@jellykatttt: Làm sạch đúng cách là mụn ẩn tự chồi lên thế này #Skinlosophy #dautaytrangbaohoa #dautaytrang

Jelly Kat 🐰
Jelly Kat 🐰
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 12 March 2026 09:47:09 GMT
70
2
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @jellykatttt, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نانا پاٹیکر اور ان کی اہلیہ نیلکانتی پاٹیکر کے درمیان تقریباً 35 سال سے علیحدگی تھی۔ دونوں نے 1978ء میں محبت کی شادی کی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ان کے راستے جدا ہو گئے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق، ان کے درمیان قانونی طور پر طلاق نہیں ہوئی تھی۔ اور پھر زندگی کا وہ لمحہ بھی آتا ہے جب برسوں کی دوریاں، ناراضگیاں اور خاموشیاں ایک قبر یا چتا کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جن لوگوں سے ہم کبھی بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کبھی ان کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے، ایک دن انہی سے ملنے کے لیے ہمارے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ غالبؔ کا یہ شعر ایسے موقع پر دل کو چھو جاتا ہے: مَر گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ یار لائے مری بالیں پہ اسے کس وقت؟ شعر میں غالبؔ اس حسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ جس شخص سے ملنے کی آرزو تھی، وہ آیا بھی تو ایسے وقت جب ملاقات کی مہلت ہی نہ رہی۔ ہماری زندگیوں میں بھی کتنے ہی ایسے رشتے ہوتے ہیں جنہیں ہم انا، ضد اور چھوٹی چھوٹی ناراضگیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ دل میں محبت ہوتی ہے، مگر زبان پر خاموشی۔ یاد تو آتی ہے، مگر قدم آگے نہیں بڑھتے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے، کبھی نہ کبھی بات کر لیں گے، کبھی نہ کبھی گلے شکوے دور کر لیں گے۔ لیکن کون جانتا ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی آئے گا بھی یا نہیں؟ کچھ لوگ بچھڑتے نہیں، بس ہم ان سے ملنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر ایک دن وہ ہمیشہ کے لیے چلے جاتے ہیں اور ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ اسی لیے اگر کوئی اپنا ناراض ہے تو اسے منا لیجیے، کسی سے غلطی ہوئی ہے تو معاف کر دیجیے، اور دل میں کوئی شکوہ ہے تو زندگی میں ہی بات کر لیجیے۔ کیونکہ بعض اوقات آخری ملاقات کا وقت ہمیں معلوم نہیں ہوتا، اور بعد میں کہنے کے لیے بہت کچھ باقی رہ جاتا ہے۔ جیسے کتابوں میں سوکھے ہوئے پھول ملتے ہیں، ویسے ہی پرانی یادوں میں کچھ رشتے بھی ملتے ہیں؛ خوب صورت، خاموش اور ہمیشہ کے لیے ماضی بن چکے۔ یاد رکھیے! رشتوں میں جیت جانے سے بہتر ہے کہ اپنوں کو کھویا نہ جائے، کیونکہ بعض ہاریں انسان کو رشتے دے جاتی ہیں اور بعض جیتیں عمر بھر کا پچھتاوا۔ 💔 آپ کی رائے میں، کیا انسان کو اپنی انا اور ناراضگی سے پہلے رشتوں کو اہمیت دینی چاہیے؟
نانا پاٹیکر اور ان کی اہلیہ نیلکانتی پاٹیکر کے درمیان تقریباً 35 سال سے علیحدگی تھی۔ دونوں نے 1978ء میں محبت کی شادی کی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ان کے راستے جدا ہو گئے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق، ان کے درمیان قانونی طور پر طلاق نہیں ہوئی تھی۔ اور پھر زندگی کا وہ لمحہ بھی آتا ہے جب برسوں کی دوریاں، ناراضگیاں اور خاموشیاں ایک قبر یا چتا کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جن لوگوں سے ہم کبھی بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کبھی ان کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے، ایک دن انہی سے ملنے کے لیے ہمارے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ غالبؔ کا یہ شعر ایسے موقع پر دل کو چھو جاتا ہے: مَر گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ یار لائے مری بالیں پہ اسے کس وقت؟ شعر میں غالبؔ اس حسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ جس شخص سے ملنے کی آرزو تھی، وہ آیا بھی تو ایسے وقت جب ملاقات کی مہلت ہی نہ رہی۔ ہماری زندگیوں میں بھی کتنے ہی ایسے رشتے ہوتے ہیں جنہیں ہم انا، ضد اور چھوٹی چھوٹی ناراضگیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ دل میں محبت ہوتی ہے، مگر زبان پر خاموشی۔ یاد تو آتی ہے، مگر قدم آگے نہیں بڑھتے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے، کبھی نہ کبھی بات کر لیں گے، کبھی نہ کبھی گلے شکوے دور کر لیں گے۔ لیکن کون جانتا ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی آئے گا بھی یا نہیں؟ کچھ لوگ بچھڑتے نہیں، بس ہم ان سے ملنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر ایک دن وہ ہمیشہ کے لیے چلے جاتے ہیں اور ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ اسی لیے اگر کوئی اپنا ناراض ہے تو اسے منا لیجیے، کسی سے غلطی ہوئی ہے تو معاف کر دیجیے، اور دل میں کوئی شکوہ ہے تو زندگی میں ہی بات کر لیجیے۔ کیونکہ بعض اوقات آخری ملاقات کا وقت ہمیں معلوم نہیں ہوتا، اور بعد میں کہنے کے لیے بہت کچھ باقی رہ جاتا ہے۔ جیسے کتابوں میں سوکھے ہوئے پھول ملتے ہیں، ویسے ہی پرانی یادوں میں کچھ رشتے بھی ملتے ہیں؛ خوب صورت، خاموش اور ہمیشہ کے لیے ماضی بن چکے۔ یاد رکھیے! رشتوں میں جیت جانے سے بہتر ہے کہ اپنوں کو کھویا نہ جائے، کیونکہ بعض ہاریں انسان کو رشتے دے جاتی ہیں اور بعض جیتیں عمر بھر کا پچھتاوا۔ 💔 آپ کی رائے میں، کیا انسان کو اپنی انا اور ناراضگی سے پہلے رشتوں کو اہمیت دینی چاہیے؟

About