@myla_byryndychka:

myla_byryndychka
myla_byryndychka
Open In TikTok:
Region: UA
Friday 20 March 2026 15:37:33 GMT
10561
1167
8
3

Music

Download

Comments

darinka_kozub
darinka_kozub :
Яка милота🥰
2026-03-23 14:51:54
0
user954455955822
Сонька :
БОГИНЯ 😍
2026-03-20 21:18:09
0
lvitsa_777
𝐋𝐕𝐈𝐓𝐒𝐀🦁 :
вой шо за буся😍👑
2026-03-22 20:18:28
1
user2747255195062
user2747255195062 :
🥰🥰🥰
2026-03-20 20:49:53
0
tadas19900
Tadas 19990 :
💗💗💗💗💗
2026-03-20 15:59:30
0
annu_cherry
@Annu_cherry♡☆ :
❤️❤️❤️
2026-03-20 15:54:12
0
bogdan.tsybulskyi
Bogdan :
🥰🥰🥰
2026-03-20 15:51:23
0
dima_stavba
діма :
🔥🔥🔥
2026-03-21 12:35:05
0
To see more videos from user @myla_byryndychka, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج کل کے والدین اپنے بچوں سے 25 سال کی عمر میں ایک مکمل، مستحکم اور کامیاب انسان بننے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مطالبے کی قیمت بچے اپنی ذہنی ساکھ اور روح گنوا کر چکا رہا ہے۔ جب ایک نوجوان کو اپنے ہی گھر میں محبت اور عزت مشروط (conditional) ملنے لگے — کہ اگر کماؤ گے تو عزت ہوگی، اگر سیٹل ہو گے تو فخر کیا جائے گا — تو اس کے اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔ گھر، جو دنیا کی تلخیوں سے بچے کا آخری قلعہ ہونا چاہیے تھا، جب وہی ایک ایسی عدالت بن جائے جہاں ہر روز بچے کی صلاحیتوں کا ٹرائل ہو، تو نوجوان اندر سے بالکل بےجان اور اکیلا ہو جاتا ہے۔ یہ مسلسل موازنہ اور ناکامی کا احساس آہستہ آہستہ شدید اینگزائٹی اور گہرے ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ وقت جب ایسے انسان ملتے ہیں تو دل یہ رتہ ہے کہ جسے ہم بنا نہیں پاتا، جب دن رات کی محنت کے باوجود وہ والدین کے طے کردہ اس معیار کو نہیں چھو پاتا جو انہوں نے خود 40 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا، تو اس کے اندر یہ زہریلا یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ
آج کل کے والدین اپنے بچوں سے 25 سال کی عمر میں ایک مکمل، مستحکم اور کامیاب انسان بننے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مطالبے کی قیمت بچے اپنی ذہنی ساکھ اور روح گنوا کر چکا رہا ہے۔ جب ایک نوجوان کو اپنے ہی گھر میں محبت اور عزت مشروط (conditional) ملنے لگے — کہ اگر کماؤ گے تو عزت ہوگی، اگر سیٹل ہو گے تو فخر کیا جائے گا — تو اس کے اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔ گھر، جو دنیا کی تلخیوں سے بچے کا آخری قلعہ ہونا چاہیے تھا، جب وہی ایک ایسی عدالت بن جائے جہاں ہر روز بچے کی صلاحیتوں کا ٹرائل ہو، تو نوجوان اندر سے بالکل بےجان اور اکیلا ہو جاتا ہے۔ یہ مسلسل موازنہ اور ناکامی کا احساس آہستہ آہستہ شدید اینگزائٹی اور گہرے ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ وقت جب ایسے انسان ملتے ہیں تو دل یہ رتہ ہے کہ جسے ہم بنا نہیں پاتا، جب دن رات کی محنت کے باوجود وہ والدین کے طے کردہ اس معیار کو نہیں چھو پاتا جو انہوں نے خود 40 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا، تو اس کے اندر یہ زہریلا یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ "میں ایک بوجھ ہوں"۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسانی نفسیات بار مان جاتی ہے۔ جب چاروں طرف اندھیرا ہو، گھر بھی اور باہر بھی، اور ہر رشتہ صرف کارکردگی مانگ رہا ہو، تو نوجوان اس روز کی ذلت، مایوسی اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے فرار پانے کے لیے اپنی زندگی ہی ختم کرنے جیسا انتہائی اور لرزہ خیز قدم اٹھا لیتا ہے۔ یہ خودکشی صرف ایک جان کا جانا نہیں ہے، یہ معاشرے اور والدین کے اس رویے کا قتلِ عمد ہے جو ایک جیتے جاگتے وجود کو جیتے جی ایک لاش میں تبدیل کر دیتا ہے۔ 😊❤️‍🩹 #foruyou #fypviral🖤tiktok #fypppppppppppppp #asthetic #poetry @TikTok

About