Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@paugarciamila: El mayor peligro de emprender no siempre es fracasar. A veces aparece justo cuando el proyecto empieza a funcionar. Tiene nombre… y es más común de lo que parece. Te lo cuento en 1 minuto ⤵️ #emprender #en1minuto
Pau Garcia-Milà
Open In TikTok:
Region: ES
Monday 16 March 2026 18:06:10 GMT
33808
1210
8
51
Music
Download
No Watermark .mp4 (
9.94MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
8.63MB
)
Watermark .mp4 (
10.33MB
)
Music .mp3
Comments
julio :
enprender es muy complicado senecita mucho juersa moral
2026-03-22 01:27:02
4
Wot 402 Nation :
me ha pasado más de 100 veces
2026-03-16 19:21:46
3
P A U L I 🌻 :
siempre me pasa
2026-03-23 21:06:58
0
MariaE. :
muy bien
2026-03-22 02:03:11
0
Biel y Neko :
ufffff es mi día a día
2026-03-23 16:45:55
0
Retocartext :
Tal cual.
2026-03-22 00:58:33
0
Andrea | Emprender :
El síndrome del siguiente proyecto o tdah 🥹
2026-03-16 19:17:52
1
To see more videos from user @paugarciamila, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#صدقة_جارية_لأبي #اللهم_ارحم_موتانا_وموتى_المسلمين
bwap bwap 💵 #dona #edit #dona85k #fyp
پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy