یہ شعر ایک ایسی خوبصورتی کی بات کرتا ہے جو خاموش نہیں تھی — بلکہ طوفانی اور بے قابو تھی۔ جنگل میں آگ کوئی نہیں لگاتا، وہ خود پھیلتی ہے، خود جلاتی ہے — اسی طرح شاعر کہتا ہے کہ ہماری خوبصورتی بھی ایسی تھی کہ لوگوں نے دیکھی تو بس جلتے چلے گئے۔
2026-04-04 16:19:56
80
Falak Butt :
مجھے کوئی شعر کا مطلب تو سمجھائے
2026-04-03 05:04:24
61
Nadeem Ghouri :
اس میں شاعری کہاں ہے
2026-04-04 04:01:00
27
𝙈𝙞𝙨𝙨 𝙌𝙪𝙚𝙚𝙣 ◔_◔ :
arey kehna kia chahty ho
2026-04-05 16:39:55
7
aasirahimjan :
ہم کبھی اتنے خوبصورت تھے ۔۔
جیسے پانی میں آگ لگ جاۓ۔!
عاصی 🌹
2026-04-04 20:31:13
14
Amna Jamil :
کچھ بھی
2026-04-03 14:51:35
8
Aay_Why :
یہ شعر ہے ؟
2026-04-05 07:20:04
7
dua :
hayeeeee
2026-04-03 19:09:37
6
widi :
wah 🥰
2026-04-03 12:22:49
9
Spiritualist :
موصوف شاعری سیکھتے سیکھتے بوڑھے ہوگے لیکن یہ کمبخت شاعری بھی ان کے پاس سے بھی گزرنے تک کا نام نہیں لیتی