@divannacooks: Hot pots in China you probably didn’t know existed: ep. 1 coconut chicken hot pot 🥥🐓 #hotpot #chinesefood #travel #asianfood

divannacooks
divannacooks
Open In TikTok:
Region: US
Monday 16 March 2026 21:59:54 GMT
32998
963
23
235

Music

Download

Comments

buckfast0
buckfast0 :
Hotpot c est trop bon
2026-03-29 18:21:49
0
noneedtoknow531
noneedtoknow531 :
tried this in Shenzhen, not kidding it was kind of meh
2026-04-02 21:11:20
0
karenho31
Karen Ho :
Fun fact! This is actually originated in Shenzhen not in Hainan even tho they called it Hainan chicken
2026-03-19 13:29:24
6
qh_aaaaa
启浩 nick :
This branch is hella good yall chose well
2026-05-13 12:34:54
1
ilikewock
ilikewock :
Hainan coconut hotpot is soo mid but its gas with the sauces. The broth taste like nothing. We ate it in Sanya last February, disappointing af.
2026-04-19 09:16:04
0
yoyoyu34212
地三个鲜 :
Have you tried durian hotpot
2026-05-13 05:05:40
0
user829656018
829656018 :
where is it?
2026-04-01 02:33:15
0
sm_031397
S&M :
That sounds so good omg
2026-03-16 23:06:13
0
To see more videos from user @divannacooks, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاکستان سے ایران کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے زائرین کا سفر محض ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ یہ عقیدت، صبر اور برداشت کا ایک طویل امتحان بھی بن جاتا ہے۔ بالخصوص پاکستان ایران سرحد کے راستے سفر کرنے والے بہت سے زائرین کے لیے یہ مرحلہ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی دشوار ثابت ہوتا ہے۔ زائرین اپنے دلوں میں امام رضا علیہ السلام، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی آرزو لیے سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے سرحد تک پہنچتے ہیں۔ ان میں بزرگ، خواتین، بچے اور ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود صرف محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں یہ طویل سفر اختیار کرتے ہیں۔ مگر سرحد تک پہنچنے کے بعد ان کے لیے انتظار اور مختلف انتظامی و سکیورٹی مراحل ایک بڑی آزمائش بن سکتے ہیں۔ طویل انتظار، بار بار دستاویزات کی جانچ، سفری قافلوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں، بنیادی سہولیات کی کمی اور بعض اوقات غیر واضح طریقۂ کار زائرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ شدید گرمی، تھکن اور طویل سفر کے بعد اگر ایک زائر کو گھنٹوں یا اس سے بھی زیادہ وقت انتظار کرنا پڑے تو یہ تکلیف صرف جسم تک محدود نہیں رہتی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ زائر وہاں کسی تفریح یا دنیاوی مقصد کے لیے نہیں پہنچا ہوتا۔ اس کے سامان میں چند کپڑے ہوتے ہیں، ہاتھ میں پاسپورٹ ہوتا ہے اور دل میں صرف یہ خواہش کہ کسی طرح سرحد پار ہو اور اس سرزمین تک پہنچ جائے جہاں اس کے مقدسات موجود ہیں۔ یقیناً ریاست کے لیے سرحدی سکیورٹی، امیگریشن اور قانونی تقاضے ناگزیر ہیں، اور ہر مسافر کو مقررہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ لیکن سکیورٹی اور انسانی سہولت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ مؤثر نگرانی کے ساتھ زائرین کے لیے باعزت، منظم اور واضح طریقۂ کار بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے مناسب انتظار گاہیں، پینے کا صاف پانی، بیت الخلا، طبی امداد، واضح رہنمائی اور امیگریشن کے تیز اور منظم مراحل بنیادی ضروریات ہیں، کوئی غیر معمولی رعایت نہیں۔ ایک زائر جب پاکستان کی سرحد سے ایران کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے سفر کی تھکن اور مشکلات کی ایک پوری داستان ہوتی ہے، لیکن سامنے زیارت کی امید ہوتی ہے۔ یہی امید اسے گرمی، انتظار، تھکن اور راستے کی سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اور شاید اس پورے سفر کا سب سے گہرا منظر وہ ہوتا ہے جب تمام رکاوٹوں اور انتظار کے بعد زائر بالآخر سرحد عبور کرتا ہے۔ تھکے ہوئے چہرے پر اطمینان آتا ہے، قدموں میں پھر سے طاقت محسوس ہوتی ہے اور دل میں منزل قریب ہونے کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ابھی مشہد، قم اور دوسرے مقدس مقامات تک بہت سا راستہ باقی ہے، مگر دل جیسے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ راہِ زیارت کی سختیاں قدموں کو تھکا سکتی ہیں، مگر جس دل میں شوقِ زیارت زندہ ہو، اسے منزل کی امید آگے بڑھاتی رہتی ہے
پاکستان سے ایران کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے زائرین کا سفر محض ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ یہ عقیدت، صبر اور برداشت کا ایک طویل امتحان بھی بن جاتا ہے۔ بالخصوص پاکستان ایران سرحد کے راستے سفر کرنے والے بہت سے زائرین کے لیے یہ مرحلہ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی دشوار ثابت ہوتا ہے۔ زائرین اپنے دلوں میں امام رضا علیہ السلام، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی آرزو لیے سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے سرحد تک پہنچتے ہیں۔ ان میں بزرگ، خواتین، بچے اور ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود صرف محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں یہ طویل سفر اختیار کرتے ہیں۔ مگر سرحد تک پہنچنے کے بعد ان کے لیے انتظار اور مختلف انتظامی و سکیورٹی مراحل ایک بڑی آزمائش بن سکتے ہیں۔ طویل انتظار، بار بار دستاویزات کی جانچ، سفری قافلوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں، بنیادی سہولیات کی کمی اور بعض اوقات غیر واضح طریقۂ کار زائرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ شدید گرمی، تھکن اور طویل سفر کے بعد اگر ایک زائر کو گھنٹوں یا اس سے بھی زیادہ وقت انتظار کرنا پڑے تو یہ تکلیف صرف جسم تک محدود نہیں رہتی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ زائر وہاں کسی تفریح یا دنیاوی مقصد کے لیے نہیں پہنچا ہوتا۔ اس کے سامان میں چند کپڑے ہوتے ہیں، ہاتھ میں پاسپورٹ ہوتا ہے اور دل میں صرف یہ خواہش کہ کسی طرح سرحد پار ہو اور اس سرزمین تک پہنچ جائے جہاں اس کے مقدسات موجود ہیں۔ یقیناً ریاست کے لیے سرحدی سکیورٹی، امیگریشن اور قانونی تقاضے ناگزیر ہیں، اور ہر مسافر کو مقررہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ لیکن سکیورٹی اور انسانی سہولت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ مؤثر نگرانی کے ساتھ زائرین کے لیے باعزت، منظم اور واضح طریقۂ کار بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے مناسب انتظار گاہیں، پینے کا صاف پانی، بیت الخلا، طبی امداد، واضح رہنمائی اور امیگریشن کے تیز اور منظم مراحل بنیادی ضروریات ہیں، کوئی غیر معمولی رعایت نہیں۔ ایک زائر جب پاکستان کی سرحد سے ایران کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے سفر کی تھکن اور مشکلات کی ایک پوری داستان ہوتی ہے، لیکن سامنے زیارت کی امید ہوتی ہے۔ یہی امید اسے گرمی، انتظار، تھکن اور راستے کی سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اور شاید اس پورے سفر کا سب سے گہرا منظر وہ ہوتا ہے جب تمام رکاوٹوں اور انتظار کے بعد زائر بالآخر سرحد عبور کرتا ہے۔ تھکے ہوئے چہرے پر اطمینان آتا ہے، قدموں میں پھر سے طاقت محسوس ہوتی ہے اور دل میں منزل قریب ہونے کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ابھی مشہد، قم اور دوسرے مقدس مقامات تک بہت سا راستہ باقی ہے، مگر دل جیسے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ راہِ زیارت کی سختیاں قدموں کو تھکا سکتی ہیں، مگر جس دل میں شوقِ زیارت زندہ ہو، اسے منزل کی امید آگے بڑھاتی رہتی ہے

About