@motivandoo.voce: @deepstorycast @sourafamiranda | Esteja pronto para a hora H 📌 . . . #reflexao #verdade #clipfyleague #deepstory #deepstoryclipfy

Motivandoo.Você
Motivandoo.Você
Open In TikTok:
Region: BR
Saturday 28 March 2026 19:27:56 GMT
760
63
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @motivandoo.voce, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#مباہلہ کیا ہے اور مسلمان عید مباہلہ کیوں مناتے ہیں؟ مباہلہ کا مطلب ہے ایک دوسرے پر نفرین کرنا تاکہ جو باطل پر ہے اس پر اللہ کا غضب نازل ہو اور جو حق پر ہے اسے پہچانا جائے۔ حق اور باطل میں تشخیص کی جائے۔ مباہلہ کسی خاص فرقے کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی عید ہے۔ 24 ذالحجہ ہر سال ہمیں ایک عظیم واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جس دن مسلمانوں کو عیسائیوں پر فتح ملی تھی۔ مباہلہ کا واقعہ 10ہجری کو پیش آیا۔ نجران یمن کے شمالی پہاڑی سلسلے میں واقعہ ہے جہاں عیسائیوں کی بڑی تعداد رہتی تھی۔ انہوں نے وہاں گرجہ گھر بھی بنایا ہوا تھا جہاں وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں نے مکہ کو فتح کیا اور اسلام تیزی سے پھیلا تو مختلف گروہ اسلام میں داخل ہوئے۔ دین کی دعوت کا ایک پیغام نجران کے عیسائیوں تک بھی پہنچا اُن میں سے کچھ لوگ مشتعل ہو گئے تو نجران کے بزرگ پادریوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہم بغیر لڑے حل کریں گے۔ کافی طویل مزاکرات کے بعد یہ طے پایا کہ 14 لوگوں پر مشتمل ایک قافلہ مدینہ روانہ کیا جاۓ۔ جب قافلہ مدینہ پہنچا تو وہاں کے لوگ نجرانیوں کے شاندار لباس سے بہت متاثر ہوئے۔ جب حضرت محمد صلی علی علیہ والہ وسلم نے دیکھا تو اپنا منہ موڑ لیا۔ وہ لوگ مسجد نبوی سے باہر نکل آئے۔ حضرت علی علیہ السلام نے کہا کہ آپ لوگوں کا لباس آپ کی ذہنی برتری کی عکاسی کرتا ہے اس لئے آپ اپنا لباس تبدیل کریں پھر حضور آپ سے ملیں گے۔ جب انہوں نے اپنا لباس تبدیل کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُن سے ملاقات کی۔ مختلف موضوعات پر بات کرنے کے بعد بھی عیسائی اسلام قبول کرنے پر راضی نہیں ہوئے۔ اسی موقع پر آیت مباہلہ نازل ہو ئی۔
#مباہلہ کیا ہے اور مسلمان عید مباہلہ کیوں مناتے ہیں؟ مباہلہ کا مطلب ہے ایک دوسرے پر نفرین کرنا تاکہ جو باطل پر ہے اس پر اللہ کا غضب نازل ہو اور جو حق پر ہے اسے پہچانا جائے۔ حق اور باطل میں تشخیص کی جائے۔ مباہلہ کسی خاص فرقے کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی عید ہے۔ 24 ذالحجہ ہر سال ہمیں ایک عظیم واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جس دن مسلمانوں کو عیسائیوں پر فتح ملی تھی۔ مباہلہ کا واقعہ 10ہجری کو پیش آیا۔ نجران یمن کے شمالی پہاڑی سلسلے میں واقعہ ہے جہاں عیسائیوں کی بڑی تعداد رہتی تھی۔ انہوں نے وہاں گرجہ گھر بھی بنایا ہوا تھا جہاں وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں نے مکہ کو فتح کیا اور اسلام تیزی سے پھیلا تو مختلف گروہ اسلام میں داخل ہوئے۔ دین کی دعوت کا ایک پیغام نجران کے عیسائیوں تک بھی پہنچا اُن میں سے کچھ لوگ مشتعل ہو گئے تو نجران کے بزرگ پادریوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہم بغیر لڑے حل کریں گے۔ کافی طویل مزاکرات کے بعد یہ طے پایا کہ 14 لوگوں پر مشتمل ایک قافلہ مدینہ روانہ کیا جاۓ۔ جب قافلہ مدینہ پہنچا تو وہاں کے لوگ نجرانیوں کے شاندار لباس سے بہت متاثر ہوئے۔ جب حضرت محمد صلی علی علیہ والہ وسلم نے دیکھا تو اپنا منہ موڑ لیا۔ وہ لوگ مسجد نبوی سے باہر نکل آئے۔ حضرت علی علیہ السلام نے کہا کہ آپ لوگوں کا لباس آپ کی ذہنی برتری کی عکاسی کرتا ہے اس لئے آپ اپنا لباس تبدیل کریں پھر حضور آپ سے ملیں گے۔ جب انہوں نے اپنا لباس تبدیل کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُن سے ملاقات کی۔ مختلف موضوعات پر بات کرنے کے بعد بھی عیسائی اسلام قبول کرنے پر راضی نہیں ہوئے۔ اسی موقع پر آیت مباہلہ نازل ہو ئی۔ "‏اے رسولؐ!!! اِن سے کہہ دیجیئے، کہ تم اپنے فرزند لاؤ ہم اپنے لاتے ہیں، تم اپنی عورتیں لاؤ ہم اپنی لاتے ہیں، تم اپنے نفس لاؤ ہم اپنے لاتے ہیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں"_ (آیتِ مباہلہ۔۔۔سورہ آل عمران) عیسائی اس بات پر راضی ہو گئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت سلیمان فارسیؓ کو تیاری کرنے کے لئے کہا۔ حضرت سلیمانؓ نے لال قالین بچھایا۔ آج بھی اگر عیسائی کسی کو عزت دینا چاہیں تو وہ لال قالین بچھاتے ہیں جو مباہلہ کے دن کے اس عمل کی یاد دلاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے ساتھ حضرت امام علیؑ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ، حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ کو لیا اور اپنے اس وفد کی قیادت کرتے ہوئے طے شدہ جگہ پر پہنچ گئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے روایت کی کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ،حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 287) عیسائیوں کے اس وفد نے جب ان 5 لوگوں کو یعنی پنجتن پاک علیھم السلام کو دیکھا تو اُن میں سے بزرگ پادری ابو حریصہ نے کہا کہ میں ان ہستیوں کے روشن چہرے دیکھ رہا ہوں آگر یہ اللہ سے دعا کریں کہ یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائے تو یہ ہل جائے گا ان سے مبائلہ ہرگز نہیں کرنا یوں عیسائیوں کی شکست ہوئی اور انھوں نے جذیہ دینا قبول کیا۔

About