@lummyhub_shop: JAMAN TUNAKUCHNGNYIA PERFUME ZENYE HARUF TOFAUT TOFAUY NZUR MNO NA ZENYE KUNUKIA UNAPATA PERFUME KAMA HIVYO 13 kwa TSH 50000 TU ZIPO PIECE CHACHE #lummyhubtz #onlineshopping #tiktokshop #SmallBusiness

LUMMY
LUMMY
Open In TikTok:
Region: TZ
Tuesday 31 March 2026 04:45:11 GMT
238103
3794
224
1142

Music

Download

Comments

mwelucollection
Mwelu :
nitapataje
2026-05-04 21:18:38
0
agnescharles0
Agnes Charles :
Nipo kinyerez napataje
2026-04-02 11:06:08
7
user18713553035027
user18713553035027 :
nipo zanzibar napataje
2026-05-04 07:44:45
0
semehalty
semehalty :
mnapatikanawpi
2026-05-11 08:40:00
0
salhady.mkuwe
Salhady Mkuwe :
Unapatikana wapi?
2026-05-10 20:59:38
0
nasrat.magory
Nasrat Magory :
mko wapi
2026-05-24 12:23:19
0
mis_tyner
Mis_Tyner :
Mnapatikanaaa wap
2026-05-04 06:30:31
0
hamiboud
hamiboud :
nipo morogoro
2026-04-26 22:48:43
0
ruby58528
Ruby :
Mkoani tunapataje ?
2026-05-22 11:36:43
0
rahmaomary385
Rahma Omary :
uko wapi Dada
2026-04-27 18:34:04
0
user76869147
Saidashamsa :
Mm nipo mtwara
2026-05-23 19:44:48
0
user1230148768048
user1230148768048 :
muko wapi mm niko zanzibar
2026-06-23 08:58:45
1
datypato
Daty :
nahitaji
2026-04-15 14:32:52
0
debbyshonza
Deborah shonza :
nahitahi
2026-04-27 11:36:28
0
marthina951
@martina 192 :
Nitumie arusha
2026-05-22 23:08:49
0
rufijivipodoziog
rufijivipodoziog :
Mko wapo
2026-06-17 20:15:43
0
madamasia2
madamasia :
nipo mbagala naitag kisinia jaman😁
2026-04-21 12:39:19
0
roseammy5
Roseammy :
nahitaji
2026-04-10 19:40:56
0
user4854673579943
Anna :
nipo msoma naipataje
2026-04-29 08:28:35
0
glorytemu63
#famous gee🍒# :
mpo wapi
2026-04-20 19:00:39
0
user6975749245255
EMMY :
Mwananyamala gani?
2026-04-23 16:57:42
0
salhamakeup7
TIWAA MAKEUP💄💄 :
unapatikan wp
2026-04-19 06:43:47
0
tripleh40
Triple H :
mpo wap
2026-04-19 07:28:22
0
sharifas.yummy.ca
sharifa's yummy cakes :
nipo tanga nitapata
2026-04-16 17:27:54
0
tammykejala
🌸Success008🌸 :
mls ngapi ngapi dr
2026-05-02 07:29:02
0
To see more videos from user @lummyhub_shop, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Surah Al-Shuara Ayat 215-227 Para 19 #quran #urdu #translation #islam #status    انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭ جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن» یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری
Surah Al-Shuara Ayat 215-227 Para 19 #quran #urdu #translation #islam #status انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭ جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن» یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری
The Dyatlov Pass Incident is one of the most famous unsolved mystery cases in history. It took place in February 1959 in the remote Ural Mountains of the former Soviet Union, where a group of nine experienced hikers set out on a challenging winter expedition. They were well-prepared and used to extreme conditions, and they camped on the slope of a mountain later called “Dead Mountain.” When they didn’t return, a search team was sent, and what they found was deeply disturbing. The group’s tent was discovered partially buried in snow, but it had been cut open from the inside, suggesting they escaped in a sudden panic. Even stranger, their warm clothing, shoes, and essential gear were left behind, meaning they fled into temperatures of around −30°C almost undressed. Their bodies were later found scattered across the area, some near a forest, others hundreds of meters away, and a few buried under snow. Several were barefoot or nearly naked, some appeared to have tried to make a fire, and others seemed to be attempting to return to the tent before collapsing. While some died from hypothermia, others had severe internal injuries, like broken ribs and skull fractures, but without visible external wounds, similar to the force of a car crash. One victim was missing her tongue, and some had unusual marks, while parts of their clothing reportedly showed traces of radiation. These details made the case even more confusing. The official explanation today is that a type of snow slab avalanche caused panic, forcing them to flee, after which they became disoriented and froze. However, many question this, since the slope and evidence don’t fully match a typical avalanche, and it doesn’t explain all the injuries and behavior. Because of this, many theories exist, including secret military tests, infrasound causing panic, or other unknown forces. More recently, another theory has emerged suggesting that inside the tent, gases such as carbon monoxide may have built up from a stove or fire, causing the group to hallucinate and panic. In this state, they may have believed they were being attacked or in immediate danger, which could explain why they suddenly cut open the tent and fled into the freezing night, leading to the chaos that followed. Even today, the case remains real, partially explained, but still filled with unanswered questions that keep it one of the most mysterious incidents ever recorded. #truecrime #dyatlovpass
The Dyatlov Pass Incident is one of the most famous unsolved mystery cases in history. It took place in February 1959 in the remote Ural Mountains of the former Soviet Union, where a group of nine experienced hikers set out on a challenging winter expedition. They were well-prepared and used to extreme conditions, and they camped on the slope of a mountain later called “Dead Mountain.” When they didn’t return, a search team was sent, and what they found was deeply disturbing. The group’s tent was discovered partially buried in snow, but it had been cut open from the inside, suggesting they escaped in a sudden panic. Even stranger, their warm clothing, shoes, and essential gear were left behind, meaning they fled into temperatures of around −30°C almost undressed. Their bodies were later found scattered across the area, some near a forest, others hundreds of meters away, and a few buried under snow. Several were barefoot or nearly naked, some appeared to have tried to make a fire, and others seemed to be attempting to return to the tent before collapsing. While some died from hypothermia, others had severe internal injuries, like broken ribs and skull fractures, but without visible external wounds, similar to the force of a car crash. One victim was missing her tongue, and some had unusual marks, while parts of their clothing reportedly showed traces of radiation. These details made the case even more confusing. The official explanation today is that a type of snow slab avalanche caused panic, forcing them to flee, after which they became disoriented and froze. However, many question this, since the slope and evidence don’t fully match a typical avalanche, and it doesn’t explain all the injuries and behavior. Because of this, many theories exist, including secret military tests, infrasound causing panic, or other unknown forces. More recently, another theory has emerged suggesting that inside the tent, gases such as carbon monoxide may have built up from a stove or fire, causing the group to hallucinate and panic. In this state, they may have believed they were being attacked or in immediate danger, which could explain why they suddenly cut open the tent and fled into the freezing night, leading to the chaos that followed. Even today, the case remains real, partially explained, but still filled with unanswered questions that keep it one of the most mysterious incidents ever recorded. #truecrime #dyatlovpass

About