@bohy18: #اكسبلور #اكسبلور

Bohy✨
Bohy✨
Open In TikTok:
Region: SA
Sunday 05 April 2026 15:14:11 GMT
2522
270
4
46

Music

Download

Comments

user2559142635511
ايهاب ابن محمد :
2026-08-06 09:26:32
0
rrr5212
🌹حدي نظر🌹 :
2026-04-07 09:34:48
1
_different_man_
أبو وسام 🇸🇦 :
2026-04-07 02:21:24
1
To see more videos from user @bohy18, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا  یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی شرح:   اس شعر میں اقبال نے آزاد بندوں کی صفت بیان کی ہے واضح ہو کہ کلام اقبال میں آزاد ایک اصطلاح ہے جس سے مراد ہے وہ شخص جو اللہ سے خالص محبت کرتا ہوں کسی صلہ یا جزا مثلاً جنت کا خواہاں نہ ہو۔ لیکن اس شعر میں اس لفظ کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آزاد وہ ہے جو کسی قسم کی پابندی گوارا نہ کرے۔ الغرض آزاد سے وہ عاشق صادق مراد ہے، جو کائنات میں کسی غیر کی طرف سے عائد کردہ پابندی کو قبول نہ کرے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اے خدا! سچی بات تو یہ ہے کہ تیرے آزاد بندے یعنی وہ بندے جو تیری محبت کی قید میں ہیں ، اُن کے اندر قیود و حدود سے اس درجہ بُعد پیدا ہو گیا ہے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ نہ یہاں خوش رہ سکتے ہیں نہ وہاں۔ کیونکہ یہاں مرنے کی پابندی ہے، اور وہاں جینے کی پابندی ہے۔ واضح ہو کہ یہ شعر بھی شاعرانہ انداز بیان کی ایک عمدہ مثال ہے۔ مقصد شاعر کا یہ ہے کہ جو شخص ذات کا طالب ہوتا ہے وہ کسی قسم کی پابندی پسند نہیں کرتا۔ لیکن اقبال نے اس بات کے اظہار کے لیے اسلوب بیان ایسا دل کش اختیار کیا ہے کہ یہ شعر بھی مطلع کی طرح تحسین سے بالا تر ہو گیا ہے۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی غزل : متاعِ بے بہا ہے دَردوسوزِ آرزو مندی کتاب: بالِ جبریل  #نعت #سفیرعشق #قوالی_محفل #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰 #پاکستان
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی شرح: اس شعر میں اقبال نے آزاد بندوں کی صفت بیان کی ہے واضح ہو کہ کلام اقبال میں آزاد ایک اصطلاح ہے جس سے مراد ہے وہ شخص جو اللہ سے خالص محبت کرتا ہوں کسی صلہ یا جزا مثلاً جنت کا خواہاں نہ ہو۔ لیکن اس شعر میں اس لفظ کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آزاد وہ ہے جو کسی قسم کی پابندی گوارا نہ کرے۔ الغرض آزاد سے وہ عاشق صادق مراد ہے، جو کائنات میں کسی غیر کی طرف سے عائد کردہ پابندی کو قبول نہ کرے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اے خدا! سچی بات تو یہ ہے کہ تیرے آزاد بندے یعنی وہ بندے جو تیری محبت کی قید میں ہیں ، اُن کے اندر قیود و حدود سے اس درجہ بُعد پیدا ہو گیا ہے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ نہ یہاں خوش رہ سکتے ہیں نہ وہاں۔ کیونکہ یہاں مرنے کی پابندی ہے، اور وہاں جینے کی پابندی ہے۔ واضح ہو کہ یہ شعر بھی شاعرانہ انداز بیان کی ایک عمدہ مثال ہے۔ مقصد شاعر کا یہ ہے کہ جو شخص ذات کا طالب ہوتا ہے وہ کسی قسم کی پابندی پسند نہیں کرتا۔ لیکن اقبال نے اس بات کے اظہار کے لیے اسلوب بیان ایسا دل کش اختیار کیا ہے کہ یہ شعر بھی مطلع کی طرح تحسین سے بالا تر ہو گیا ہے۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی غزل : متاعِ بے بہا ہے دَردوسوزِ آرزو مندی کتاب: بالِ جبریل #نعت #سفیرعشق #قوالی_محفل #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰 #پاکستان

About