@i4.xcwi: طلي هلي يا قمر الزمان … 🤍🎧 #اغاني #Sing_Oldies #song #اغاني_عربية #musica

𝑯𝒖𝒔𝒔𝒆𝒊𝒏
𝑯𝒖𝒔𝒔𝒆𝒊𝒏
Open In TikTok:
Region: AT
Wednesday 25 March 2026 05:42:24 GMT
159591
8824
50
439

Music

Download

Comments

amooor293
Amooor :
ويا نجمة بضوي ليالي وبتشعشع حنان 🌷🌷
2026-03-25 11:08:42
13
2008msz
M.S.Z :
2026-04-25 19:42:15
1
s20000s7
% :
2026-04-12 20:58:37
0
3052y
طاهر البياز 305 :
الأغنية دي ب تخليني انزل استريو لما اسمها 💖💖💖
2026-04-05 23:43:04
0
malika.misk
💓MERO TOLBA💓 :
😁😁😁
2026-03-25 06:09:02
5
besanhamadneh446
♥️Besan♥️ :
❤️❤️
2026-03-26 09:13:51
5
y_ui_73
𝑺 :
@🫀𝓔𝓢𝓡𝓐𝓐🫀🫰🏻
2026-04-20 14:28:39
1
fatahgso
cartoon🦕 :
💗💗💗
2026-04-29 07:45:48
1
alia3636363636368
A :
وع بالي هههههههههههههه @y_
2026-04-20 14:55:38
1
nfjhfhfjj
سوسو :
@علي الشمري ويا نجمة بضوي ليالي وبتشعشع حنان
2026-04-06 20:59:13
2
user2151785661341
اسمر ادلبي :
💚💚💚
2026-03-25 10:10:39
3
To see more videos from user @i4.xcwi, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا افسوسناک واقعہ ایک بار پھر بلوچستان کے صحت کے نظام اور ایمرجنسی میڈیکل سہولیات پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر کو شدید زخمی حالت میں ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں جدید طبی سہولیات اور برن یونٹ میں علاج فراہم کیا جائے گا۔ اصل سوال: کوئٹہ میں علاج کیوں ممکن نہیں؟ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر صوبے کے صحت کے بجٹ پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو پھر کوئٹہ میں ایسے نازک اور زندگی و موت کے کیسز کا مکمل علاج کیوں ممکن نہیں؟ اہم مسائل سامنے آ گئے ہیں: 1. جدید برن یونٹ کی کمی تیزاب کے حملے کے کیسز میں خصوصی برن یونٹ، پلاسٹک سرجری اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات ناگزیر ہوتی ہیں، جو بظاہر کوئٹہ میں مکمل یا مؤثر سطح پر موجود نہیں۔ 2. ماہر ڈاکٹروں کی کمی ایسے پیچیدہ کیسز کے لیے ٹراما اور برن اسپیشلسٹ ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے، جو اکثر صوبائی سطح کے اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہوتی۔ 3. کراچی پر انحصار سنگین طبی کیسز کے لیے ملک کا بڑا انحصار اب بھی کراچی کے بڑے اسپتالوں پر ہے، جس کے باعث وقت ضائع ہونے اور مریض کی حالت بگڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 4. ایمرجنسی نظام کی کمزوریاں بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات کے باوجود کوئٹہ کا ایمرجنسی اور ٹراما سسٹم مکمل طور پر مضبوط نہیں ہو سکا۔ اہم سوال یہ واقعہ صرف ایک ڈاکٹر پر حملہ نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام پر ایک بڑا سوال ہے کہ: کیا واقعی اربوں روپے کے صحت کے بجٹ کے باوجود بلوچستان میں بنیادی اور جدید طبی سہولیات عوام اور مریضوں کو میسر ہیں؟ نتیجہ یہ واقعہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں بھی شدید زخمی مریضوں کو فوری اور مکمل علاج کی سہولت نہیں مل پاتی، جس کے باعث انہیں کراچی منتقل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا افسوسناک واقعہ ایک بار پھر بلوچستان کے صحت کے نظام اور ایمرجنسی میڈیکل سہولیات پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر کو شدید زخمی حالت میں ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں جدید طبی سہولیات اور برن یونٹ میں علاج فراہم کیا جائے گا۔ اصل سوال: کوئٹہ میں علاج کیوں ممکن نہیں؟ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر صوبے کے صحت کے بجٹ پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو پھر کوئٹہ میں ایسے نازک اور زندگی و موت کے کیسز کا مکمل علاج کیوں ممکن نہیں؟ اہم مسائل سامنے آ گئے ہیں: 1. جدید برن یونٹ کی کمی تیزاب کے حملے کے کیسز میں خصوصی برن یونٹ، پلاسٹک سرجری اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات ناگزیر ہوتی ہیں، جو بظاہر کوئٹہ میں مکمل یا مؤثر سطح پر موجود نہیں۔ 2. ماہر ڈاکٹروں کی کمی ایسے پیچیدہ کیسز کے لیے ٹراما اور برن اسپیشلسٹ ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے، جو اکثر صوبائی سطح کے اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہوتی۔ 3. کراچی پر انحصار سنگین طبی کیسز کے لیے ملک کا بڑا انحصار اب بھی کراچی کے بڑے اسپتالوں پر ہے، جس کے باعث وقت ضائع ہونے اور مریض کی حالت بگڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 4. ایمرجنسی نظام کی کمزوریاں بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات کے باوجود کوئٹہ کا ایمرجنسی اور ٹراما سسٹم مکمل طور پر مضبوط نہیں ہو سکا۔ اہم سوال یہ واقعہ صرف ایک ڈاکٹر پر حملہ نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام پر ایک بڑا سوال ہے کہ: کیا واقعی اربوں روپے کے صحت کے بجٹ کے باوجود بلوچستان میں بنیادی اور جدید طبی سہولیات عوام اور مریضوں کو میسر ہیں؟ نتیجہ یہ واقعہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں بھی شدید زخمی مریضوں کو فوری اور مکمل علاج کی سہولت نہیں مل پاتی، جس کے باعث انہیں کراچی منتقل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

About