@thaoriviu00: Áo bra để mặc áo yếm nè không cần sài dán luôn #tuitenthao #tiktokshopthoitrend #macdepmoingay #260350

୨ৎ Tui tên Thảo ୨ৎ
୨ৎ Tui tên Thảo ୨ৎ
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 31 March 2026 14:08:56 GMT
295203
792
15
146

Music

Download

Comments

vthanhngn95
Vũ Thanh Ngân :
C có link áo hồng ở ngoài k ạ?
2026-04-21 12:12:47
1
user2128800346231
user2128800346231 :
Giỏ k có ạ
2026-04-02 09:00:53
0
nghuyennn_02
𝓝𝓰.𝓗𝓾𝔂𝓮̂̀𝓷 :
Mặc được áo cổ vuông không ạ
2026-04-23 03:55:53
0
bachnguyen5052742430
bachnguyen5052742430 :
Inbox
2026-05-10 03:54:17
0
ninhduonghalinh
Ninh Dương Hà Linh :
Áo nâng không ạ
2026-05-21 07:18:24
0
luna.ttn
Luna.ttn :
l. l. polloop
2026-05-08 04:48:41
0
kem_miu89
Tiệm nhà em Miu :
sao tui mặc k gom quả nhỉ
2026-05-30 15:49:29
0
myhanh2903
Myy Hanhh :
😁😁😁
2026-04-16 19:30:22
0
minhhang536
Minh Hang :
😁
2026-04-05 09:26:48
0
oanhphanhoai
oanh :
😂
2026-05-09 14:17:09
0
To see more videos from user @thaoriviu00, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وہ آئی بھی خود تھی، اور گئی بھی خود تھی مگر عجیب بات یہ ہے کہ اُس کے آنے اور جانے کے بیچ جو کچھ ٹوٹا، وہ سب میرا تھا۔ وہ لمحے جو کبھی امید بن کر دل میں اترے تھے، اب یاد بن کر آنکھوں میں رہ گئے ہیں۔ اُس نے نہ وعدہ مانگا تھا، نہ اجازت لی تھی، بس ایک خاموش سی دستک دے کر میری پوری دنیا میں اُجالا کر گئی۔ اور پھر ایک دن، اسی خاموشی سے واپس لوٹ گئی جیسے کبھی آئی ہی نہ ہو۔ میں آج بھی حیران ہوں کہ کچھ لوگ زندگی میں آ کر بھی اتنے غیر محسوس کیوں رہتے ہیں، اور جاتے ہوئے بھی اتنا شور کیوں چھوڑ جاتے ہیں جو صرف دل سن سکتا ہے۔ وہ شاید اپنی کہانی مکمل کر کے چلی گئی، مگر میری کہانی کے کئی باب ادھورے چھوڑ گئی۔ سب سے بڑا دکھ یہ نہیں کہ وہ چلی گئی سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اُس کے جانے کے بعد بھی اُس کی موجودگی میرے اندر سے ختم نہیں ہوئی۔ وہ اب بھی کہیں نہ کہیں میرے احساسات کے کونے میں زندہ ہے، بس فرق اتنا ہے کہ اب وہ سامنے نہیں آتی، صرف یاد بن کر چپکے چپکے بولتی ہے۔ وہ آئی بھی خود تھی، اور گئی بھی خود تھی مگر میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں اُس نے پہلی بار مجھے خود سے دور کیا تھا۔”
وہ آئی بھی خود تھی، اور گئی بھی خود تھی مگر عجیب بات یہ ہے کہ اُس کے آنے اور جانے کے بیچ جو کچھ ٹوٹا، وہ سب میرا تھا۔ وہ لمحے جو کبھی امید بن کر دل میں اترے تھے، اب یاد بن کر آنکھوں میں رہ گئے ہیں۔ اُس نے نہ وعدہ مانگا تھا، نہ اجازت لی تھی، بس ایک خاموش سی دستک دے کر میری پوری دنیا میں اُجالا کر گئی۔ اور پھر ایک دن، اسی خاموشی سے واپس لوٹ گئی جیسے کبھی آئی ہی نہ ہو۔ میں آج بھی حیران ہوں کہ کچھ لوگ زندگی میں آ کر بھی اتنے غیر محسوس کیوں رہتے ہیں، اور جاتے ہوئے بھی اتنا شور کیوں چھوڑ جاتے ہیں جو صرف دل سن سکتا ہے۔ وہ شاید اپنی کہانی مکمل کر کے چلی گئی، مگر میری کہانی کے کئی باب ادھورے چھوڑ گئی۔ سب سے بڑا دکھ یہ نہیں کہ وہ چلی گئی سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اُس کے جانے کے بعد بھی اُس کی موجودگی میرے اندر سے ختم نہیں ہوئی۔ وہ اب بھی کہیں نہ کہیں میرے احساسات کے کونے میں زندہ ہے، بس فرق اتنا ہے کہ اب وہ سامنے نہیں آتی، صرف یاد بن کر چپکے چپکے بولتی ہے۔ وہ آئی بھی خود تھی، اور گئی بھی خود تھی مگر میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں اُس نے پہلی بار مجھے خود سے دور کیا تھا۔”

About