@mua.aroalozano: Qué barbaridad 💁🏻‍♀️#Invertido #humor #makeup #twitch #makeuphacks

Aroa Lozano Redondo
Aroa Lozano Redondo
Open In TikTok:
Region: ES
Tuesday 24 March 2026 15:06:58 GMT
1180
29
4
10

Music

Download

Comments

melisarp
Melisa :
WOW
2026-03-24 18:13:45
1
filoredondo
Filo Redondo :
🥰🥰🥰
2026-03-24 16:51:36
1
To see more videos from user @mua.aroalozano, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پیشاب پانی سے نہیں، خون سے بنتا ہے !  قدرت کا تخلیق کردہ انسانی جسم کا حیران کن نظام ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم نے پانی پیا، پانی معدے سے گزرا، گردوں تک پہنچا اور وہاں سے پیشاب بن گیا۔ لیکن انسانی جسم کا اصل نظام اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیشاب بنانے کے لیے گردوں تک جو پانی پہنچتا ہے، وہ پہلے خون کا حصہ بنتا ہے۔ گردے پانی کی بوتل سے براہِ راست پانی نہیں لیتے، بلکہ خون کو فلٹر کرتے ہیں۔ آئیے اس پورے سفر کو آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔ پانی پینے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جب ہم پانی پیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے غذائی نالی سے ہوتا ہوا معدے میں پہنچتا ہے۔ وہاں سے آگے چھوٹی آنت میں جاتا ہے۔ چھوٹی آنت کی دیوار میں موجود باریک خون کی نالیوں کے ذریعے پانی اور بہت سے تحلیل شدہ اجزا جسم میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یعنی پانی آنت سے گزر کر خون کے دھارے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب یہ پانی الگ کسی پائپ میں سفر نہیں کر رہا ہوتا۔ یہ خون کے مائع حصے یعنی پلازما کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ پھر خون گردوں تک کیسے پہنچتا ہے؟ آنتوں سے جذب ہونے والا پانی اور غذائی اجزا خون کے ذریعے جگر اور پھر جسم کے عمومی دورانِ خون میں شامل ہوتے ہیں۔ دل خون کو پمپ کرتا ہے اور خون پورے جسم میں گردش کرتا ہوا گردوں تک بھی پہنچتا ہے۔ یہاں ایک حیرت انگیز عمل شروع ہوتا ہے۔ گردے پانی کو کیسے الگ کرتے ہیں؟ ہر گردے میں تقریباً دس لاکھ کے قریب نہایت باریک فلٹرنگ یونٹس ہوتے ہیں جنہیں نیفرون کہا جاتا ہے۔ خون نیفرون کے ایک حصے، یعنی گلو میرولس، میں پہنچتا ہے۔ وہاں خون کا دباؤ بہت سے چھوٹے مالیکیولز، جن میں پانی، نمکیات، گلوکوز، یوریا اور دیگر چھوٹے اجزا شامل ہیں، کو فلٹر میں سے گزار دیتا ہے۔ لیکن جسم کا عقلمند نظام صرف یہ نہیں کہتا کہ جو پانی ملا اسے باہر نکال دو۔ نہیں! جسم کو جتنا پانی چاہیے، وہ واپس لے لیا جاتا ہے فلٹریشن کے بعد نیفرون کی نالیوں میں ایک بڑی مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے۔ جسم ضرورت کے مطابق اس پانی اور ضروری نمکیات کا بڑا حصہ دوبارہ خون میں جذب کر لیتا ہے۔ اسی عمل کو reabsorption کہا جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی کم ہو تو گردے پانی زیادہ محفوظ کرتے ہیں اور پیشاب زیادہ گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی زیادہ ہو تو گردے اضافی پانی کو پیشاب کے ذریعے باہر نکال دیتے ہیں اور پیشاب زیادہ پتلا ہو جاتا ہے۔ پھر پیشاب کیا ہے؟ آخر میں وہ مائع جو گردوں نے فلٹر کیا، جس میں جسم کے لیے غیر ضروری یا اضافی پانی، یوریا، کریاٹینین، اضافی نمکیات اور دیگر فاضل مادے شامل ہوتے ہیں، پیشاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ گردوں سے یوریٹر کے ذریعے مثانے میں پہنچتا ہے، جہاں کچھ وقت جمع رہتا ہے، اور پھر پیشاب کی نالی کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ تو کیا واقعی پیشاب خون سے بنتا ہے؟ ہاں، بنیادی طور پر یہ بات درست ہے۔ لیکن زیادہ سائنسی انداز میں کہیں تو: یعنی ہمارے جسم میں پانی کا سفر کچھ یوں ہے: پانی پیا → آنت → خون → دل → گردے → فلٹریشن → ضروری پانی واپس خون میں → اضافی پانی + فضلات → پیشاب → مثانہ → جسم سے باہر یہ نظام ہمیں یہ حیرت انگیز حقیقت سمجھاتا ہے کہ گردے صرف پیشاب بنانے والی مشین نہیں، بلکہ جسم کے پانی، نمکیات اور کیمیائی توازن کے محافظ ہیں۔ انسان ایک گلاس پانی پیتا ہے، مگر جسم اسے محض “پانی” سمجھ کر آگے نہیں بھیجتا۔ وہ اسے جذب کرتا ہے، خون کا حصہ بناتا ہے، پورے جسم میں گردش کرواتا ہے، پھر گردے فیصلہ کرتے ہیں کہ اس میں سے کیا محفوظ رکھنا ہے اور کیا باہر نکالنا ہے۔ یہی انسانی جسم کا حیرت انگیز توازن ہے جو الله پاک نے  کمال بنایا.
پیشاب پانی سے نہیں، خون سے بنتا ہے ! قدرت کا تخلیق کردہ انسانی جسم کا حیران کن نظام ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم نے پانی پیا، پانی معدے سے گزرا، گردوں تک پہنچا اور وہاں سے پیشاب بن گیا۔ لیکن انسانی جسم کا اصل نظام اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیشاب بنانے کے لیے گردوں تک جو پانی پہنچتا ہے، وہ پہلے خون کا حصہ بنتا ہے۔ گردے پانی کی بوتل سے براہِ راست پانی نہیں لیتے، بلکہ خون کو فلٹر کرتے ہیں۔ آئیے اس پورے سفر کو آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔ پانی پینے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جب ہم پانی پیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے غذائی نالی سے ہوتا ہوا معدے میں پہنچتا ہے۔ وہاں سے آگے چھوٹی آنت میں جاتا ہے۔ چھوٹی آنت کی دیوار میں موجود باریک خون کی نالیوں کے ذریعے پانی اور بہت سے تحلیل شدہ اجزا جسم میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یعنی پانی آنت سے گزر کر خون کے دھارے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب یہ پانی الگ کسی پائپ میں سفر نہیں کر رہا ہوتا۔ یہ خون کے مائع حصے یعنی پلازما کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ پھر خون گردوں تک کیسے پہنچتا ہے؟ آنتوں سے جذب ہونے والا پانی اور غذائی اجزا خون کے ذریعے جگر اور پھر جسم کے عمومی دورانِ خون میں شامل ہوتے ہیں۔ دل خون کو پمپ کرتا ہے اور خون پورے جسم میں گردش کرتا ہوا گردوں تک بھی پہنچتا ہے۔ یہاں ایک حیرت انگیز عمل شروع ہوتا ہے۔ گردے پانی کو کیسے الگ کرتے ہیں؟ ہر گردے میں تقریباً دس لاکھ کے قریب نہایت باریک فلٹرنگ یونٹس ہوتے ہیں جنہیں نیفرون کہا جاتا ہے۔ خون نیفرون کے ایک حصے، یعنی گلو میرولس، میں پہنچتا ہے۔ وہاں خون کا دباؤ بہت سے چھوٹے مالیکیولز، جن میں پانی، نمکیات، گلوکوز، یوریا اور دیگر چھوٹے اجزا شامل ہیں، کو فلٹر میں سے گزار دیتا ہے۔ لیکن جسم کا عقلمند نظام صرف یہ نہیں کہتا کہ جو پانی ملا اسے باہر نکال دو۔ نہیں! جسم کو جتنا پانی چاہیے، وہ واپس لے لیا جاتا ہے فلٹریشن کے بعد نیفرون کی نالیوں میں ایک بڑی مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے۔ جسم ضرورت کے مطابق اس پانی اور ضروری نمکیات کا بڑا حصہ دوبارہ خون میں جذب کر لیتا ہے۔ اسی عمل کو reabsorption کہا جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی کم ہو تو گردے پانی زیادہ محفوظ کرتے ہیں اور پیشاب زیادہ گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی زیادہ ہو تو گردے اضافی پانی کو پیشاب کے ذریعے باہر نکال دیتے ہیں اور پیشاب زیادہ پتلا ہو جاتا ہے۔ پھر پیشاب کیا ہے؟ آخر میں وہ مائع جو گردوں نے فلٹر کیا، جس میں جسم کے لیے غیر ضروری یا اضافی پانی، یوریا، کریاٹینین، اضافی نمکیات اور دیگر فاضل مادے شامل ہوتے ہیں، پیشاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ گردوں سے یوریٹر کے ذریعے مثانے میں پہنچتا ہے، جہاں کچھ وقت جمع رہتا ہے، اور پھر پیشاب کی نالی کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ تو کیا واقعی پیشاب خون سے بنتا ہے؟ ہاں، بنیادی طور پر یہ بات درست ہے۔ لیکن زیادہ سائنسی انداز میں کہیں تو: یعنی ہمارے جسم میں پانی کا سفر کچھ یوں ہے: پانی پیا → آنت → خون → دل → گردے → فلٹریشن → ضروری پانی واپس خون میں → اضافی پانی + فضلات → پیشاب → مثانہ → جسم سے باہر یہ نظام ہمیں یہ حیرت انگیز حقیقت سمجھاتا ہے کہ گردے صرف پیشاب بنانے والی مشین نہیں، بلکہ جسم کے پانی، نمکیات اور کیمیائی توازن کے محافظ ہیں۔ انسان ایک گلاس پانی پیتا ہے، مگر جسم اسے محض “پانی” سمجھ کر آگے نہیں بھیجتا۔ وہ اسے جذب کرتا ہے، خون کا حصہ بناتا ہے، پورے جسم میں گردش کرواتا ہے، پھر گردے فیصلہ کرتے ہیں کہ اس میں سے کیا محفوظ رکھنا ہے اور کیا باہر نکالنا ہے۔ یہی انسانی جسم کا حیرت انگیز توازن ہے جو الله پاک نے کمال بنایا.

About