Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@divannacooks: Hot pots in China you probably didn’t know existed: ep. 1 coconut chicken hot pot 🥥🐓 #hotpot #chinesefood #travel #asianfood
divannacooks
Open In TikTok:
Region: US
Monday 16 March 2026 21:59:54 GMT
32998
963
23
235
Music
Download
No Watermark .mp4 (
7.5MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
6.87MB
)
Watermark .mp4 (
6.93MB
)
Music .mp3
Comments
buckfast0 :
Hotpot c est trop bon
2026-03-29 18:21:49
0
noneedtoknow531 :
tried this in Shenzhen, not kidding it was kind of meh
2026-04-02 21:11:20
0
Karen Ho :
Fun fact! This is actually originated in Shenzhen not in Hainan even tho they called it Hainan chicken
2026-03-19 13:29:24
6
启浩 nick :
This branch is hella good yall chose well
2026-05-13 12:34:54
1
ilikewock :
Hainan coconut hotpot is soo mid but its gas with the sauces. The broth taste like nothing. We ate it in Sanya last February, disappointing af.
2026-04-19 09:16:04
0
地三个鲜 :
Have you tried durian hotpot
2026-05-13 05:05:40
0
829656018 :
where is it?
2026-04-01 02:33:15
0
S&M :
That sounds so good omg
2026-03-16 23:06:13
0
To see more videos from user @divannacooks, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#تحشيش #الشعب_الصيني_ماله_حل😂😂 هذا الصغير جا الجبير شنو قطعت ارض 😂😂
Ai khổ cũng được . Miễn em đừng khổ 😜. Gặp em đúng lúc🥰#suhuongtiktok #xuhuongtiktok #37nghean
Một chút nắng, một chút gió, một chút Quy Nhơn 🌊🩵 #langchaiNhonLy
Gửi mấy mom tay chăm hạng nặng mà con mãi chưa nhích số: Đừng ép ăn nữa, đổi GrowPLUS+ đỏ hỗ trợ bụng con êm ru, tiêu hóa khỏe nè. Bí kíp tui để giỏ hàng góc trái nha #growplusdo #suatangcan #NutifoodGrowPLUS #DonBayTangCan #TayChamHangNang
#viral #sanp #snake #rishtaydar #people
پاکستان سے ایران کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے زائرین کا سفر محض ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ یہ عقیدت، صبر اور برداشت کا ایک طویل امتحان بھی بن جاتا ہے۔ بالخصوص پاکستان ایران سرحد کے راستے سفر کرنے والے بہت سے زائرین کے لیے یہ مرحلہ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی دشوار ثابت ہوتا ہے۔ زائرین اپنے دلوں میں امام رضا علیہ السلام، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی آرزو لیے سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے سرحد تک پہنچتے ہیں۔ ان میں بزرگ، خواتین، بچے اور ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود صرف محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں یہ طویل سفر اختیار کرتے ہیں۔ مگر سرحد تک پہنچنے کے بعد ان کے لیے انتظار اور مختلف انتظامی و سکیورٹی مراحل ایک بڑی آزمائش بن سکتے ہیں۔ طویل انتظار، بار بار دستاویزات کی جانچ، سفری قافلوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں، بنیادی سہولیات کی کمی اور بعض اوقات غیر واضح طریقۂ کار زائرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ شدید گرمی، تھکن اور طویل سفر کے بعد اگر ایک زائر کو گھنٹوں یا اس سے بھی زیادہ وقت انتظار کرنا پڑے تو یہ تکلیف صرف جسم تک محدود نہیں رہتی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ زائر وہاں کسی تفریح یا دنیاوی مقصد کے لیے نہیں پہنچا ہوتا۔ اس کے سامان میں چند کپڑے ہوتے ہیں، ہاتھ میں پاسپورٹ ہوتا ہے اور دل میں صرف یہ خواہش کہ کسی طرح سرحد پار ہو اور اس سرزمین تک پہنچ جائے جہاں اس کے مقدسات موجود ہیں۔ یقیناً ریاست کے لیے سرحدی سکیورٹی، امیگریشن اور قانونی تقاضے ناگزیر ہیں، اور ہر مسافر کو مقررہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ لیکن سکیورٹی اور انسانی سہولت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ مؤثر نگرانی کے ساتھ زائرین کے لیے باعزت، منظم اور واضح طریقۂ کار بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے مناسب انتظار گاہیں، پینے کا صاف پانی، بیت الخلا، طبی امداد، واضح رہنمائی اور امیگریشن کے تیز اور منظم مراحل بنیادی ضروریات ہیں، کوئی غیر معمولی رعایت نہیں۔ ایک زائر جب پاکستان کی سرحد سے ایران کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے سفر کی تھکن اور مشکلات کی ایک پوری داستان ہوتی ہے، لیکن سامنے زیارت کی امید ہوتی ہے۔ یہی امید اسے گرمی، انتظار، تھکن اور راستے کی سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اور شاید اس پورے سفر کا سب سے گہرا منظر وہ ہوتا ہے جب تمام رکاوٹوں اور انتظار کے بعد زائر بالآخر سرحد عبور کرتا ہے۔ تھکے ہوئے چہرے پر اطمینان آتا ہے، قدموں میں پھر سے طاقت محسوس ہوتی ہے اور دل میں منزل قریب ہونے کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ابھی مشہد، قم اور دوسرے مقدس مقامات تک بہت سا راستہ باقی ہے، مگر دل جیسے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ راہِ زیارت کی سختیاں قدموں کو تھکا سکتی ہیں، مگر جس دل میں شوقِ زیارت زندہ ہو، اسے منزل کی امید آگے بڑھاتی رہتی ہے
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy