@djamalali31: #duet with @abuzaid_675 #ابكرونا_نسوان_دقونا

ali  djamal
ali djamal
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 29 March 2026 22:09:01 GMT
15651
419
29
91

Music

Download

Comments

bhu.hy5
الشاعر ءام ود الغربي :
السلام عليكم كيف حالكم
2026-04-21 14:42:20
0
user1710940926691
الطا هر محمد :
@🥰🥰
2026-08-17 11:54:40
0
user9128142058663
مخلص شلاتين :
🥰
2026-08-15 10:18:01
0
user9128142058663
مخلص شلاتين :
😻
2026-08-15 10:17:53
0
user9128142058663
مخلص شلاتين :
🥰🥰🥰
2026-08-15 10:17:43
0
user9128142058663
مخلص شلاتين :
🥰
2026-08-15 10:17:25
0
user5015228183612
نورالدين السيد :
❤️
2026-08-03 21:02:35
0
ahmed.you.now.yes
احمد ابراهيم ارباب :
😁😁😁
2026-07-27 18:32:20
0
abdalslamabdalqag
العز @ اخواااان 💪💪 :
😂😂😂
2026-07-27 06:09:44
0
oumar.abakar089
OUMAR ABAKAR :
😂
2026-07-21 18:38:53
0
user8307032747344
باسط كهرباء :
😂😂😂
2026-07-20 20:26:36
0
user5215244629598
تاج الدين عبد السلام تاج الدين :
🥰🥰🥰
2026-07-18 04:37:11
0
user5215244629598
تاج الدين عبد السلام تاج الدين :
🥰🥰🥰
2026-07-18 04:37:11
0
user8461656340719
زول كتلوني :
🥰🥰🥰
2026-07-16 05:01:37
0
motasem.abakar.ad
Motasem Abakar Adam :
🥰🥰🥰
2026-07-05 19:40:30
0
slova799
slova :
🥰
2026-06-22 20:22:03
0
user1730610144314
عبدالقرءان احمد ادم :
🥰🥰🥰
2026-06-16 20:38:35
0
0khaled79
خالد ود الفشقةالكرى جلابية :
🥰🥰🥰
2026-06-15 16:32:05
0
user9063582211134
عبدالرحمن يحي :
🥰🥰🥰
2026-05-23 09:39:55
0
user812267323430
شبلي شتت :
✌✌✌
2026-05-10 11:03:21
0
user4678520217361
فيصل وليد :
🥰🥰🥰
2026-05-07 19:45:37
0
user7656287872481
ود هارون :
🥰🥰🥰
2026-04-24 15:47:50
0
user4612691457818
تسلم تسلم تسلم :
🥰🥰🥰
2026-04-23 20:44:33
0
nourenemahamatahma
nourene Mahamat :
😅😅😅
2026-04-20 23:46:44
0
user1933950884875
😎😎😎 :
😁😁😁
2026-04-08 18:20:39
0
To see more videos from user @djamalali31, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*ایک بزرگ کی خاموش زندگی نے مجھے بہت بڑا سبق سکھا دیا...* میں روز صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے قریب ایک پارک جاتا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ اکثر نظر آتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے، پھر پارک کے ایک درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے۔ کبھی قریبی دکان سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے، کبھی کتاب پڑھتے، اور جب اونگھ آتی تو اسی کتاب کو تکیہ بنا کر کچھ دیر آرام کر لیتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شام تقریباً پانچ بجے تک وہیں موجود رہتے۔ پارک میں آنے والے لوگ مختلف باتیں کرتے۔ کوئی کہتا شاید پردیسی ہیں، کوئی سمجھتا کہ گھر والوں نے نکال دیا ہوگا۔ مگر ان کی شخصیت سے لگتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے، باوقار اور خوشحال انسان ہیں۔ ایک دن میں گھر سے ناشتہ لے گیا اور انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ پہلے انہوں نے انکار کیا، مگر بہت اصرار پر مان گئے۔ باتوں ہی باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کا اپنا ذاتی گھر صرف دو گلیاں دور ہے، وہ مالی طور پر بھی محتاج نہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا:
*ایک بزرگ کی خاموش زندگی نے مجھے بہت بڑا سبق سکھا دیا...* میں روز صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے قریب ایک پارک جاتا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ اکثر نظر آتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے، پھر پارک کے ایک درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے۔ کبھی قریبی دکان سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے، کبھی کتاب پڑھتے، اور جب اونگھ آتی تو اسی کتاب کو تکیہ بنا کر کچھ دیر آرام کر لیتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شام تقریباً پانچ بجے تک وہیں موجود رہتے۔ پارک میں آنے والے لوگ مختلف باتیں کرتے۔ کوئی کہتا شاید پردیسی ہیں، کوئی سمجھتا کہ گھر والوں نے نکال دیا ہوگا۔ مگر ان کی شخصیت سے لگتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے، باوقار اور خوشحال انسان ہیں۔ ایک دن میں گھر سے ناشتہ لے گیا اور انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ پہلے انہوں نے انکار کیا، مگر بہت اصرار پر مان گئے۔ باتوں ہی باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کا اپنا ذاتی گھر صرف دو گلیاں دور ہے، وہ مالی طور پر بھی محتاج نہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا: "پھر آپ سارا دن یہاں کیوں گزارتے ہیں؟" انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور دھیرے سے کہا: "بیٹا! زندگی میں کچھ گھنٹے گھر سے باہر گزارنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ چاہے دفتر ہو، دوست ہوں یا کوئی اور مصروفیت... لیکن روزانہ چند گھنٹے ضرور باہر رہنا چاہیے۔" میں نے وجہ پوچھی تو ان کی بات نے دل کو چھو لیا۔ انہوں نے کہا: "گھر والے برسوں تک آپ کی غیر موجودگی کے عادی ہوتے ہیں۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد آپ ہر وقت گھر میں رہنے لگتے ہیں تو خاموش موجودگی بھی انہیں بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ شاید زبان سے کچھ نہ کہیں، مگر ان کے رویے بدلنے لگتے ہیں۔" پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے: "'ابو! آپ کو کیا پتا...' یہ جملہ میں کئی بار سن چکا ہوں۔ آہستہ آہستہ انسان کی حیثیت صرف بازار سے سامان لانے یا چھوٹے موٹے کام کرنے تک محدود ہو جاتی ہے۔" وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے: "اسی لیے میں روز صبح یہاں آ جاتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں، اخبار دیکھتا ہوں، کبھی کسی ملازمت کا اشتہار نظر آجائے تو درخواست بھی دے دیتا ہوں، حالانکہ جانتا ہوں کہ اس عمر میں کسی کو بوڑھا ملازم نہیں چاہیے۔" پھر انہوں نے ایک اور راز بتایا۔ "میں نے گھر والوں کو یہی بتایا ہوا ہے کہ میں اب بھی ایک ادارے میں کام کرتا ہوں۔ میرے کچھ جمع شدہ پیسوں کا منافع آتا ہے، وہ میں گھر دے دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ میری تنخواہ ہے۔" ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ "شام جب میں گھر واپس جاتا ہوں تو بیوی پانی کا گلاس لے آتی ہے، کھانے کا پوچھتی ہے، اور بچے بھی احترام سے بات کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ باپ اب بھی ذمہ دار ہے... اور میں نہیں چاہتا کہ ایک دن ایسا آئے جب مجھے اپنے ہی بچوں سے مانگنا پڑے۔" یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے... مگر ان کی خاموشی میرے دل میں بہت کچھ بول گئی۔ 🌸 سبق: عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کو صرف روٹی یا دوا کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ عزت، اہمیت اور اپنائیت بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ اپنے والدین اور بزرگوں کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ اب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ جنہوں نے پوری زندگی ہمیں سنبھالا، وہ بڑھاپے میں صرف احترام اور محبت کے چند لمحوں کے حق دار ہوتے ہیں۔

About