "میں ایک بوجھ ہوں"۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسانی نفسیات ہار مان جاتی ہے۔ جب چاروں طرف اندھیرا ہو، گھر میں بھی اور باہر بھی، اور ہر رشتہ صرف کارکردگی مانگ رہا ہو، تو نوجوان اس روز روز کی ذلت، مایوسی اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے فرار پانے کے لیے اپنی زندگی ہی ختم کرنے جیسا انتہائی اور لرزہ خیز قدم اٹھا لیتا ہے۔ یہ خودکشی صرف ایک جان کا جانا نہیں ہے، یہ معاشرے اور والدین کے اس رویے کا قتلِ عمد ہے جو ایک جیتے جاگتے وجود کو جیتے جی ایک لاش میں تبدیل کر دیتا ہے۔@احمد⚜️
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy