@saqi.wrai8s: جو شخص تیرے تصور سے ہی مہک جائے سوچ تیرے دیدار سے اس کا کیا حال ہوتا ہوگا یہ کیسی محبت ہے جو موجودگی کی محتاج نہیں؟ یہ کیسا عشق ہے جو فاصلے میں بھی زندہ ہے ؟ وہ تجھے دیکھتا نہیں مگر تجھے محسوس کرتا ہے تیرا نام اس کے دل میں ایسے اترتا ہے جیسی دعا ہونٹوں پر آئے اور آنکھیں بھیگ جائیں۔ وہ جانتا ہے کہ تیرا دیدار اس کے وجود کو سنبھال نہیں پائے گا۔ جو حال تیرے تصور سے ہو جاتا ہے سوچ سامنے آ کر وہ خود کو کہاں رکھ پائے گا؟ اسی لیے وہ رک جاتا ہے۔ نظریں نہیں اٹھاتا ، قدم آگے نہیں بڑھاتا۔ کیونکہ وہ ڈرتا ہے دیدار سے نہیں بلکہ اس کیفیت سے جو دیدار کے بعد اس کے اندر ٹوٹ پڑے گی۔ یہ عشق دعویٰ نہیں کرتا یہ تو بس خاموشی میں سانس لیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں وہ خاموش ہے ، مگر اصل میں وہ مہک رہا ہے۔ تیرے تصور سے۔ اور وہ جانتا ہے کہ اگر کبھی تو سامنے آ گئی ، تو خوشبو لفظوں میں نہیں رہے گی پھر تو پورا وجود عشق بن جائے گا۔