@brokenjutti66: بچپن میں عید کا مطلب نئے کپڑے، جوتے، عیدی اور خوشیوں کی چہل پہل ہوا کرتا تھا۔ اس وقت انسان کی خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے جڑی ہوتی ہے، اور اسے یہی لگتا ہے کہ عید کی اصل خوبصورتی نئے لباس اور میٹھی چیزوں میں ہے۔ ہر بچہ انھی چیزوں کا انتظار کرتا ہے اور اسی میں اپنی خوشی ڈھونڈ لیتا ہے۔ مگر جب انسان بڑا ہو جاتا ہے تو عید کے معنی آہستہ آہستہ بدلنے لگتے ہیں۔ اب خوشی کا تعلق صرف نئے کپڑوں یا ظاہری چیزوں سے نہیں رہتا، بلکہ دل ان لوگوں کو ڈھونڈتا ہے جو کبھی عید کی رونق ہوا کرتے تھے۔ وہ عزیز جو اب ساتھ نہیں رہے، یا وہ لوگ جو وقت اور فاصلے کی وجہ سے دور ہو گئے، ان کی کمی زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایسے لمحوں میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل خوشی چیزوں میں نہیں بلکہ اپنوں کی موجودگی میں ہوتی ہے۔ ہنسی، ملاقاتیں، ایک ساتھ بیٹھنا اور محبت بھرے لمحے ہی عید کو واقعی خوبصورت بناتے ہیں۔ جب یہ لوگ پاس نہ ہوں تو نئے کپڑے بھی کبھی کبھی خوشی نہیں دے پاتے جو پہلے ملا کرتے تھے۔ اسی لیے بڑے ہونے کے بعد عید کا سب سے بڑا احساس یہی ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل دولت رشتے اور اپنے لوگ ہیں۔ جب وہ ساتھ ہوں تو ہر دن عید جیسا لگتا ہے، اور جب ان کی کمی ہو تو عید بھی کچھ ادھوری سی محسوس ہوتی ہے۔ ❤️