@vitaltehzmi: Spring Summer High Waist Elastic Women's Jeans, Light Wash Washed Blue Casual Wide Leg Pants, Fitted H-Type Denim for Daily Commute and Vacation#OOTD #fyp #womens #tiktokshop #pants

vitaltehzmi123
vitaltehzmi123
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 14 March 2026 09:56:17 GMT
36251
94
0
16

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @vitaltehzmi, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شاہی قلعہ (لاہور فورٹ) پاکستان کا ایک عظیم تاریخی ورثہ ہے جو اپنی خوبصورتی اور مغلیہ دور کی شان و شوکت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ 1981 میں UNESCO نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage Site) قرار دیا۔بنیادی تاریخ اور ارتقاءقدیم بنیادیں: اس جگہ پر قلعے کی تاریخ 11ویں صدی (محمود غزنوی کے دور) سے ملتی ہے، جب یہ مٹی کا ایک چھوٹا قلعہ تھا۔مغلیہ دور (اصل تعمیر): موجودہ پکی اینٹوں کا قلعہ شہنشاہ اکبر اعظم نے 1566ء میں تعمیر کروایا۔ انہوں نے اسے وسعت دی اور اس میں اسلامی اور ہندو فنِ تعمیر کا امتزاج شامل کیا۔بعد کی تبدیلیاں: اکبر کے بعد جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب عالمگیر نے اس میں نئے محلات اور خوبصورت حصے جیسے شیش محل اور عالمگیری دروازہ بنوائے۔سکھ اور برطانوی دور: مغلیہ سلطنت کے بعد یہ قلعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ (سکھ سلطنت) کی رہائش گاہ رہا اور 1849ء میں اس پر انگریزوں (برٹش راج) کا قبضہ ہو گیا۔قلعے کے مشہور مقاماتعالمگیری دروازہ: یہ قلعے کا مرکزی اور شاہی دروازہ ہے جسے اورنگزیب عالمگیر نے بادشاہی مسجد کے سامنے بنوایا تھا۔شیش محل: اسے شاہ جہاں نے اپنی ملکہ کے لیے بنوایا تھا، جس کے اندر شیشے کا باریک اور دلکش کام کیا گیا ہے۔دیوانِ عام اور دیوانِ خاص: جہاں بادشاہ بالترتیب عوام اور اپنے خاص وزراء سے ملاقاتیں کرتے تھے۔موتی مسجد: سفید سنگِ مرمر سے بنی ایک خوبصورت چھوٹی مسجد جو شاہی خاندان کی عبادت کے لیے #LahoreFort#ShahiQila#WalledCityOfLahore#MughalArchitecture#PakistanHeritage مخصوص تھی@🥷𝓟𝓪𝓱𝓪𝓽 _صاحب☠️
شاہی قلعہ (لاہور فورٹ) پاکستان کا ایک عظیم تاریخی ورثہ ہے جو اپنی خوبصورتی اور مغلیہ دور کی شان و شوکت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ 1981 میں UNESCO نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage Site) قرار دیا۔بنیادی تاریخ اور ارتقاءقدیم بنیادیں: اس جگہ پر قلعے کی تاریخ 11ویں صدی (محمود غزنوی کے دور) سے ملتی ہے، جب یہ مٹی کا ایک چھوٹا قلعہ تھا۔مغلیہ دور (اصل تعمیر): موجودہ پکی اینٹوں کا قلعہ شہنشاہ اکبر اعظم نے 1566ء میں تعمیر کروایا۔ انہوں نے اسے وسعت دی اور اس میں اسلامی اور ہندو فنِ تعمیر کا امتزاج شامل کیا۔بعد کی تبدیلیاں: اکبر کے بعد جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب عالمگیر نے اس میں نئے محلات اور خوبصورت حصے جیسے شیش محل اور عالمگیری دروازہ بنوائے۔سکھ اور برطانوی دور: مغلیہ سلطنت کے بعد یہ قلعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ (سکھ سلطنت) کی رہائش گاہ رہا اور 1849ء میں اس پر انگریزوں (برٹش راج) کا قبضہ ہو گیا۔قلعے کے مشہور مقاماتعالمگیری دروازہ: یہ قلعے کا مرکزی اور شاہی دروازہ ہے جسے اورنگزیب عالمگیر نے بادشاہی مسجد کے سامنے بنوایا تھا۔شیش محل: اسے شاہ جہاں نے اپنی ملکہ کے لیے بنوایا تھا، جس کے اندر شیشے کا باریک اور دلکش کام کیا گیا ہے۔دیوانِ عام اور دیوانِ خاص: جہاں بادشاہ بالترتیب عوام اور اپنے خاص وزراء سے ملاقاتیں کرتے تھے۔موتی مسجد: سفید سنگِ مرمر سے بنی ایک خوبصورت چھوٹی مسجد جو شاہی خاندان کی عبادت کے لیے #LahoreFort#ShahiQila#WalledCityOfLahore#MughalArchitecture#PakistanHeritage مخصوص تھی@🥷𝓟𝓪𝓱𝓪𝓽 _صاحب☠️

About