@annelericinbirnot: Aile her şeydir. #yenianne #trend #keşfet #keşfettebeniçek #annebebek

anneleriçinbirnot
anneleriçinbirnot
Open In TikTok:
Region: TR
Wednesday 11 March 2026 19:23:47 GMT
63091
962
3
387

Music

Download

Comments

annelericinbirnot
anneleriçinbirnot :
Değerli arkadaşlar sayfamızı takibe alarak bizlere destek olmanızı güzel ve yeni içerikler için ailemize katılmanızı dört gözle bekliyoruz.🥰
2026-03-11 20:56:42
0
9900lll
İlqarabdullayev_123 :
@mb gb fso b m ç
2026-09-11 14:55:07
0
khoshgadam7
𝒜𝓁𝓁𝒶𝒽𝓋𝑒𝓇𝒹𝒾𝓎𝑒𝓋𝒶❤️ :
@Roma7115 ❤️
2026-08-07 20:31:30
1
To see more videos from user @annelericinbirnot, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Ever felt truly insignificant? Step into the belly of the Slănic Salt Mine and prepare to be dwarfed—not by ego or time, but by salt. Not the delicate sprinkle on your breakfast eggs, but primordial, geological salt—stacked, chiseled, and forged into a void so vast it shames cathedrals and silences tourists. Here, beneath the unassuming hills of Prahova, Romania cracked open the earth like an old book, and found a cathedral built by miners, not monks. Eight million cubic meters of emptiness, a void so cavernous it could cradle a skyscraper on its side—and still ask for more. This isn’t just a mine, it’s a cavernous tomb for hubris. At 208 meters deep, it’s an underground cosmos with its own microclimate, its own echo, its own rules. People descend here not just to gawk, but to breathe. They say the air, thick with pulverized halite, cures lungs weary from smoke and sin. Soviet astronauts once trained in its acoustic vacuum, and interwar elites held soirées under chandeliers of stalactitic salt. Today, children with asthma bounce footballs off walls carved by pickaxes a century ago. This is not a tourist stop—it’s a pilgrimage into the bowels of what endurance looks like. And yet, why does it feel so personal? So mythic? Perhaps because every echo down here reminds you that we come from salt—tears, sweat, blood—and to salt we may return. In a world so loud with pretense, the mine whispers something honest. Something mineral. Do you think silence can be holy? Have you ever walked through a cathedral built of salt and shadow? Video by @passport.to.dreams [SlanicSaltMine, UndergroundCathedral, HaliteMonument, SubterraneanChamber, RomanianSaltHeritage, EarthsVeins, CarpathianDepths, AsthmaSanctuary, SaltTherapyCenter, GreatMineHall, HistoricMiningSite, BuzauWonders, UndergroundColossus, SovietTrainingGround, SaltCrystalCaverns, InterwarMyths, HealingCave, RomanianUnderground, EchoChambers, SaltAndStone] #romania #travel #saltmine #underground
Ever felt truly insignificant? Step into the belly of the Slănic Salt Mine and prepare to be dwarfed—not by ego or time, but by salt. Not the delicate sprinkle on your breakfast eggs, but primordial, geological salt—stacked, chiseled, and forged into a void so vast it shames cathedrals and silences tourists. Here, beneath the unassuming hills of Prahova, Romania cracked open the earth like an old book, and found a cathedral built by miners, not monks. Eight million cubic meters of emptiness, a void so cavernous it could cradle a skyscraper on its side—and still ask for more. This isn’t just a mine, it’s a cavernous tomb for hubris. At 208 meters deep, it’s an underground cosmos with its own microclimate, its own echo, its own rules. People descend here not just to gawk, but to breathe. They say the air, thick with pulverized halite, cures lungs weary from smoke and sin. Soviet astronauts once trained in its acoustic vacuum, and interwar elites held soirées under chandeliers of stalactitic salt. Today, children with asthma bounce footballs off walls carved by pickaxes a century ago. This is not a tourist stop—it’s a pilgrimage into the bowels of what endurance looks like. And yet, why does it feel so personal? So mythic? Perhaps because every echo down here reminds you that we come from salt—tears, sweat, blood—and to salt we may return. In a world so loud with pretense, the mine whispers something honest. Something mineral. Do you think silence can be holy? Have you ever walked through a cathedral built of salt and shadow? Video by @passport.to.dreams [SlanicSaltMine, UndergroundCathedral, HaliteMonument, SubterraneanChamber, RomanianSaltHeritage, EarthsVeins, CarpathianDepths, AsthmaSanctuary, SaltTherapyCenter, GreatMineHall, HistoricMiningSite, BuzauWonders, UndergroundColossus, SovietTrainingGround, SaltCrystalCaverns, InterwarMyths, HealingCave, RomanianUnderground, EchoChambers, SaltAndStone] #romania #travel #saltmine #underground
اداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل، شاعری جو نہ کرتی تو شاید اپنے ہی دکھوں سے خاموشی سے مر جاتی۔ یہ وہ عمر تھی جس میں خواب دیکھنے تھے، مگر ہم نے خوابوں کے ٹوٹنے کا ہنر سیکھ لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بےفکری سے ہنسنا تھا، مگر ہم نے مسکراہٹ کے پیچھے اپنی اداسیاں چھپانا سیکھ لیا۔ کچی عمر میں دل پر ایسے بوجھ رکھ دیے گئے جنہیں اٹھانے کی ابھی عمر ہی نہیں تھی۔ کسی کو جدائی ملی، کسی کو بےقدری، کسی کو بدلتے ہوئے لوگ، کسی کو ٹوٹتے رشتے، اور کسی کو وہ شخص نہیں ملا جسے دل نے اپنا سمجھ لیا تھا۔ ہم سب کے دکھ الگ تھے، مگر خاموشی ایک جیسی تھی۔ کوئی راتوں کو اپنی یادوں سے لڑتا رہا، کوئی دن بھر لوگوں کے سامنے ہنستا رہا، کوئی ہر سوال کے جواب میں بس “میں ٹھیک ہوں” کہتا رہا، اور کوئی اپنے دل کی بات کاغذ پر لکھتا رہا۔ شاید اسی لیے شاعری ہماری ضرورت بن گئی۔ ہمیں شاعر بننے کا شوق نہیں تھا، ہم تو بس اپنے اندر جمع ہوتے ہوئے دکھوں کو کہیں رکھنے آئے تھے۔ جو بات کسی سے کہہ نہیں سکتے تھے، وہ شعر میں لکھ دی۔ جو آنسو سب سے چھپا لیے، وہ لفظوں میں بہا دیے۔ جو یاد دل سے نکال نہیں سکے، اسے کاغذ پر اتار دیا۔ اور جو درد کسی کو سمجھا نہیں سکے، اسے شاعری کا نام دے دیا۔ کبھی کبھی صرف چند الفاظ پورے دل کی کہانی بن جاتے ہیں۔ ایک شعر پڑھ کر لگتا ہے جیسے کسی نے ہماری خاموشی سن لی ہو۔ کسی اجنبی شاعر کے لفظ اپنے لگنے لگتے ہیں، کیونکہ شاید اس نے بھی وہی محسوس کیا ہوتا ہے جو ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری نسل عجیب ہے، زخم چھپاتی ہے، مسکراتی ہے، آن لائن آتی ہے، لوگوں سے بات کرتی ہے، مگر اپنے اندر نہ جانے کتنی جنگیں اکیلی لڑتی رہتی ہے۔ کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ ایک ہنستا ہوا چہرہ اپنے اندر کتنی اداس شامیں لیے پھرتا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ جو شخص سب کو حوصلہ دیتا ہے، وہ خود رات کو کتنا ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ ہم نے بہت کم عمر میں یہ سیکھ لیا کہ ہر درد سنانے کے لیے لفظ کافی نہیں ہوتے، کچھ دکھ صرف محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے ہماری شاعری اتنی اداس ہے، کیونکہ اس میں صرف الفاظ نہیں، ہماری گزری ہوئی راتیں ہیں، ہماری ادھوری خواہشیں ہیں، ہماری خاموش چیخیں ہیں، اور وہ سب لوگ ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی اپنی زندگی میں رکھ نہ سکے۔ اداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل، شاید حقیقت میں عمر سے نہیں، حالات سے بڑی ہوئی ہے۔ شاعری جو نہ کرتی، تو شاید یہ دل اپنے ہی اندر اتنا کچھ دبا کر خاموشی سے مر جاتا۔ اس لیے لکھتے ہیں، بار بار لکھتے ہیں، اپنا دکھ لکھتے ہیں، اپنی تنہائی لکھتے ہیں، اپنی محبت لکھتے ہیں، اپنی جدائی لکھتے ہیں، اپنے بچھڑنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی لکھ دینا ہی دل کے لیے سانس لینے جیسا ہوتا ہے۔ اور شاید ہماری شاعری کا مقصد کسی کو اداس کرنا نہیں، بس اپنے اندر کی اداسی کو تھوڑا سا کم کرنا ہے۔ ہم وہ نسل ہیں جو اپنے زخموں پر مرہم بھی خود رکھتی ہے، اور پھر انہی زخموں سے شاعری بھی لکھتی ہے۔ 🥀 #pleasedontunderreview #viewsproblem😭 #viralvideos #pleaseunfreezmyaccunt🥺 #foryoupage❤️❤️
اداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل، شاعری جو نہ کرتی تو شاید اپنے ہی دکھوں سے خاموشی سے مر جاتی۔ یہ وہ عمر تھی جس میں خواب دیکھنے تھے، مگر ہم نے خوابوں کے ٹوٹنے کا ہنر سیکھ لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بےفکری سے ہنسنا تھا، مگر ہم نے مسکراہٹ کے پیچھے اپنی اداسیاں چھپانا سیکھ لیا۔ کچی عمر میں دل پر ایسے بوجھ رکھ دیے گئے جنہیں اٹھانے کی ابھی عمر ہی نہیں تھی۔ کسی کو جدائی ملی، کسی کو بےقدری، کسی کو بدلتے ہوئے لوگ، کسی کو ٹوٹتے رشتے، اور کسی کو وہ شخص نہیں ملا جسے دل نے اپنا سمجھ لیا تھا۔ ہم سب کے دکھ الگ تھے، مگر خاموشی ایک جیسی تھی۔ کوئی راتوں کو اپنی یادوں سے لڑتا رہا، کوئی دن بھر لوگوں کے سامنے ہنستا رہا، کوئی ہر سوال کے جواب میں بس “میں ٹھیک ہوں” کہتا رہا، اور کوئی اپنے دل کی بات کاغذ پر لکھتا رہا۔ شاید اسی لیے شاعری ہماری ضرورت بن گئی۔ ہمیں شاعر بننے کا شوق نہیں تھا، ہم تو بس اپنے اندر جمع ہوتے ہوئے دکھوں کو کہیں رکھنے آئے تھے۔ جو بات کسی سے کہہ نہیں سکتے تھے، وہ شعر میں لکھ دی۔ جو آنسو سب سے چھپا لیے، وہ لفظوں میں بہا دیے۔ جو یاد دل سے نکال نہیں سکے، اسے کاغذ پر اتار دیا۔ اور جو درد کسی کو سمجھا نہیں سکے، اسے شاعری کا نام دے دیا۔ کبھی کبھی صرف چند الفاظ پورے دل کی کہانی بن جاتے ہیں۔ ایک شعر پڑھ کر لگتا ہے جیسے کسی نے ہماری خاموشی سن لی ہو۔ کسی اجنبی شاعر کے لفظ اپنے لگنے لگتے ہیں، کیونکہ شاید اس نے بھی وہی محسوس کیا ہوتا ہے جو ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری نسل عجیب ہے، زخم چھپاتی ہے، مسکراتی ہے، آن لائن آتی ہے، لوگوں سے بات کرتی ہے، مگر اپنے اندر نہ جانے کتنی جنگیں اکیلی لڑتی رہتی ہے۔ کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ ایک ہنستا ہوا چہرہ اپنے اندر کتنی اداس شامیں لیے پھرتا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ جو شخص سب کو حوصلہ دیتا ہے، وہ خود رات کو کتنا ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ ہم نے بہت کم عمر میں یہ سیکھ لیا کہ ہر درد سنانے کے لیے لفظ کافی نہیں ہوتے، کچھ دکھ صرف محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے ہماری شاعری اتنی اداس ہے، کیونکہ اس میں صرف الفاظ نہیں، ہماری گزری ہوئی راتیں ہیں، ہماری ادھوری خواہشیں ہیں، ہماری خاموش چیخیں ہیں، اور وہ سب لوگ ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی اپنی زندگی میں رکھ نہ سکے۔ اداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل، شاید حقیقت میں عمر سے نہیں، حالات سے بڑی ہوئی ہے۔ شاعری جو نہ کرتی، تو شاید یہ دل اپنے ہی اندر اتنا کچھ دبا کر خاموشی سے مر جاتا۔ اس لیے لکھتے ہیں، بار بار لکھتے ہیں، اپنا دکھ لکھتے ہیں، اپنی تنہائی لکھتے ہیں، اپنی محبت لکھتے ہیں، اپنی جدائی لکھتے ہیں، اپنے بچھڑنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی لکھ دینا ہی دل کے لیے سانس لینے جیسا ہوتا ہے۔ اور شاید ہماری شاعری کا مقصد کسی کو اداس کرنا نہیں، بس اپنے اندر کی اداسی کو تھوڑا سا کم کرنا ہے۔ ہم وہ نسل ہیں جو اپنے زخموں پر مرہم بھی خود رکھتی ہے، اور پھر انہی زخموں سے شاعری بھی لکھتی ہے۔ 🥀 #pleasedontunderreview #viewsproblem😭 #viralvideos #pleaseunfreezmyaccunt🥺 #foryoupage❤️❤️

About