@xoai.ziyu: 我偷偷喜欢你,就像向日葵仰望太阳。 Tôi lặng lẽ thích cậu, như hoa hướng dương ngước nhìn mặt trời.#ziyu #atlu♡ #fyp

Xoài 𓆝
Xoài 𓆝
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 14 March 2026 09:46:26 GMT
2631
557
14
90

Music

Download

Comments

nahhthuu
Dừa🥥 :
Oidoioi tiên tử giáng trầnnnnn
2026-03-14 11:04:26
3
phanh_engfa
Lom Lom là baby blue :
367? tính var ai v???
2026-03-15 07:46:18
1
_xfa.gvi_
𝘩𝘺⊰⊹ :
Màu đẹp xoài ơii 😭
2026-03-14 10:20:35
1
gaidepyeugay
mimi :
Màu đẹp nàng oi
2026-03-14 11:21:18
1
tnhig01
mê Tử Du❤️ :
eo thề ẻm xinh vãi í❤️
2026-03-14 11:03:09
1
_pma.zy_
Zy ౨ৎ :
màu mới ra lò luôn ha
2026-03-14 12:11:37
1
vilan0901
Vi Lan🐟 :
🥰🥰🥰
2026-03-16 10:27:26
0
To see more videos from user @xoai.ziyu, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

معانی اور مطلب👇 شعر: رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے تشریح: اس رباعی میں اقبال امتِ مسلمہ کی زوال پذیری، ملی بے حسی اور دین کی روح سے دوری کا نوحہ پیش کر رہے ہیں۔ 1. پہلا مصرع (رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے): اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی رگوں میں اب وہ جوش، ولولہ اور تڑپ نہیں رہی جو ان کے اسلاف (آباؤ اجداد) میں تھی۔ وہ خون جو حق کے لیے بہنے اور حق کے لیے لڑنے کا حوصلہ رکھتا تھا، اب سرد پڑ چکا ہے۔ یعنی ملت میں غیرتِ ایمانی کی کمی ہو گئی ہے 2. دوسرا مصرع (وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے): جس دل میں عشقِ الٰہی، عشقِ رسولؐ اور امت کی محبت تھی، وہ دل اب مردہ ہو چکے ہیں۔ اب مسلمانوں کے دلوں میں وہ بلند مقاصد اور آرزوئیں باقی نہیں رہیں جو انہیں دنیا میں فاتح بناتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں، اب دنیا پرستی غالب ہے 3. تیسرا اور چوتھا مصرع (نماز و روزہ و قربانی و حج۔۔۔): یہاں اقبال دین کی ظاہری شکل اور اس کی روح کا موازنہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور قربانی جیسے ارکانِ اسلام تو مسلمان اب بھی ادا کر رہے ہیں (ظاہری ڈھانچہ موجود ہے)، لیکن ان عبادات کے پیچھے جو حقیقت، خلوص، تقویٰ اور ایمان کی تڑپ (روح) ہونی چاہیے تھی، وہ ختم ہو چکی ہے۔ خلاصہ: اقبال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک انقلابی طرزِ زندگی ہے۔ مسلمانوں نے دین کی روح (خلوص، عشق، عمل) کو چھوڑ کر صرف رسمی دینداری اختیار کر لی ہے، اسی لیے ان کا عروج ختم ہو چکا ہے . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry #urdulover #urduwriting #amazingpoetry #classicpoetry #poetrylove #urdulove
معانی اور مطلب👇 شعر: رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے تشریح: اس رباعی میں اقبال امتِ مسلمہ کی زوال پذیری، ملی بے حسی اور دین کی روح سے دوری کا نوحہ پیش کر رہے ہیں۔ 1. پہلا مصرع (رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے): اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی رگوں میں اب وہ جوش، ولولہ اور تڑپ نہیں رہی جو ان کے اسلاف (آباؤ اجداد) میں تھی۔ وہ خون جو حق کے لیے بہنے اور حق کے لیے لڑنے کا حوصلہ رکھتا تھا، اب سرد پڑ چکا ہے۔ یعنی ملت میں غیرتِ ایمانی کی کمی ہو گئی ہے 2. دوسرا مصرع (وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے): جس دل میں عشقِ الٰہی، عشقِ رسولؐ اور امت کی محبت تھی، وہ دل اب مردہ ہو چکے ہیں۔ اب مسلمانوں کے دلوں میں وہ بلند مقاصد اور آرزوئیں باقی نہیں رہیں جو انہیں دنیا میں فاتح بناتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں، اب دنیا پرستی غالب ہے 3. تیسرا اور چوتھا مصرع (نماز و روزہ و قربانی و حج۔۔۔): یہاں اقبال دین کی ظاہری شکل اور اس کی روح کا موازنہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور قربانی جیسے ارکانِ اسلام تو مسلمان اب بھی ادا کر رہے ہیں (ظاہری ڈھانچہ موجود ہے)، لیکن ان عبادات کے پیچھے جو حقیقت، خلوص، تقویٰ اور ایمان کی تڑپ (روح) ہونی چاہیے تھی، وہ ختم ہو چکی ہے۔ خلاصہ: اقبال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک انقلابی طرزِ زندگی ہے۔ مسلمانوں نے دین کی روح (خلوص، عشق، عمل) کو چھوڑ کر صرف رسمی دینداری اختیار کر لی ہے، اسی لیے ان کا عروج ختم ہو چکا ہے . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry #urdulover #urduwriting #amazingpoetry #classicpoetry #poetrylove #urdulove

About