@fdinero01: that one gee that doesn’t believe he don wacko 😁🤣 #viralvideo #smoke #wacko #fyppppppppppppppppppppppp #nigeriatiktok🇳🇬🇳🇬🇳🇬

fdinero01
fdinero01
Open In TikTok:
Region: NG
Wednesday 25 March 2026 15:53:09 GMT
6084
407
11
57

Music

Download

Comments

danielkalipous171
KEZY T 147 :
much love my bro 🥰
2026-07-13 10:22:03
0
lightness1000
Lightness 🦊 :
Where my phone Dey 😂
2026-03-28 19:31:41
0
augustine_chukwuma
oxymane ☔️ :
na my roommate when I dey sch be this 😂😂
2026-03-25 18:30:40
2
0famous0
F-DINERO🗝️🪨 :
Just de smoke de go
2026-03-25 16:00:05
4
danizy3
danizy♥ :
all them famous and world man 😂
2026-03-25 16:18:28
2
worldmanloko
WORLDMAN–LOKO 🌍 🪖🕊️ :
Nah 2 backy you don de on ohh 😅
2026-03-25 16:07:25
2
kaykennionly1
🪽Kay💎Kenni🪽 :
i swear clear this one first
2026-04-08 08:35:31
0
call_me_worldman
WØRLDMΔN🪖 :
😂😂😂😂😂
2026-03-25 16:36:50
1
_mr_lee001
🍃SUGAR LEE🖤🥷🏽 :
😂😂
2026-04-09 23:32:57
0
nofacee489
NOFACE🥷🏿⚠️ :
🥰🥰🥰
2026-04-21 22:00:17
0
fulanians
@saeed--yusuf :
i beg do video for that guy wey de hide his smoke
2026-05-20 00:30:17
0
To see more videos from user @fdinero01, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا آج اُس زندگی شناس شخصیت کی برسی ہے جس نے موت کو اختتام نہیں بلکہ ایک دریا کا سمندر میں اُتر جانا قرار دیا تھا۔ اس منفرد شخصیت نے نہ صرف اپنی فکر اور  تخلیقی بصیرت سے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد شستہ صحافتی نثر، ادبی صحافت اور نشریاتی ادب کو بھی نئی شناخت بخشی۔ کمال قدرت دیکھئیے کہ اس زندگی شناس شخصیت کا پاکستان میں پہلا تعارف ریڈیو پاکستان پشاور کے ایک کارکن (اسکرپٹ رائٹر) کے طور پر ٹھہرا۔گو ریڈیو پاکستان سے ان کی یہ عملی وابستگی محض دو برس (۱۹۴۷ اور ۱۹۴۸)تک محدود رہی، لیکن بعد کے آنے والے تمام برسوں میں نہ وہ ریڈیو پاکستان سے الگ ہو سکے اور نہ ہی ریڈیو پاکستان نے انہیں کبھی فراموش کیا۔ ان کی نظمیں، افسانے، ڈرامے، فیچر، تبصرے اور شخصیت پر مبنی خصوصی پروگرام مسلسل ریڈیو پاکستان کی نشریات کا حصہ بنتے رہے۔ ریڈیو پاکستان کی ادبی تاریخ کا کوئی سنجیدہ مطالعہ اس دریا دل ہستی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔  دنیا اس زندگی شناس کو احمد ندیم قاسمیؔ کے نام سے جانتی ہے۔ شاید انہیں خود بھی اپنے لفظوں کی ابدیت پر یقین تھا، اسی لیے انہوں نے کہا تھا: ؎ کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں، سمندر میں اُتر جاؤں گا احمد ندیم قاسمیؔ کا اصل نام احمد شاہ اعوان تھا۔ وہ 20 نومبر 1916ء کو ضلع خوشاب کے قصبہ انگہ میں پیدا ہوئے۔ تین برس کی عمر میں والد پیر غلام نبی کے انتقال کے باعث ان کے سر سے شفقت کا سایہ اٹھ گیا، جس کے نتیجے میں انہیں بچپن ہی سے معاشی مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول، شیخوپورہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے میں ان کا رجحان شعر و ادب کی طرف ہوگیا اور انہوں نے شاعری کا آغاز کر دیا۔ مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر لکھی گئی ان کی پہلی نظم روزنامہ ‘سیاست’ میں شائع ہوئی، جبکہ 1934ء سے 1937ء تک ان کی غزلیں اور نظمیں روزنامہ ‘انقلاب’ اور ‘زمیندار’ میں مسلسل شائع ہوتی رہیں، جس کے باعث وہ نوجوانی ہی میں ادبی حلقوں میں ممتاز مقام حاصل کر گئے۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے 1935ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا اور روزگار کی تلاش میں لاہور منتقل ہو گئے۔ لاہور میں انہیں اختر شیرانی، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر جیسے اپنے عہد کے ممتاز ادیبوں اور شاعروں کی صحبت میسر آئی۔ اسی ماحول نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی اور انہوں نے افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ اردو افسانے کے سب سے معتبر اور بااثر تخلیق کاروں میں شمار ہونے لگے۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1939ء میں محکمۂ آبکاری میں ملازمت سے کیا۔ 1942ء میں انہوں نے محکمۂ آبکاری کی ملازمت چھوڑ دی اور امتیاز علی تاج کے اشاعتی ادارے سے وابستہ ہو کر بچوں کے رسالے ‘پھول’ اور خواتین کے جریدے ‘تہذیبِ نسواں’ کی ادارت سنبھال لی۔ 1943ء میں وہ معروف ادبی جریدے ‘ادبِ لطیف’ کے مدیر مقرر ہوئے۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے 1946ء میں ‘ادبِ لطیف’ کی ادارت چھوڑ کر ریڈیو پاکستان پشاور میں بطور اسکرپٹ رائٹر خدمات انجام دینا شروع کیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948ء تک وہ ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ رہے اور ابتدائی نشریاتی دور میں ادبی، ثقافتی اور تخلیقی پروگراموں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعدازاں وہ ادبی رسالے ‘نقوش’ سے وابستہ ہوئے۔ 1963ء میں انہوں نے اپنا ادبی رسالہ ‘فنون’ جاری کیا اور زندگی کے آخری دن تک اس کی ادارت کرتے رہے۔ وہ روزنامہ ‘امروز’ میں فکاہیہ کالم ‘پنج دریا’ لکھتے رہے اور کچھ عرصہ اس کے مدیر بھی رہے، جبکہ ‘جنگ’، ‘حریت’ اور دیگر قومی اخبارات میں بھی ان کے کالم مستقل شائع ہوتے رہے۔ 1974ء سے اپنی وفات تک وہ مجلسِ ترقیِ ادب کے ناظم رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ احمد ندیم قاسمیؔ ترقی پسند ادبی تحریک کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی پاکستان شاخ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اپنے نظریات اور ادبی وابستگی کے باعث انہیں مختلف ادوار میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، لیکن انہوں نے کبھی سچ گوئی اور بے باکی  کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے شاعری میں محبت، انسان دوستی، دیہی تہذیب، فطرت، وطن دوستی اور سماجی شعور کو نہایت دل آویز انداز میں پیش کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں ‘دھڑکنیں’، ‘رم جھم’، ‘جلال و جمال’، ‘شعلۂ گل’، ‘دشتِ وفا’، ‘محیط’، ‘دوام’، ‘لوحِ خاک’، ‘جمال’ اور ‘ارض و سما’ شامل ہیں، جو اردو شاعری کا قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا آج اُس زندگی شناس شخصیت کی برسی ہے جس نے موت کو اختتام نہیں بلکہ ایک دریا کا سمندر میں اُتر جانا قرار دیا تھا۔ اس منفرد شخصیت نے نہ صرف اپنی فکر اور تخلیقی بصیرت سے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد شستہ صحافتی نثر، ادبی صحافت اور نشریاتی ادب کو بھی نئی شناخت بخشی۔ کمال قدرت دیکھئیے کہ اس زندگی شناس شخصیت کا پاکستان میں پہلا تعارف ریڈیو پاکستان پشاور کے ایک کارکن (اسکرپٹ رائٹر) کے طور پر ٹھہرا۔گو ریڈیو پاکستان سے ان کی یہ عملی وابستگی محض دو برس (۱۹۴۷ اور ۱۹۴۸)تک محدود رہی، لیکن بعد کے آنے والے تمام برسوں میں نہ وہ ریڈیو پاکستان سے الگ ہو سکے اور نہ ہی ریڈیو پاکستان نے انہیں کبھی فراموش کیا۔ ان کی نظمیں، افسانے، ڈرامے، فیچر، تبصرے اور شخصیت پر مبنی خصوصی پروگرام مسلسل ریڈیو پاکستان کی نشریات کا حصہ بنتے رہے۔ ریڈیو پاکستان کی ادبی تاریخ کا کوئی سنجیدہ مطالعہ اس دریا دل ہستی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ دنیا اس زندگی شناس کو احمد ندیم قاسمیؔ کے نام سے جانتی ہے۔ شاید انہیں خود بھی اپنے لفظوں کی ابدیت پر یقین تھا، اسی لیے انہوں نے کہا تھا: ؎ کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں، سمندر میں اُتر جاؤں گا احمد ندیم قاسمیؔ کا اصل نام احمد شاہ اعوان تھا۔ وہ 20 نومبر 1916ء کو ضلع خوشاب کے قصبہ انگہ میں پیدا ہوئے۔ تین برس کی عمر میں والد پیر غلام نبی کے انتقال کے باعث ان کے سر سے شفقت کا سایہ اٹھ گیا، جس کے نتیجے میں انہیں بچپن ہی سے معاشی مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول، شیخوپورہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے میں ان کا رجحان شعر و ادب کی طرف ہوگیا اور انہوں نے شاعری کا آغاز کر دیا۔ مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر لکھی گئی ان کی پہلی نظم روزنامہ ‘سیاست’ میں شائع ہوئی، جبکہ 1934ء سے 1937ء تک ان کی غزلیں اور نظمیں روزنامہ ‘انقلاب’ اور ‘زمیندار’ میں مسلسل شائع ہوتی رہیں، جس کے باعث وہ نوجوانی ہی میں ادبی حلقوں میں ممتاز مقام حاصل کر گئے۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے 1935ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا اور روزگار کی تلاش میں لاہور منتقل ہو گئے۔ لاہور میں انہیں اختر شیرانی، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر جیسے اپنے عہد کے ممتاز ادیبوں اور شاعروں کی صحبت میسر آئی۔ اسی ماحول نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی اور انہوں نے افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ اردو افسانے کے سب سے معتبر اور بااثر تخلیق کاروں میں شمار ہونے لگے۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1939ء میں محکمۂ آبکاری میں ملازمت سے کیا۔ 1942ء میں انہوں نے محکمۂ آبکاری کی ملازمت چھوڑ دی اور امتیاز علی تاج کے اشاعتی ادارے سے وابستہ ہو کر بچوں کے رسالے ‘پھول’ اور خواتین کے جریدے ‘تہذیبِ نسواں’ کی ادارت سنبھال لی۔ 1943ء میں وہ معروف ادبی جریدے ‘ادبِ لطیف’ کے مدیر مقرر ہوئے۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے 1946ء میں ‘ادبِ لطیف’ کی ادارت چھوڑ کر ریڈیو پاکستان پشاور میں بطور اسکرپٹ رائٹر خدمات انجام دینا شروع کیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948ء تک وہ ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ رہے اور ابتدائی نشریاتی دور میں ادبی، ثقافتی اور تخلیقی پروگراموں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعدازاں وہ ادبی رسالے ‘نقوش’ سے وابستہ ہوئے۔ 1963ء میں انہوں نے اپنا ادبی رسالہ ‘فنون’ جاری کیا اور زندگی کے آخری دن تک اس کی ادارت کرتے رہے۔ وہ روزنامہ ‘امروز’ میں فکاہیہ کالم ‘پنج دریا’ لکھتے رہے اور کچھ عرصہ اس کے مدیر بھی رہے، جبکہ ‘جنگ’، ‘حریت’ اور دیگر قومی اخبارات میں بھی ان کے کالم مستقل شائع ہوتے رہے۔ 1974ء سے اپنی وفات تک وہ مجلسِ ترقیِ ادب کے ناظم رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ احمد ندیم قاسمیؔ ترقی پسند ادبی تحریک کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی پاکستان شاخ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اپنے نظریات اور ادبی وابستگی کے باعث انہیں مختلف ادوار میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، لیکن انہوں نے کبھی سچ گوئی اور بے باکی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ احمد ندیم قاسمیؔ نے شاعری میں محبت، انسان دوستی، دیہی تہذیب، فطرت، وطن دوستی اور سماجی شعور کو نہایت دل آویز انداز میں پیش کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں ‘دھڑکنیں’، ‘رم جھم’، ‘جلال و جمال’، ‘شعلۂ گل’، ‘دشتِ وفا’، ‘محیط’، ‘دوام’، ‘لوحِ خاک’، ‘جمال’ اور ‘ارض و سما’ شامل ہیں، جو اردو شاعری کا قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں۔

About