@hassan.alsawady.1:

H A S S U N حـسـون
H A S S U N حـسـون
Open In TikTok:
Region: AT
Tuesday 31 March 2026 18:49:22 GMT
111434
1155
38
3653

Music

Download

Comments

nawaf58558
....... :
صح👏
2026-06-25 22:46:03
0
mahmoudrida1998
🇩🇪 👑 الحوت :
ياي 😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂
2026-06-25 18:10:54
0
.51104434
الجسي 511 :
2026-06-25 18:53:44
0
mahmoudsmk10
ابو جمال :
2026-06-21 22:03:23
0
3_muuhamad
حــمــص |٭ :
2026-05-21 19:20:33
0
mahmod.aslan7
mahmod aslan🇸🇾💚🇵🇸 :
اي والله 😅
2026-04-02 23:26:38
2
pubg_syr_gaming
ABN个SB3 :
2026-05-03 15:32:58
0
511danial
Mohamad :
1500 يورو😆
2026-04-03 23:42:48
1
alihousein89
Elias Norden :
😂😂😂😂😂
2026-04-04 08:38:10
1
moh.ii96
Moh ii :
جوعان
2026-04-04 12:55:09
0
ffffmmmm34
fffmmm :
جس
2026-04-03 15:28:55
0
1hosein1
حسين ابو عبدو :
لا تجيي
2026-04-29 05:09:58
0
abdulggg11
عبودي :
2026-04-03 05:25:14
0
qassem650
Qassem :
نعم
2026-04-02 10:23:24
0
To see more videos from user @hassan.alsawady.1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

**ڈپریشن صرف خاموشی کا نام نہیں...** ڈپریشن یہ نہیں کہ آپ کسی کونے میں خاموش بیٹھ جائیں؛ یہ تو محض اداسی ہو سکتی ہے۔ ڈپریشن یہ بھی نہیں کہ آپ کا کسی کام میں دل نہ لگے؛ یہ شاید بیزاری یا تھکن ہو۔ اور نہ ہی ہر وقت خود کو عجیب حالات میں گھرا محسوس کرنا ڈپریشن ہے؛ یہ زندگی کی کشمکش بھی ہو سکتی ہے۔ اصل ڈپریشن وہ ہے جو چہرے پر دکھائی نہیں دیتا۔ وہ جو انسان اپنے اندر چھپا لیتا ہے، اور دنیا کے سامنے مسلسل مسکراتا رہتا ہے۔ وہ بے سبب ہنسی، جو دل کے ٹوٹے ہوئے حصوں پر ڈالے گئے ایک خوبصورت پردے کی مانند ہوتی ہے۔ آپ ہنستے ہیں... اتنا ہنستے ہیں کہ آنکھوں کے کنارے نم ہو جاتے ہیں، مگر آپ بڑی خاموشی اور مہارت سے ان آنسوؤں کو صاف کر لیتے ہیں، تاکہ کسی کو خبر نہ ہو کہ دل کس بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ لوگ آپ کی ہنسی میں شریک ہوتے ہیں، مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انگلیوں کے پوروں نے ابھی ابھی آنکھوں سے وہ نمکین پانی صاف کیا ہے جس میں کتنے دکھ، کتنی تکلیفیں، کتنی بے آواز چیخیں اور کتنی ان کہی پریشانیاں گھلی ہوئی تھیں۔ اور پھر انسان خود ہی اپنے دل کو صبر، شکر، ہمت اور حوصلے کا درس دیتا ہے، جیسے کوئی زخمی مسافر اپنے ہی زخموں پر مرہم رکھ رہا ہو۔ بعض اوقات سب سے زیادہ مسکراتے ہوئے چہرے ہی سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے امین ہوتے ہیں۔ سب لوگ رو کر اپنے دکھ بیان نہیں کرتے... کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دن بھر مسکراتے ہیں، سب کی بات سنتے ہیں، سب کو حوصلہ دیتے ہیں، مگر رات کو جب کمرے کی بتیاں بجھ جاتی ہیں تو ان کی اپنی ہمت بھی بجھنے لگتی ہے۔ وہ کسی سے شکوہ نہیں کرتے... بس خاموشی سے تکیے میں منہ چھپا کر آنسو بہاتے ہیں اور اگلی صبح پھر وہی مسکراہٹ اوڑھ لیتے ہیں جسے دنیا
**ڈپریشن صرف خاموشی کا نام نہیں...** ڈپریشن یہ نہیں کہ آپ کسی کونے میں خاموش بیٹھ جائیں؛ یہ تو محض اداسی ہو سکتی ہے۔ ڈپریشن یہ بھی نہیں کہ آپ کا کسی کام میں دل نہ لگے؛ یہ شاید بیزاری یا تھکن ہو۔ اور نہ ہی ہر وقت خود کو عجیب حالات میں گھرا محسوس کرنا ڈپریشن ہے؛ یہ زندگی کی کشمکش بھی ہو سکتی ہے۔ اصل ڈپریشن وہ ہے جو چہرے پر دکھائی نہیں دیتا۔ وہ جو انسان اپنے اندر چھپا لیتا ہے، اور دنیا کے سامنے مسلسل مسکراتا رہتا ہے۔ وہ بے سبب ہنسی، جو دل کے ٹوٹے ہوئے حصوں پر ڈالے گئے ایک خوبصورت پردے کی مانند ہوتی ہے۔ آپ ہنستے ہیں... اتنا ہنستے ہیں کہ آنکھوں کے کنارے نم ہو جاتے ہیں، مگر آپ بڑی خاموشی اور مہارت سے ان آنسوؤں کو صاف کر لیتے ہیں، تاکہ کسی کو خبر نہ ہو کہ دل کس بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ لوگ آپ کی ہنسی میں شریک ہوتے ہیں، مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انگلیوں کے پوروں نے ابھی ابھی آنکھوں سے وہ نمکین پانی صاف کیا ہے جس میں کتنے دکھ، کتنی تکلیفیں، کتنی بے آواز چیخیں اور کتنی ان کہی پریشانیاں گھلی ہوئی تھیں۔ اور پھر انسان خود ہی اپنے دل کو صبر، شکر، ہمت اور حوصلے کا درس دیتا ہے، جیسے کوئی زخمی مسافر اپنے ہی زخموں پر مرہم رکھ رہا ہو۔ بعض اوقات سب سے زیادہ مسکراتے ہوئے چہرے ہی سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے امین ہوتے ہیں۔ سب لوگ رو کر اپنے دکھ بیان نہیں کرتے... کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دن بھر مسکراتے ہیں، سب کی بات سنتے ہیں، سب کو حوصلہ دیتے ہیں، مگر رات کو جب کمرے کی بتیاں بجھ جاتی ہیں تو ان کی اپنی ہمت بھی بجھنے لگتی ہے۔ وہ کسی سے شکوہ نہیں کرتے... بس خاموشی سے تکیے میں منہ چھپا کر آنسو بہاتے ہیں اور اگلی صبح پھر وہی مسکراہٹ اوڑھ لیتے ہیں جسے دنیا "خوشی" سمجھ لیتی ہے۔ خاموش ڈپریشن کا سب سے بڑا دکھ یہ نہیں کہ انسان ٹوٹ جاتا ہے... بلکہ یہ ہے کہ کوئی اس کے ٹوٹنے کی آواز نہیں سنتا۔ دل کے اندر ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے... امید اور مایوسی کی جنگ... صبر اور بے بسی کی جنگ... اور انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ مگر ایسے میں ایک دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے... وہ دروازہ جس پر نہ وقت کی پابندی ہے، نہ الفاظ کی شرط، نہ آنسوؤں کی ممانعت۔ وہ اللہ کا دروازہ ہے۔ اللہ وہ واحد ذات ہے جو آپ کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ سے پہلے آپ کے دل کی چیخ سن لیتی ہے۔ جب دنیا آپ کی خاموشی کو نہیں سمجھتی، تب اللہ آپ کے آنسوؤں کی زبان جانتا ہے۔ جب آپ سجدے میں گرتے ہیں اور زبان ساتھ نہیں دیتی، تب بھی اللہ دل کی ہر ٹوٹی ہوئی دعا سن رہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی شفا لوگوں سے بات کرنے میں نہیں ہوتی... کبھی شفا تہجد کے اُس سجدے میں ہوتی ہے جہاں آپ ٹوٹ کر اللہ سے کہتے ہیں: *"یا اللہ! میں تھک گیا ہوں... اب مجھے اپنے حوالے کر لے۔"* اور پھر آہستہ آہستہ دل کے اندھیروں میں روشنی اترنے لگتی ہے... کیونکہ اللہ آزمائش دیتا ہے، مگر بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ اگر آج آپ خاموشی سے لڑ رہے ہیں... اگر آپ کے دل پر بوجھ ہے... اگر آپ کی آنکھیں ہر رات بھیگتی ہیں... تو ایک بات یاد رکھیں: **اللہ آپ کے آنسو ضائع نہیں کرتا۔** وہ اُس درد کو بھی جانتا ہے جسے آپ نے کبھی کسی انسان کے سامنے بیان نہیں کیا۔ اور شاید آپ کی زندگی کا سب سے خوبصورت معجزہ صرف ایک سجدے کے فاصلے پر ہو۔

About