@heitor.ibelli:

Heitor Ibelli
Heitor Ibelli
Open In TikTok:
Region: BR
Tuesday 17 March 2026 21:00:28 GMT
1675
204
3
14

Music

Download

Comments

geovanabelemi
Geovana Lima :
😂😂😂 eu
2026-03-18 22:59:48
0
bebel.stella
Bebel Stella :
Ofélia kkkk
2026-03-18 14:27:58
0
luma.marzarroto
lumis :
💗💗💗
2026-03-17 21:03:49
0
To see more videos from user @heitor.ibelli, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جہیز نہیں، تحفظ دو — بیٹی بوجھ نہیں، ذمہ داری ہے ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین کے ذہن میں جہیز کے بوجھ کا خیال پلنے لگتا ہے۔ سالہا سال کی کمائی، قرضے، زیورات، فرنیچر، گاڑیاں—سب کچھ اس دن کے لیے جمع کیا جاتا ہے جسے خوشی کا دن کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں وہ دن اکثر ایک معاشرتی دباؤ کی تکمیل بن کر رہ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب واقعی بیٹی کی خوشی اور تحفظ کی ضمانت ہے؟ جہیز ایک رسم نہیں، ایک ناسور بن چکا ہے۔ اس نے بیٹی کو محبت کے رشتے سے نکال کر لین دین کی چیز بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی والدین اپنی بیٹی کو وہ تحفظ نہیں دے پاتے جس کی اسے اصل میں ضرورت ہوتی ہے۔ جہیز وقتی دکھاوا تو ہو سکتا ہے، مگر زندگی بھر کا سہارا نہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین اسی رقم سے بیٹی کے نام ایک چھوٹا سا گھر خرید دیں—چاہے وہ دو مرلے ہی کیوں نہ ہو—تو وہ اس کے لیے ایک حقیقی ڈھال بن سکتا ہے۔ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ اگر خدانخواستہ رشتہ ٹوٹ جائے، یا حالات خراب ہو جائیں، تو یہی چھوٹا سا گھر بیٹی کے لیے عزت اور تحفظ کی علامت بن جاتا ہے۔ اسے کسی کے در پر دھکے نہیں کھانے پڑتے، نہ ہی وہ معاشرے کے رحم و کرم پر رہتی ہے۔ یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ جہیز سے عزت بڑھتی ہے۔ عزت اس میں ہے کہ بیٹی کو خودمختار بنایا جائے، اسے سہارا دیا جائے، نہ کہ اسے رسموں کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔ ایک گھر صرف اینٹوں کا ڈھیر نہیں ہوتا، یہ اعتماد، سکون اور وقار کا نام ہے۔ آج وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ بیٹی کو قیمتی سامان نہیں، مضبوط بنیاد دیں۔ جہیز کے نام پر دولت لٹانے کے بجائے اس کی زندگی کو محفوظ بنائیں۔ کیونکہ کل اگر حالات بدل جائیں، تو یہی فیصلہ اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ بیٹی کو جہیز نہیں، حق دو۔ اسے دکھاوے نہیں، تحفظ دو۔ #trending #support #views #fyp #عورت
جہیز نہیں، تحفظ دو — بیٹی بوجھ نہیں، ذمہ داری ہے ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین کے ذہن میں جہیز کے بوجھ کا خیال پلنے لگتا ہے۔ سالہا سال کی کمائی، قرضے، زیورات، فرنیچر، گاڑیاں—سب کچھ اس دن کے لیے جمع کیا جاتا ہے جسے خوشی کا دن کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں وہ دن اکثر ایک معاشرتی دباؤ کی تکمیل بن کر رہ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب واقعی بیٹی کی خوشی اور تحفظ کی ضمانت ہے؟ جہیز ایک رسم نہیں، ایک ناسور بن چکا ہے۔ اس نے بیٹی کو محبت کے رشتے سے نکال کر لین دین کی چیز بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی والدین اپنی بیٹی کو وہ تحفظ نہیں دے پاتے جس کی اسے اصل میں ضرورت ہوتی ہے۔ جہیز وقتی دکھاوا تو ہو سکتا ہے، مگر زندگی بھر کا سہارا نہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین اسی رقم سے بیٹی کے نام ایک چھوٹا سا گھر خرید دیں—چاہے وہ دو مرلے ہی کیوں نہ ہو—تو وہ اس کے لیے ایک حقیقی ڈھال بن سکتا ہے۔ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ اگر خدانخواستہ رشتہ ٹوٹ جائے، یا حالات خراب ہو جائیں، تو یہی چھوٹا سا گھر بیٹی کے لیے عزت اور تحفظ کی علامت بن جاتا ہے۔ اسے کسی کے در پر دھکے نہیں کھانے پڑتے، نہ ہی وہ معاشرے کے رحم و کرم پر رہتی ہے۔ یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ جہیز سے عزت بڑھتی ہے۔ عزت اس میں ہے کہ بیٹی کو خودمختار بنایا جائے، اسے سہارا دیا جائے، نہ کہ اسے رسموں کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔ ایک گھر صرف اینٹوں کا ڈھیر نہیں ہوتا، یہ اعتماد، سکون اور وقار کا نام ہے۔ آج وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ بیٹی کو قیمتی سامان نہیں، مضبوط بنیاد دیں۔ جہیز کے نام پر دولت لٹانے کے بجائے اس کی زندگی کو محفوظ بنائیں۔ کیونکہ کل اگر حالات بدل جائیں، تو یہی فیصلہ اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ بیٹی کو جہیز نہیں، حق دو۔ اسے دکھاوے نہیں، تحفظ دو۔ #trending #support #views #fyp #عورت

About