@user1267214785715: So here I am, just going about my day. You guys are going to love this product! It's a **fantastic deal** available **right now**. Perfect for anyone looking for great value. Check it out, you won't regret it! Don't miss out! I'll leave the link right here. You're welcome. #SwimGoggles #PoolVibes #SummerEssentials #SwimLife #PanoramicSwimGoggles #SwimGearMustHave #MirroredSwimGoggles #SwimmingAccessories #PoolDays #SwimLovers

Wang s Store
Wang s Store
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 01 April 2026 02:58:43 GMT
860
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @user1267214785715, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

انسان عجیب مسافر ہے۔ ساری زندگی وہ آوازوں کے تعاقب میں بھاگتا رہتا ہے۔ کبھی لوگوں کی آوازیں کبھی خواہشوں کی آوازیں کبھی خوف کی سرگوشیاں اور کبھی مستقبل کی بےنام فکریں۔ اس قدر شور اس کے اندر جمع ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی وجود سے اجنبی ہونے لگتا ہے۔ لیکن روح کی دنیا کا ایک عجیب قانون ہے.. وہ شور میں نہیں کھلتی وہ خاموشی میں اپنا راز ظاہر کرتی ہے۔ کبھی کسی گہری رات جب آسمان ستاروں کی چادر اوڑھے خاموش کھڑا ہوتا ہے، اور زمین نیند کے سحر میں ڈوب جاتی ہے، تب انسان اگر اپنے دل کی طرف متوجہ ہو تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر بھی ایک پوری کائنات آباد ہے۔ ایک ایسی کائنات جس میں ہزاروں خیالات پرندوں کی طرح اڑ رہے ہیں، خواہشات کی آندھیاں چل رہی ہیں، اور نفس اپنی سلطنت قائم کیے بیٹھا ہے۔ یہی اندر کا شور ہے یہی وہ پردہ ہے جو انسان اور اس کے رب کے درمیان حائل رہتا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ رب بہت دور ہے، کسی آسمان کی آخری حد پر، کسی ایسی جگہ جہاں پہنچنا ممکن نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فاصلے زمین اور آسمان کے نہیں ہوتے، فاصلے دل اور دل کے پردوں کے ہوتے ہیں۔ رب دور نہیں ہوتا، انسان اپنے شور میں گم ہو جاتا ہے۔جب انسان خاموش ہونا سیکھ لیتا ہے، تب عجیب واقعات رونما ہوتے ہیں۔وہ خاموشی جو صرف زبان کی نہیں، بلکہ دل کی خاموشی ہو وہ خاموشی جس میں شکایتیں دم توڑ دیں۔وہ خاموشی جس میں خواہشات کی چیخیں مدھم پڑ جائیں۔وہ خاموشی جس میں انسان اپنے آپ کو دنیا کی دوڑ سے چند لمحوں کے لیے آزاد کر دے۔ تب دل کے بند دروازوں پر روشنی دستک دیتی ہے۔ تب روح کی آنکھ کھلنے لگتی ہے۔تب انسان پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی اور بھی موجود ہے جو ہمیشہ سے اسے پکار رہا تھا۔ ایک ایسی پکار جو آواز نہیں رکھتی۔ایک ایسی گفتگو جو لفظوں کی محتاج نہیں۔ایک ایسی قربت جسے بیان نہیں کیا جا سکتا، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔اہلِ دل کہتے ہیں کہ رب کی سرگوشی کانوں سے نہیں سنی جاتی، دل سے سنی جاتی ہے۔ اور دل تب سنتا ہے جب اس کے اندر کا شور خاموش ہو جائے۔بعض اوقات انسان تنہائی میں بیٹھا ہوتا ہے، کوئی آواز نہیں ہوتی، کوئی شخص نہیں ہوتا، مگر پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اس کے دل پر دستک دے رہا ہو۔ جیسے کوئی کہہ رہا ہو:
انسان عجیب مسافر ہے۔ ساری زندگی وہ آوازوں کے تعاقب میں بھاگتا رہتا ہے۔ کبھی لوگوں کی آوازیں کبھی خواہشوں کی آوازیں کبھی خوف کی سرگوشیاں اور کبھی مستقبل کی بےنام فکریں۔ اس قدر شور اس کے اندر جمع ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی وجود سے اجنبی ہونے لگتا ہے۔ لیکن روح کی دنیا کا ایک عجیب قانون ہے.. وہ شور میں نہیں کھلتی وہ خاموشی میں اپنا راز ظاہر کرتی ہے۔ کبھی کسی گہری رات جب آسمان ستاروں کی چادر اوڑھے خاموش کھڑا ہوتا ہے، اور زمین نیند کے سحر میں ڈوب جاتی ہے، تب انسان اگر اپنے دل کی طرف متوجہ ہو تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر بھی ایک پوری کائنات آباد ہے۔ ایک ایسی کائنات جس میں ہزاروں خیالات پرندوں کی طرح اڑ رہے ہیں، خواہشات کی آندھیاں چل رہی ہیں، اور نفس اپنی سلطنت قائم کیے بیٹھا ہے۔ یہی اندر کا شور ہے یہی وہ پردہ ہے جو انسان اور اس کے رب کے درمیان حائل رہتا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ رب بہت دور ہے، کسی آسمان کی آخری حد پر، کسی ایسی جگہ جہاں پہنچنا ممکن نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فاصلے زمین اور آسمان کے نہیں ہوتے، فاصلے دل اور دل کے پردوں کے ہوتے ہیں۔ رب دور نہیں ہوتا، انسان اپنے شور میں گم ہو جاتا ہے۔جب انسان خاموش ہونا سیکھ لیتا ہے، تب عجیب واقعات رونما ہوتے ہیں۔وہ خاموشی جو صرف زبان کی نہیں، بلکہ دل کی خاموشی ہو وہ خاموشی جس میں شکایتیں دم توڑ دیں۔وہ خاموشی جس میں خواہشات کی چیخیں مدھم پڑ جائیں۔وہ خاموشی جس میں انسان اپنے آپ کو دنیا کی دوڑ سے چند لمحوں کے لیے آزاد کر دے۔ تب دل کے بند دروازوں پر روشنی دستک دیتی ہے۔ تب روح کی آنکھ کھلنے لگتی ہے۔تب انسان پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی اور بھی موجود ہے جو ہمیشہ سے اسے پکار رہا تھا۔ ایک ایسی پکار جو آواز نہیں رکھتی۔ایک ایسی گفتگو جو لفظوں کی محتاج نہیں۔ایک ایسی قربت جسے بیان نہیں کیا جا سکتا، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔اہلِ دل کہتے ہیں کہ رب کی سرگوشی کانوں سے نہیں سنی جاتی، دل سے سنی جاتی ہے۔ اور دل تب سنتا ہے جب اس کے اندر کا شور خاموش ہو جائے۔بعض اوقات انسان تنہائی میں بیٹھا ہوتا ہے، کوئی آواز نہیں ہوتی، کوئی شخص نہیں ہوتا، مگر پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اس کے دل پر دستک دے رہا ہو۔ جیسے کوئی کہہ رہا ہو: "میں ہمیشہ سے تیرے ساتھ تھا۔" یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب پردے ہلنے لگتے ہیں۔جب روح اپنے اصل وطن کی خوشبو محسوس کرتی ہے۔جب آنکھوں میں بےسبب نمی اتر آتی ہے۔جب سجدہ صرف ایک عبادت نہیں رہتا بلکہ ملاقات بن جاتا ہے۔پھر انسان سمجھنے لگتا ہے کہ سکون دنیا کے شور میں نہیں، بلکہ اپنے رب کی یاد میں ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ جن جوابوں کو وہ لوگوں میں تلاش کرتا رہا، وہ خاموشی کی گہرائیوں میں پہلے سے موجود تھے۔اور پھر ایک دن جب اندر کا شور مکمل طور پر تھک کر بیٹھ جاتا ہے، جب انا کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے، جب خواہشات کی گرد دل سے اترنے لگتی ہے، تب ایک ایسی خاموشی جنم لیتی ہے جو سنسان نہیں ہوتی بلکہ نور سے بھری ہوتی ہے۔ اسی خاموشی میں انسان پہلی بار اپنے رب کی قربت کو محسوس کرتا ہے۔ اسی خاموشی میں دل پر راز اترتے ہیں اسی خاموشی میں روح اپنی اصل پہچان یاد کرتی ہے۔ اور اسی خاموشی میں انسان جان لیتا ہے کہ رب کبھی خاموش نہیں تھا شور ہمیشہ اس کے اپنے اندر تھا۔ #foryou #foryoupage #sufism #islamic_video #روح_اور_روحانیت_کاسفر

About