@safarirecords: Ayoo Jeng Ayoo | Keong Racun - Ajeng Febria, Out Now at 12.00 on Aneka Safari Records #ajengfebria #keongracun #anekasafarirecord #berandatiktok #fypシ

ANEKA SAFARI RECORDS
ANEKA SAFARI RECORDS
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 07 April 2026 00:19:32 GMT
8296323
412981
2955
65881

Music

Download

Comments

aziza.azzahra94
ɑׁׅzׁׅ֬ꪱׁׁׁׅׅׅzׁׅ֬ɑׁׅ :
lembut banget suaranya 🥰
2026-04-07 07:09:57
22916
rillllll205
rillllll :
fyp karna (  ͜•人 ͜•)
2026-04-08 02:42:02
8234
matchaaacreammyy
Matcha Blondee :
ajeng holic
2026-04-09 06:33:20
644
lastrihanum4
vi vi :
aq aja yg cwe syukaa😍
2026-04-07 01:22:23
1356
libas_rbs
Aishiteru (愛してる) :
kadang gede.. kadang kecil yah?
2026-04-11 13:44:22
2070
uzukikei4
KEI UZUKI :
sengaja tak skip. soale aku rodo gampang acengan 🙏😭😭
2026-04-07 07:21:44
6015
somplehfram
😈SOMPLEH FRAM :
orah ajeng orah oppp
2026-04-07 07:57:40
99
suryo_04
suryo 😎 :
suaranya dibikin bikin ini mah, apa cuma aku aja yg ngk suka suara tipe sperti ini
2026-04-11 08:02:38
621
bgoo37
bOGo :
aku sih gak tertarik
2026-04-07 21:49:01
68
anak_baikk376
cah_PLENGNGERR⚡⚡ :
fyp karna (  ͜•人 ͜•)
2026-04-10 04:00:34
86
xiaobaichinese
ZACKCZHUUU🧀 :
Ajeng smoking 😁
2026-04-08 00:24:42
5
alyahnova
Novalia Nova 🚩 :
Kadang kecil kadang besar sih
2026-04-12 07:35:35
12
ninut_nin
nèshā :
gw sekarang ter ajeng", suaranya centil" gimana gitu suka hahaha😭😭
2026-04-29 23:59:48
14
epollllll204
Vaaaaaa🧚🏻‍♀️ :
Lagune relate gae mba Ajeng😭
2026-04-14 04:25:33
13
icute71
CUT :
kameramen nya menang banyak😭
2026-05-04 06:45:50
8
wuhuuu999_
p :
di post ul mb axcel
2026-05-03 02:27:37
7
bela_syafiraaa
Belaa🦋 :
abu abu
2026-04-09 11:25:21
397
sate_bakar21
plenger_setcu💍💋 :
:fyp karna (  ͜•人 ͜•)
2026-04-28 11:42:03
7
runyesbaby
￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ :
fav cwo ak.
2026-04-23 07:48:01
7
To see more videos from user @safarirecords, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

caption میرے حصے میں حق تو آیا ہی نہیں، میں تو بس عمر بھر فرض نبھاتی رہ گئی۔ ہر رشتے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے، ہر توقع کو پورا کرنے کی کوشش کرتی رہی، ہر بار خود کو پیچھے رکھ کر دوسروں کو آگے کرتی رہی۔ میں نے اپنے خوابوں کو ملتوی کیا، اپنی خواہشوں کو خاموش کیا، اپنے دکھوں کو دل میں دفن کیا، صرف اس لیے کہ کہیں کسی اپنے کو تکلیف نہ پہنچے۔ مگر افسوس، جن لوگوں کے لیے میں نے اپنی ذات کو نظر انداز کیا، اُنہوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ میرے دل پر کیا گزرتی ہے۔ جس نے چاہا، جیسے چاہا، اپنے طریقے سے مجھے چلایا۔ کسی نے میری محبت کو فرض سمجھ لیا، کسی نے میری خاموشی کو رضامندی، اور کسی نے میری برداشت کو بے حسی کا نام دے دیا۔ میں ہر بار ٹوٹ کر بھی جڑتی رہی، ہر بار رو کر بھی مسکراتی رہی، ہر بار دل زخمی ہونے کے باوجود رشتوں کو بچانے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے محسوس کیا کہ میں دوسروں کی زندگی میں تو بہت اہم ہوں، مگر اپنی ہی زندگی میں کہیں گم ہو چکی ہوں۔ کبھی کبھی دل سوال کرتا ہے کہ کیا میرا کوئی حق نہیں تھا؟ کیا مجھے محبت، توجہ، عزت اور اپنائیت مانگنے کا اختیار نہیں تھا؟ میں نے تو کبھی کسی سے چاند تارے نہیں مانگے تھے، بس اتنا چاہا تھا کہ کوئی میری خاموشیوں کو بھی سمجھے، میرے آنسوؤں کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرے، اور ایک بار مجھ سے یہ پوچھ لے کہ میں کیسی ہوں۔ مگر زندگی کا المیہ یہی رہا کہ سب نے میری موجودگی سے فائدہ اٹھایا، لیکن میری کمی کو کبھی محسوس نہ کیا۔ آج بھی میں اپنے فرائض نبھا رہی ہوں، مگر اب دل پہلے جیسا نہیں رہا۔ اب اندر کہیں ایک تھکن سی بس گئی ہے، ایک خاموش اداسی جو ہر خوشی کے پیچھے چھپی رہتی ہے۔ کیونکہ کچھ لوگ زخم دے کر چلے جاتے ہیں اور کچھ رشتے انسان کو یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ وہ پوری زندگی دوسروں کے لیے جیتا رہا، مگر کبھی اپنے لیے جینا سیکھ ہی نہیں سکا۔ ✍️
caption میرے حصے میں حق تو آیا ہی نہیں، میں تو بس عمر بھر فرض نبھاتی رہ گئی۔ ہر رشتے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے، ہر توقع کو پورا کرنے کی کوشش کرتی رہی، ہر بار خود کو پیچھے رکھ کر دوسروں کو آگے کرتی رہی۔ میں نے اپنے خوابوں کو ملتوی کیا، اپنی خواہشوں کو خاموش کیا، اپنے دکھوں کو دل میں دفن کیا، صرف اس لیے کہ کہیں کسی اپنے کو تکلیف نہ پہنچے۔ مگر افسوس، جن لوگوں کے لیے میں نے اپنی ذات کو نظر انداز کیا، اُنہوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ میرے دل پر کیا گزرتی ہے۔ جس نے چاہا، جیسے چاہا، اپنے طریقے سے مجھے چلایا۔ کسی نے میری محبت کو فرض سمجھ لیا، کسی نے میری خاموشی کو رضامندی، اور کسی نے میری برداشت کو بے حسی کا نام دے دیا۔ میں ہر بار ٹوٹ کر بھی جڑتی رہی، ہر بار رو کر بھی مسکراتی رہی، ہر بار دل زخمی ہونے کے باوجود رشتوں کو بچانے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے محسوس کیا کہ میں دوسروں کی زندگی میں تو بہت اہم ہوں، مگر اپنی ہی زندگی میں کہیں گم ہو چکی ہوں۔ کبھی کبھی دل سوال کرتا ہے کہ کیا میرا کوئی حق نہیں تھا؟ کیا مجھے محبت، توجہ، عزت اور اپنائیت مانگنے کا اختیار نہیں تھا؟ میں نے تو کبھی کسی سے چاند تارے نہیں مانگے تھے، بس اتنا چاہا تھا کہ کوئی میری خاموشیوں کو بھی سمجھے، میرے آنسوؤں کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرے، اور ایک بار مجھ سے یہ پوچھ لے کہ میں کیسی ہوں۔ مگر زندگی کا المیہ یہی رہا کہ سب نے میری موجودگی سے فائدہ اٹھایا، لیکن میری کمی کو کبھی محسوس نہ کیا۔ آج بھی میں اپنے فرائض نبھا رہی ہوں، مگر اب دل پہلے جیسا نہیں رہا۔ اب اندر کہیں ایک تھکن سی بس گئی ہے، ایک خاموش اداسی جو ہر خوشی کے پیچھے چھپی رہتی ہے۔ کیونکہ کچھ لوگ زخم دے کر چلے جاتے ہیں اور کچھ رشتے انسان کو یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ وہ پوری زندگی دوسروں کے لیے جیتا رہا، مگر کبھی اپنے لیے جینا سیکھ ہی نہیں سکا۔ ✍️

About