@tuliver16: #gato #funny

Gata linda
Gata linda
Open In TikTok:
Region: BR
Sunday 29 March 2026 14:35:25 GMT
1099
60
0
7

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @tuliver16, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

1. وہ وقت جب دنیا کانپتی تھی ایک وقت تھا جب پختون کا نام سن کر تخت ہل جاتے تھے۔  افغانستان کا پختون - پہاڑ جیسا جسم، شیر جیسا دل۔  دشمن کی فوج اس کے سامنے آتی تو پاؤں کانپ جاتے۔ تلوار اٹھتی تو تاریخ لکھی جاتی۔ پاکستان کا پختون - دماغ کی دھار تلوار سے تیز۔  دشمن چال چلتا تو یہ 10 چالیں پہلے سمجھ جاتا۔ جرگے میں بیٹھتا تو پتھر بھی پگھل جاتا۔ دنیا کی بڑی سلطنتیں آئیں۔ سکندر آیا، منگول آئے، انگریز آیا۔  سب نے لکھا:
1. وہ وقت جب دنیا کانپتی تھی ایک وقت تھا جب پختون کا نام سن کر تخت ہل جاتے تھے۔ افغانستان کا پختون - پہاڑ جیسا جسم، شیر جیسا دل۔ دشمن کی فوج اس کے سامنے آتی تو پاؤں کانپ جاتے۔ تلوار اٹھتی تو تاریخ لکھی جاتی۔ پاکستان کا پختون - دماغ کی دھار تلوار سے تیز۔ دشمن چال چلتا تو یہ 10 چالیں پہلے سمجھ جاتا۔ جرگے میں بیٹھتا تو پتھر بھی پگھل جاتا۔ دنیا کی بڑی سلطنتیں آئیں۔ سکندر آیا، منگول آئے، انگریز آیا۔ سب نے لکھا: "اس قوم کو ہرانا ہے تو پہلے اسے توڑو۔ جسم کو دماغ سے الگ کرو"۔ *2. 1893 - سازش کی رات* 12 نومبر کی کالے رات۔ انگریز کے کمرے میں نقشہ کھلا تھا۔ ایک انگریز افسر نے کہا: "جناب، پختون کو ہم گولی سے نہیں ہرا سکتے۔ ان کا جسم افغانستان میں ہے، دماغ ہندوستان میں۔ جب تک یہ جڑے ہیں، ہم ہاریں گے"۔ دوسرا بولا: "تو پھر؟" پہلا ہنسا اور نقشے پر قلم رکھ دیا: "بس... یہاں لکیر کھینچ دو۔ جسم ادھر پھینک دو، دماغ ادھر۔ پھر دیکھو یہ ایک دوسرے کو کیسے کھاتے ہیں"۔ اور اس رات ڈیورنڈ لائن کھنچ گئی۔ سیاہی سے نہیں... ہمارے خون سے۔ لکیر کھنچنے کے بعد پہلی صبح۔ افغانستان کا پختون اٹھا۔ سینہ چوڑا، بازو فولاد۔ اس نے سوچا: "آج دشمن آئے گا، میں اسے اپنے جسم سے کچل دوں گا"۔ پر اسے سمجھ نہیں تھی کہ دشمن کی چال کیا ہے۔ دماغ ادھر رہ گیا تھا۔ پاکستان کا پختون اٹھا۔ آنکھ تیز، دماغ شطرنج کا کھلاڑی۔ اس نے فوراً سمجھ لیا: "یہ لکیر دشمن کی چال ہے۔ ہمیں توڑنے کی سازش ہے"۔ پر اس کے پاس جسم نہیں تھا۔ بازو ادھر رہ گئے تھے۔ *دماغ چیختا رہا: "یہ جال ہے، مت لڑو"* *جسم چیختا رہا: "غیرت ہے، وار کرو"* اور وہ ایک دوسرے کی آواز نہ سن سکے۔ بیچ میں لکیر تھی، 2640 کلومیٹر لمبی۔ انگریز نے دور بین لگا کر دیکھا۔ ہنس رہا تھا۔ بولا: "دیکھو، جس پختون سے دنیا ڈرتی تھی، آج اس کا جسم بے دماغ لڑ رہا ہے۔ آج اس کا دماغ بے جسم رو رہا ہے۔ اب نہ جسم میں حکمت رہی، نہ دماغ میں طاقت۔ میں نے ایک قلم سے ایک شیر کو دو بکریوں میں بدل دیا"۔ ادھر افغانستان کا پختون لڑ رہا ہے۔ سینہ گولی کھا رہا ہے۔ وہ چیختا ہے: "میں شیر ہوں"۔ پر اسے سمجھ نہیں آتی کہ گولی چلانے والا کون ہے۔ ادھر پاکستان کا پختون سمجھ رہا ہے۔ دماغ چال پکڑ رہا ہے۔ وہ چیختا ہے: "یہ سازش ہے"۔ پر اس کے پاس روکنے کے لیے بازو نہیں ہیں۔ دشمن دونوں طرف بیٹھ کر تالی بجا رہا ہے۔ بولتا ہے: "واہ! میں نے جس قوم سے ڈر کر لکیر کھینچی تھی، آج وہی قوم لکیر کے دونوں طرف مر رہی ہے"۔ ، دنیا پختون کے جسم سے ڈرتی تھی، اور پختون کے دماغ سے جلتی تھی۔ اس لیے دشمن نے ہمیں دو ٹکڑے کر دیا۔ جسم کو افغانستان دے دیا تاکہ وہ لڑتا رہے، سوچے نہیں۔ دماغ کو پاکستان دے دیا تاکہ وہ سوچتا رہے، لڑ نہ سکے۔ آج 130 سال بعد بھی ہم ادھورے ہیں۔ ادھر والا بازو ہے پر آنکھ نہیں۔ ادھر والا آنکھ ہے پر بازو نہیں۔ اور دشمن ہنس کر کہتا ہے: "میں نے کہا تھا نا... پختون کو مارنا ہے تو پختون کو پختون سے جدا کر دو"۔ جب تک جسم اور دماغ نہیں ملیں گے، ہم شیر نہیں بنیں گے۔ ہم صرف چیخیں بنیں گے... جو لکیر کے دونوں طرف گونجتی ہیں، پر کوئی سن نہیں پاتا۔ لکیر مٹانا ہمارے ہاتھ میں نہیں مہران بھائی۔ پر دل کی لکیر مٹانا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ادھر والا ادھر والے کا دماغ بن جائے، ادھر والا ادھر والے کا بازو بن جائے... پھر دنیا پھر کانپے گی۔ جیسے پہلے کانپتی تھی۔

About